ایک لڑکے کی شادی ہونے والی ہوتی ہےتو وہ

ایک لڑکے کی شادی ہونے والی ہوتی ہےتو وہ سوچتاہے کہ کسی سے "شادی شدہ زندگی کے سنہری اصول" حاصل کئے جائیں۔
اس کے پڑوس میں دو خاندان آبادہ ہوتے ہیں۔ دائیں والے گھر "شوہر" کی اجارہ داری ہوتی ہے۔ اور بائیں والے گھر میں "بیوی" کاڈنکابجتاہے۔کافی سوچ بچار کے بعد وہ دائیں طرف والے گھر سے سنہری اصول حاصل کرنے کافیصلہ کرتاہے۔ وہاں اسے بتایاجاتاہے کہ بیوی کوکنٹرول کرنے کاسب سے پہلااصول ہے "فرسٹ امپریشن از لاسٹ امرپریشن"اس لئے اسکے لئے لازم ہے کہ وہ اول وقت سے ہی اپنی دھاک جمانے کی کوشش کرے۔
خیر شادی ہوتی ہے۔ واپسی میں راستے میں اچانک ایک بلی راستہ کاٹنے کی کوشش کرتی ہے۔ دولہے میاں کو سخت "غصہ" آتاہے اور میان سے تلوار نکال کر بلی کے دو ٹکڑے کرتے ہیں{ظاہر ہے بیوی کو ڈرنا ہی تھا کہ شوہر اتنا غصہ ور ہے}۔ قافلہ اور آگے بڑھتاہے۔ ہواکے چلنے کی وجہ سے دلہن جس پالکی میں بیٹھی ہوتی ہے اس کاپردہ بار بار اڑرہاہوتاہے ۔ دولہے میاں فوراً میان سے تلوار نکالتے ہیں اور پردہ کاٹ ڈالتے ہیں۔
خیر کسی طرح قافلہ گھر پہنچتاہے۔تمام رسوم کے اداہونے کے بعد جب دولہاکمرے کے اندر جاتاہے تو کیادیکھتاہے کہ دلہن پاوں نیچے لٹکائے بیٹھی ہے۔ دولہے میاں کو بڑاغصہ آتاہے ،ڈپٹ کرپوچھتے ہیں کہ ایسے کیوں بیٹھی ہو۔ جواب ملتاہے: میری جوتی اتاروگی تب تو اوپربیٹھوں گی

Share this