باس کے لطیفے

warning: Creating default object from empty value in /home/freeurdujokes/public_html/modules/taxonomy/taxonomy.pages.inc on line 33.
اس سیکشن میں باس کے دلچسپ لطیفے شامل ہیں

پولیس کی بھرتی ہو رہی تھی ایک امیدوار

پولیس کی بھرتی ہو رہی تھی ایک امیدوار سے افسر نے پوچھا۔
مجمع کو منتشر کرنا ہو تو کیا کرو گے۔
امیدوار نے جواب دیا۔
میں چندہ جمع کرنا شروع کر دوں گا۔

محکمہ نہر کے ایک سرکاری افسر نے ایک شخ

محکمہ نہر کے ایک سرکاری افسر نے ایک شخص کو نہر میں ڈبکیاں کھاتے دیکھا۔ تمہیں معلوم ہے یہاں تیرنا یا نہانا منع ہے۔ افسر نے کہا
ڈبکیاں کھاتا ہو اشخص بولا جناب لیکن . میں تو . ڈوب رہا ہوں۔
اچھا تو پھر ٹھیک ہے یہ کہہ کر افسر آگے بڑھ گیا۔

فوجی افسر: تم نے بیس کارتوس ضائع کیے آ

فوجی افسر: تم نے بیس کارتوس ضائع کیے آخر تمہاری گولی ٹارگٹ پر کیوں نہیں لگتی۔
کیڈٹ: حضور میں کیا کر سکتا ہوں۔ یہاں سے تو ٹھیک جاتی ہے۔

ریلوے اسٹیشن ماسٹر نے اپنے ایک افسر

ریلوے اسٹیشن ماسٹر نے اپنے ایک افسر سے کہا جناب یہ گوالا ریلوے پر اپنی بھینسوں کی وجہ سے مقدمہ دائر کرنے والا ہے۔
گویا ہماری ٹرینیں بہت تیز چلتی ہیں اور اس کی بھینسیں ریلوے لائن پر گرکر مر جاتی ہیں۔
جی نہیں۔ اسٹیشن ماسٹر نے جواب دیا ہماری ٹرینیں اتنی سست چلتی ہیں کہ لوگ چلتی گاڑی سے اتر جاتے ہیں اس کی بھینسوں کا دودھ دوہتے ہیں اور پھر واپس ٹرین میں چڑھ میں جاتے ہیں۔

چند رنگروٹ پہلی بار جنگی مشقوں میں حصہ

چند رنگروٹ پہلی بار جنگی مشقوں میں حصہ لے رہے تھے ان سے کہا گیا کہ وہ مقامی ریلوے اسٹیشن کو اس طریقہ سے بیکار کر دیں کہ اسٹیشن کام نہ کر سکے۔
ان کے افسر نے پوچھا۔
کیا تم نے ریلوے اسٹیشن کو بم سے اڑا دیا ہے؟
ان رنگروٹوں نے جواب دیا۔
نہیں جناب! ہم سارے ٹکٹ بوری میں ڈال کر لے آئے ہیں۔

Syndicate content