ایک سید نے اپنے بیٹے کی شادی کا انتظام

ایک سید نے اپنے بیٹے کی شادی کا انتظام کیا۔ سید صاحب کو مذاق سوجھا۔ ہدایت کر دی کہ میراثی کو کھانے کے لیے کچھ نہ دیا جائے۔ اور مانگے تو میرے پاس بھیج دینا۔ میراثی کو کھانے میں کچھ نہ ملا تو خود ہی ان کے پاس پہنچا۔ سید صاحب بولے۔
میاں دیکھو حشر کے دن تو ہمارا ہی دامن تھام کر گزرنا ہے حشر میں بخشش مقصود ہے تو یہاں کھانا نہ مانگو۔
میراثی کہاں چپ رہنے والا تھا بولا شاہ صاحب بارات کن لوگوں کے گھر جانی ہے۔
انہوں نے کہا۔
بڑے شاہ صاحب کے گھر۔
میراثی بولا تو بخشش ان سے کروا لیں گے کھانا آپ کھلا دیں۔

Rate This Joke
Average: 1 (1 vote)
Urdu-Jokes