استاد ، شاگرد کے لطیفے

نتیجے کے اعلان کے بعدپہلی لڑکی (روتے

نتیجے کے اعلان کے بعد

پہلی لڑکی (روتے ہوئے): آں! پھر سے اکیانوے فیصد

دوسری لڑکی(روتے ہوئے): تین بار دہرانے کے بعد بھی ترانوے فیصد

تیسری لڑکی (بہت زیادہ روتے ہوئے): میں ترانوے فیصد نمبرز کے ساتھ مما کو کیا منہ دکھاوں گی؟

چوتھی لڑکی (سب سے زیادہ روتے ہوئے): صرف چھیانوے فیصد۔۔کہاں کمی رہ گئی تھی۔۔۔

نتیجے کے بعد لڑکے

پہلا لڑکا:تیرے بھائی نے اس بار فیل ہونے کا سلسلہ ختم کر دیا۔۔۔اس بار پورے چوالیس فیصد۔۔دے تالی

دوسرا لڑکا: پاپا تو ناچ اٹھیں گے جب انھیں پتا چلے گا ان کا بیٹا پاس ہو گیا۔۔

تیسرا لڑکا: وہ تو سر نے نقل کرنے دے دی تو بیالیس فیصد آ گئے ورنہ بینڈ بج گیا تھا جانی۔۔۔

چوتھا لڑکا: تیرا بھائی باڈر کو ہاتھ لگا آیا ہے۔۔پورے تینتیس فیصد۔۔۔نا ایک کم نا ایک زیادہ۔۔جی اوہ شیرا۔۔۔

استاد ﴿شاگرد سے ﴾۔ بتاؤ سورج زیادہ اہ

استاد ﴿شاگرد سے ﴾۔ بتاؤ سورج زیادہ اہم ہے یا چاند۔
شاگرد: سر چاند زیادہ اہم ہے۔
استاد : وہ کیسے؟
شاگرد : سر چاند رات کو نکلتا ہے اور اس طرح رات کے اندھیرے میں روشنی دے کر ہماری رہنمائی کر تا ہے۔ جبکہ سورج تو نکلتا ہی دن میں ہے اس وقت تو ویسے بھی روشنی ہوتی ہے۔

ایک چور اور اس کا شاگرد کسی گھر میں چو

ایک چور اور اس کا شاگرد کسی گھر میں چوری کرنے گئے۔ اچانک استاد کا پاؤں گھر کے مالک کی چارپائی سے ٹکرایا۔ مالک کی آنکھ کھل گئی اوروہ بولا ’’کون ہے؟ ‘‘
چور نے منہ سے بلی کی آواز نکالی ’’میاؤں۔‘‘
کچھ دیر بعد چور کے شاگرد کا پاؤں بھی مالک کی چارپائی سے ٹکرایا۔ مالک کی پھر آنکھ کھل گئی اس نے پوچھا ’’کون ہے‘‘؟
شاگرد کو بلی کی آواز نکالنا نہیں آتی تھی اس لیے وہ بولا ’’دوسری بلی‘‘۔