ایک سردار پہاڑ کی سیر کو گیا، اس کے سر

ایک سردار پہاڑ کی سیر کو گیا، اس کے سر میں سمائی کہ پہاڑ کی چوٹی تک پہنچا جائے۔ چڑھائی چڑھتے چڑھتے اس کا پائوں پھسل گیااور وہ نیچے لڑھکنے لگا۔اچانک اس کا ہاتھ ایک جھاڑی پر پڑا اور وہ اسے دبوچ کر لٹک گیا۔ نیچے نگاہ دوڑائی تو ہزاروں فٹ گہرائی! بہت دیر پریشانی کے عالم میں لٹکا آوازیں دیتا رہا مگر وہاں کوئی ہوتا تو اس کی آوازیں سنتا، اچانک اس کے دل میں آئی کہ واہِ گرو میرا آخری سہارا ہے۔ اس کو یاد کرتے ہیں، اس نے نہایت خشوع و خضوع سے واہِ گرو کو یاد کیا کہ میں نے زندگی بھر بہت گناہ کئے ہیں مگر اس وقت موت کے چنگل میں پھنسا ہوں، مجھے بچالے ، وہ دعا مانگ رہا تھا کہ اچانک ایک آوازگونجی۔
“جھاڑی کو ہاتھ سے چھوڑ دے“
جھاڑی سے لٹکا ہوا سردارآواز سن کر بہت پریشان ہوا، کہنے لگا “ میں ہاتھ کیسے چھوڑ دوں .......... ہزاروں فٹ گہری کھائی ہے، نیچے گرا تو مرجائو گا!“
اوپر سے پھر آواز آئی
“جب تو مدد مانگ رہا ہے تو پھر جو کہا جارہا ہے، اس پر عمل کر“
سردار نے چند لمحے غور کیا اور پھر چلا کر بولا
“ ایتھےکوئی اور ہے ؟جہڑا میری مدد نوں آوے !!“