• علی گڑھ کے ایک گمنام پٹھان شاعرجوش ملی

    علی گڑھ کے ایک گمنام پٹھان شاعر
    جوش ملیح آبادی کی آپ بیتی "یادوں کی برات" سے ایک انتخاب

    وہ اپنے مکان کے چبوترے پر ڈُھکّی لگائے بیٹھے رہتے تھے کہ کوئی شاعر ادھر سے گزرے اور وہ اس کو اپنا کلام سنائیں۔ اور جب کوئی شاعر ان کے ہتے چڑھ جاتا تھا وہ اس کو اپنے کمرے میں لے آتے، بڑی مدارت کرتے اور اپنا کلام سنانے لگتے تھے

    یہاں تک تو کوئی عجیب بات نہیں تھی، ہزاروں شاعروں کو ہَوکا ہوتا ہے اپنا کلام سنانے کا مگر ان میں یہ عجیب بات تھی جب وہ کسی شاعر کو پھانس کر اپنے کمرت میں کے آتے تھے تو ان کا سُدھا ہوا ملازم تینوں تینوں دروازوں میں باہر سے زنجیر لگا دیا کرتا تھا کہ پھنسا ہوا شاعر بھاگ نہ سکے۔ جب باہر سے دروازے بند ہوجاتے تھے تو وہ الماری کھول کر اپنا دیوان نکال لاتے اور غزلیں سنانا شروع کردیا کرتے تھے اور سننے والا جب ان کو داد دیتا تھا تو ہر داد پر، بڑے تحکمانہ انداز سے وہ حکم دیتے تھےکھڑے ہوجائیے اور جب وہ حیرت زدہ ہوکر کھڑا ہوجاتا تھا تو اس کو اس طرح بھینچ کر گلے لگاتے تھے کہ ان کی پسلیاں بولنے لگتی تھیں۔

    زرا تصور کی آنکھوں سے یہ سماں دیکھیۓ کہ گمنام پٹھان شاعر صاحب، اپنا کلام سنارہے ہیں اور سننے والا واہ، واہ، سبحان اللہ کہہ رہا ہے اور اس بیچارے داد دینے والے کو بار بار یہ حکم دیا جارہا ہے "کھڑے ہوجائیے، کھڑے ہوجائیے" اور جب وہ تکھا ماندہ کھڑا ہوجاتا ہے تو اس کو بڑے زور سے گلے لگایا جارہا ہے۔ العظمۃ للہ، کوئی حد بھی اس عذابِ مسلسل کی۔

    اور ایک صاحب نے تو یہاں تک بیان کیا تھا کہ جب بار بار کڑھے ہونے اور ہر بار گلے ملنے سے تھک کر انھوں نے یہ کہا کہ اب مجھ میں بار بار کھڑے ہانے کا دم باقی نہیں رہا ہے تو ان پٹھان شاعر صاحب نے اپنے تنبیہہ الغافلین ڈنڈے کی طرف اشارہ کرکے کہا تھا: اٹھیۓ، نہیں تو اس سے آپ کا سر توڑ دوں گا۔

    نوٹ: لکھنو کے شہر ملیح آباد میں برسوں سے وہ پٹھان آباد ہیں جو کسی وقتوں میں یہاں آکر آباد ہوگیے تھے۔ خود جوش ملیح آبادی بھی اپنے آپ کو آفریدی پٹھان کہتے تھے۔ (جویریہ)

  • What Do You Call A Bug That Bothers Dogs

    What Do You Call A Bug That Bothers Dogs On Halloween? A Trick-Or-Fleat!

  • ایک پاگل کنویں کے کنارے کھڑا “بارہ بارہ”

    ایک پاگل کنویں کے کنارے کھڑا “بارہ بارہ” گن رہا تھا۔ ایک آدمی کو تجسس ہوا اور اس نے پاگل کے پاس آکر کنویں میں جھانک کر دیکھنے کی کوشش کی کہ پاگل کونسی چیز کی گنتی کر رہا ہے۔ جونہی آدمی نے کنویں میں جھانکا، پاگل نے اسے پیچھے سے دھکا دیا اور گننے لگا “تیرہ تیرہ”۔

  • Teacher: You Copies From Freds Exam Pape

    Teacher: You Copies From Freds Exam Paper Didnt You? Pupil: How Did You Know? Teacher: Freds Paper Says "I Dont Know" And You Have Put "Me, Neither"!

  • استاد: جس کو جنت میں جانا ہے ہاتھ اٹھائے

    استاد: جس کو جنت میں جانا ہے ہاتھ اٹھائے؟
    ایک بچے کے علاوہ سب نے ہاتھ اٹھائے

    استاد اسیبچے سے: آپ نے ہاتھ کیوں نہیں اٹھایا؟
    بچہ: میری ممیکہتیہیں سکول سے سیدھے گھر آتے ہیںا

Syndicate content