ایک پاگل ھر وقت ایک ھی بات کی رٹ لگاتا ر

ایک پاگل ھر وقت ایک ھی بات کی رٹ لگاتا رھتا تھا۔ کہ
غلیل بناؤں گا اور چڑیاں ماروں گا۔
غلیل بناؤں گا اور چڑیاں ماروں گا۔
غلیل بناؤں گا اور چڑیاں ماروں گا۔
غلیل بناؤں گا اور چڑیاں ماروں گا۔
اسکے گھر والوں نے اسے پاگل خانے میں داخل کروا دیا۔ کافی عرصہ علاج ھوتا رھا آخر کار وہ ٹھیک ھوگیا۔ اسے چھٹی دیتے وقت ڈاکٹر نے اس سے پوچھا۔ اپ تم چھٹی کے بعد کیا کرو گے۔ پاگل نے جواب دیا۔ کسی دوست سے تھوڑی رقم ادھار لے کر کاروبار کروں گا۔ جب کاروبار چل پڑے گا تو پھر شادی کروں گا۔ پھر بچے ھوں گے تو ان کے کپڑے خریدوں گا۔ جب ان کپڑے پرانے ھوجایا کریں گے تو ان کے نیکر میں سے الاسٹک نکال کر اسکی
غلیل بناؤں گا اور چڑیاں ماروں گا۔