باپ ، بیٹا کے لطیفے

بیٹا ﴿باپ سے﴾ ابو ! آج مجھے اسکول میں

بیٹا ﴿باپ سے﴾ ابو ! آج مجھے اسکول میں بہت سخت سزا ملی۔
باپ ﴿حیرت سے﴾ وہ کیوں؟
بیٹا : آج میں اسکول میں لیٹ گیا تھا۔
باپ:﴿ غصے سے ﴾ نالائق کہیں کے! میں تمہیں سکول پڑھنے کے لیے بھیجتا ہوں یا لیٹنے کے لیے۔

ایک امریکن اور ایک انڈین ایک امریکن بار

ایک امریکن اور ایک انڈین ایک امریکن بار میں بیٹھے جام پر جام انڈھیل رہے تھے۔ انڈین آدمی نے امریکن سے کہا،"تم جانتے ہو میرا گھر والوں زبردستی میری شادی ایک فرسودہ خیالات والی گھریلو لڑکی سے کرنا چاہتے ہیں۔ جس سے نہ میں نے کبھی بات کی نہ کبھی ملا۔ ہم اسے "ارینجنڈ میرج" کہتے ہیں۔ میں نے بھی صاف صاف کہہ دیا کہ میں اس لڑکی سے کبھی بھی شادی نہیں کروں گا جسے میں جانتا نہیں جیسے میں پیار نہیں کرتا۔اور اب میرا باپ میرے لیے پریشانیاں کھڑی کر رہا ہے۔ میں بہت خاندانی میں گھر گیا ہوں"۔

امریکن نے اس کے جواب میں کہا۔"لو میرج کے بارے کیا کہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔چلو دوست تمہیں اپنی
کہانی سناتا ہوں۔"مجھے ایک بیوہ سے پیوہ سے پیار ہو گیا۔ تین سال کے پیار کے بعد میں نے اس سے شادی کر لی۔اس بیوہ کی پہلے شوہر سے ایک لڑکی تھی جس سے دو سال بعد میرے باپ کو پیار ہو گیا اور میرے باپ نے اس کے ساتھ شادی کر لی۔اس طرح میں اپنے باپ کا سسر بن گیا اور میں اس کا بیٹا بھی تھا۔ اور میری بیٹی میری ہی ماں بن گئی اور میری بیوی میری نانی۔

اور مزید معاملہ تو تب خراب ہوا جب میرے گھر ایک لڑکا پیدا ہوا۔ میرابیٹا میرے باپ کا سالا بھی ہے اور پوتا بھی۔ اور اس وقت تو صورتحال اور ہی بگڑ گئی جب میرے باپ کے گھر بیٹا پیدا ہوا۔ اب میرے باپ کا بیٹا یعنی میرا بھائی میرا پوتا ہے۔ جس کےنتیجہ یہ نکلا کہ میں خود اپنا ہی دادا ہوں اور اپنا ہی پوتا بھی ہوں۔

اور تم کہتے ہو کہ تمہیں خاندانی مسائل کا سامنا ہے۔

بیٹا: ابو جب آپ امتحان میں فیل ہوئے تھے

بیٹا: ابو جب آپ امتحان میں فیل ہوئے تھے تو آپ کے ابو نے کیا کیا تھا۔
باپ: انھوں نے مجھے خوب مارا تھا۔

بیٹا: اور جب وہ فیل ہوئے تھے؟

باپ: تو ان کے ابو نے انھیں خوب مارا تھا۔

بیٹا: اور جب وہ امتحان میں فیل ہوئے تھے تو؟

باپ: (چونک کر) بات کیا ہے۔ تم چاہتے کیا ہو؟

بیٹا:میں چاہتا ہوں... آپ اس خاندانی دشمنی کے سلسلے کو ختم کر دیں۔

ایک لڑکی جو اپنے والدین سے دور پردیس میں

ایک لڑکی جو اپنے والدین سے دور پردیس میں پڑھائی کر رہی تھی۔ اس نے اپنے والدین کو ایک خط لکھا۔

کہ ممی پاپا میں جلد از جلد آپ کے پاس آنا چاہتی ہوں۔ لیکن لگتا نہیں ہے کہ میں جلد آپ کے پاس واپس آ سکوں گی۔ اور جب میں آپ کے پاس واپس آئوں گی تو آپ دونوں بوڑھے ہوں چکے ہوں گے۔

اس نے میں نے ایک دوائی ایجاز کی ہے جس سے آپ اپنی عمر سے چھوٹے ہوں جائیں گے۔ لیکن آپ صرف ایک ہی قطرہ پئیں گے۔

خط کے ساتھ ایک بوتل تھی جس میں سیال تھا۔ پہلے مرد نے ایک قطرہ پیا۔ تو وہ اپنی عمر سے 5 سال کم نظر آنے لگا۔ اس کے بعد عورت نے بھی سیال پی لیا۔

پانچ سال کے بعد جب لڑکی واپس آئی تو اس نے دیکھا کہ اس کے والد نے ایک شیر خوار بچی کو گود میں لے رکھا ہے۔ لڑکے نے اپنے باپ کو ملنے کے بعد سوال کیا کہ ممی کدھر ہے۔

اس کے باپ نےکہا بیٹا جب تمہارا خط آیا تھا تو میں نے پہلا ایک قطرہ پیا۔ جیسے پی پر میں زیادہ جوان نظر آنے لگا۔ تمہارے ماں نے ایک قطرہ پیا اور وہ بھی جواب ہو گی۔ لیکن مطمعن نہ ہوئی اور ساری بوتل پی گئی۔

تو پھر ممی کدھر ہیں۔
یہ تو میری گود میں ہے تمہاری ممی ہے۔

یونیورسٹی میں داخلے کا فارم پُر کرتے ہوئ

یونیورسٹی میں داخلے کا فارم پُر کرتے ہوئے میرا بیٹا ایک سوال پر ہچکچاہٹ کا شکار ہو گیا
سوال کے جواب میں اُسے بتانا تھا کہ وہ گھر میں کس طرح رہتا ہے۔جواب کے طور پر تین انتخابات دیے گئے تھے کہ''انتہائی صاف ستھرا''، ''زیادہ صفائی ستھرائی سے نہیں'' اور ''فری اسٹائل''
باپ نے کہا:جس طرح تم اپنا کمرہ رکھتے ہو اُسے دیکھ کر تو تمھیں فری اسٹائل پر نشان لگانا چاہیے
آپ درست کہہ رہے ہیں لیکن میں سوچ رہا ہوں کہ اگر میرا روم میٹ مجھے میری ہی طرح کا مل گیا رو فرش پر میری چیزون کے لئے تو جگہ بالکل بھی نہیں رہے گی