مقامی آڈیٹوریم میں ایک ڈرامہ سٹیج کیاجا رہا تھا۔ ڈرامے سے اکتا اکتا کر لوگ جا رہ

مقامی آڈیٹوریم میں ایک ڈرامہ سٹیج کیاجا رہا تھا۔ ڈرامے سے اکتا اکتا کر لوگ جا رہے تھے‘ بیچ بیچ میں لوگ فقرے بھی لگا رہے تھے۔ آخر خدا خدا کرکے ڈرامے کے اختتام کا وقت آیا اور ہیرو نے ہیروئن کو غنڈوں کے چنگل سے چھڑایا۔ غنڈوں کو مار بھگانے کے بعد ہیروہیرون کی طرف متوجہ ہوا جو ڈرامے کے اعتبار سے بے ہوش تھی۔ ”طاہرہ …طاہرہ!“ ہیرو ہیروئن کے قریب آ کر بولا۔ ”میری پیاری طاہرہ ! آنکھیں کھولو … دیکھو میں نے سارے غنڈوں کو بھگا دیا ہے۔ اب تم غنڈوں میں گھری طاہرہ نہیں ہو… آنکھیں کھولو۔ دیکھو میں نے سب کو بھگا دیا ہے۔“ کیوں جھوٹ بولتے ہو یار…! ہال سے آواز آئی۔ ”میں ابھی یہاں بیٹھا ہوا ہوں۔

تقریب کے اختتام پر گلوکار شہزاد رائے بچوں کو آٹو گراف دے رہے تھے ۔ ایک بچی نے سو

تقریب کے اختتام پر گلوکار شہزاد رائے بچوں کو آٹو گراف دے رہے تھے ۔ ایک بچی نے سوال پوچھا۔
’’شہزاد بھائی !آپ کا نام شہزاد رائے کیوں ہے؟کیا آپ ہر کسی کو رائے دیتے رہتے ہیں ؟‘‘۔
شہزاد رائے نے جواب دیا ۔’’نہیں بے بی ! بات دراصل یہ ہے کہ میرا صحیح نام شہزاد روئے ’’Roy‘‘ ہے ۔ ‘‘
’’لو بھلا، شہزاد کیوں روئے ، روئے تو و ہ جو شہزاد کا گانا سنے ۔‘‘ بچی نے برجستہ کہا۔