باپ ، بیٹا کے لطیفے

warning: Creating default object from empty value in /home/freeurdujokes/public_html/modules/taxonomy/taxonomy.pages.inc on line 33.

بیٹا ﴿باپ سے﴾ ابو ! آج مجھے اسکول میں

بیٹا ﴿باپ سے﴾ ابو ! آج مجھے اسکول میں بہت سخت سزا ملی۔
باپ ﴿حیرت سے﴾ وہ کیوں؟
بیٹا : آج میں اسکول میں لیٹ گیا تھا۔
باپ:﴿ غصے سے ﴾ نالائق کہیں کے! میں تمہیں سکول پڑھنے کے لیے بھیجتا ہوں یا لیٹنے کے لیے۔

باپ﴿ بیٹے سے﴾ : بیٹا تم نے نانا کے خط

باپ﴿ بیٹے سے﴾ : بیٹا تم نے نانا کے خط کا جواب کیوں نہیں دیا؟
بیٹا : ابو آپ نے ہی تو کہا تھا کہ بڑوں کو جواب نہیں دیا کرتے‘‘۔

باپ ﴿بیٹے سے﴾ تم آج سکول سے بھاگ کر آئ

باپ ﴿بیٹے سے﴾ تم آج سکول سے بھاگ کر آئے ہو؟
بیٹا: نہیں ابو میں تو آہستہ آہستہ چل کر آیا ہوں۔

ایک کنجوس وکیل اپنے بیٹے سے : بیٹا میر

ایک کنجوس وکیل اپنے بیٹے سے : بیٹا میری دلی خواہش ہے کہ تم وکیل بنو۔
بیٹا : وہ کیوں؟
باپ : تاکہ میرا کالا کوٹ تمہارے کام آ جائے۔

بیٹا: (باپ سے)ابو جان آپ لمبے ہوتے جارہے

بیٹا: (باپ سے)ابو جان آپ لمبے ہوتے جارہے ہیں۔
باپ: تمہیں کیسے پتا چلا؟
بیٹا: آپ کا سر بالوں سے نکلتا آ رہا ہے۔

Syndicate content