باس کے لطیفے

اس سیکشن میں باس کے دلچسپ لطیفے شامل ہیں

محکمہ نہر کے ایک سرکاری افسر نے ایک شخ

محکمہ نہر کے ایک سرکاری افسر نے ایک شخص کو نہر میں ڈبکیاں کھاتے دیکھا۔ تمہیں معلوم ہے یہاں تیرنا یا نہانا منع ہے۔ افسر نے کہا
ڈبکیاں کھاتا ہو اشخص بولا جناب لیکن . میں تو . ڈوب رہا ہوں۔
اچھا تو پھر ٹھیک ہے یہ کہہ کر افسر آگے بڑھ گیا۔

ریلوے اسٹیشن ماسٹر نے اپنے ایک افسر

ریلوے اسٹیشن ماسٹر نے اپنے ایک افسر سے کہا جناب یہ گوالا ریلوے پر اپنی بھینسوں کی وجہ سے مقدمہ دائر کرنے والا ہے۔
گویا ہماری ٹرینیں بہت تیز چلتی ہیں اور اس کی بھینسیں ریلوے لائن پر گرکر مر جاتی ہیں۔
جی نہیں۔ اسٹیشن ماسٹر نے جواب دیا ہماری ٹرینیں اتنی سست چلتی ہیں کہ لوگ چلتی گاڑی سے اتر جاتے ہیں اس کی بھینسوں کا دودھ دوہتے ہیں اور پھر واپس ٹرین میں چڑھ میں جاتے ہیں۔

چند رنگروٹ پہلی بار جنگی مشقوں میں حصہ

چند رنگروٹ پہلی بار جنگی مشقوں میں حصہ لے رہے تھے ان سے کہا گیا کہ وہ مقامی ریلوے اسٹیشن کو اس طریقہ سے بیکار کر دیں کہ اسٹیشن کام نہ کر سکے۔
ان کے افسر نے پوچھا۔
کیا تم نے ریلوے اسٹیشن کو بم سے اڑا دیا ہے؟
ان رنگروٹوں نے جواب دیا۔
نہیں جناب! ہم سارے ٹکٹ بوری میں ڈال کر لے آئے ہیں۔

ہوائی فوج کے نوجوان باری بارپیراشوٹ با

ہوائی فوج کے نوجوان باری بارپیراشوٹ باندھ کر ہوائی جہاز سے کودنے کی مشق کر رہے تھے۔ جب آخری نوجوان آیا تو افسر بولا۔
’’ٹھہرو! تم نے پیراشوٹ نہیں باندھا۔‘‘
نوجوان بولا۔ ’’کوئی بات نہیں جناب! مشق ہی تو ہے۔‘‘

پولیس افسر نے راستہ کاٹ کر گاڑی کو روک

پولیس افسر نے راستہ کاٹ کر گاڑی کو روکا اور اس کی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے ہوئے نوجوان سے غراتے ہوئے پوچھا۔
’’تمہاری تیز رفتاری پر میں نے چیخ کر تمہیں رکنے کا حکم دیا تو تم کیوں نہیں رکے؟‘‘
’’میں معذرت چاہتا ہوں جناب‘‘ ڈرائیور نے ندامت سے کہا۔
’’مجھے اندازہ نہیں ہو سکا کہ کوئی پولیس افسر مجھے روک رہا ہے۔ میں سمجھا کہ کوئی میری گاڑی کے نیچے کچل کر چیخا ہے اس وجہ سے میں نے رکنے کی ضرورت محسوس نہیں کی،‘‘

ایک افسر نے ایک سپاہی کی بہادری جانچنے

ایک افسر نے ایک سپاہی کی بہادری جانچنے کے لیے اچانک اس کے کاندھے پر بندوق رکھ کر فائر کر دیا۔ وہ سپاہی جوں کا توں کھڑا رہا۔
افسر نے خوش ہو کر کہا۔ ’’ہم تم بہادری اسے خوش ہوئے ہیں۔ اسی خوشی میں لو ہمارا کوٹ انعام میں۔
سپاہی نے کہا۔ ’’مگر مجھے کوٹ کی نہیں پتلون کی ضرورت ہے‘‘
افسر نے حیرت سے پوچھا۔ ’’پتلون کی ! مگر کیوں؟
سپاہی نے جواب دیا۔ ’’کیونکہ آپ کے فائر سے میری پتلون خراب ہو گئی ہے۔

نزاکت بھٹی نیا نیا سیڈ کارپوریشن کا اف

نزاکت بھٹی نیا نیا سیڈ کارپوریشن کا افسر اعلا بنا تھا۔ اس کی ڈیوٹی تھی کہ اخباروں میں بیجوںاور کارپوریشن کے حوالے سے جتنی خبریں آئیں سب کو فائل کی صورت میں منیجنگ ڈائریکٹر کو پیش کرے۔ پہلے دن جو فائل پیش کی گئی اس کی پہلی خبر تھی۔
’’روس افغانستان میں نفرت کے بیج بونے کی کوشش کر رہا ہے‘‘۔

کرفیو کے دوران افسر نے ایک سپاھی کی ڈیوٹ

کرفیو کے دوران افسر نے ایک سپاھی کی ڈیوٹی لگائی کہ جو بھی شام سات بجے کے بعد یہاں نظر آئے اسے گولی مار دو۔
چند منٹ بعد ھی گولی چلنے کی آواز آئی۔
افسر بھاگ کے باھر گیا اور اس سے پوچھا اس کو گولی کیوں مار دی ابھی تو پانچ بجے ھیں۔
سپاھی نے جواب دیا : جناب یہ ایک عجیب سا ایڈریس پوچھ رھا تھا جو اسے رات بارہ بجے تک بھی نہیں ملنا تھا۔