بچوں کے لطیفے

بچوں کے لطیفے

بحری جہاز میں ایک ملازم کھڑا لوگوں کو

بحری جہاز میں ایک ملازم کھڑا لوگوں کو بتا رہا تھا کہ فرسٹ کلاس کدھر ہے اور سکینڈ کلاس کدھر ہے؟
ایک عورت بچہ اٹھائے ہوئے داخل ہوئی ، ملازم نے جلدی سے پوچھا، فرسٹ یا سکینڈ؟ عورت نے شرما کر جواب دیا. تیسرا۔

ایک دولت مند عورت کی ایک نئی سہیلی پہل

ایک دولت مند عورت کی ایک نئی سہیلی پہلی بار اس کی شاندار کوٹھی میں آئی۔ دیر تک وہ حیرت سے یہ ماجرا دیکھتی رہی کہ دولت مند عورت کا بچہ نہایت اطمینان کے ساتھ ڈرائنگ روم کے قیمتی فرنیچر میں کیلیں ٹھونک رہا ہے۔ مہمان خاتون سے رہا نہ گیا تو اس نے دولت مند عورت سے کہا۔
کیا آپ کے بچے کا کھیل آپ کے لیے مہنگا نہیں ہوگا۔
دولت مند عورت نے جواب دیا۔ نہیں۔ ہم نے کیلیں تھوک کے بھاؤ سے منگوا لیتے ہیں۔

ایک دفعہ ایک چھوٹا جن ایک بچے کے پاس آ

ایک دفعہ ایک چھوٹا جن ایک بچے کے پاس آیا اور اسے ڈرانے لگا۔ بچے نے معصومیت سے پوچھا تم کون ہو؟
میں جن کابچہ ہوں۔
بچے نے فوراً جواب دیا۔ اچھا تو ریڈیو پرتمہارا ہی اعلان ہو رہا تھا کہ ’’جن کا بچہ‘‘ ہے آ کر لے جائیں۔

ایک دفعہ کسی بچے کی والدہ محترمہ کے ہا

ایک دفعہ کسی بچے کی والدہ محترمہ کے ہاتھ سے مٹھائی کا ڈبہ گر گیا۔ بچہ پاس ہی کھڑا تھا۔ماں مٹھائی اٹھانے کی خاطر ذرا جھکی تو اس کا پاؤں مٹھائی پر آگیا۔ بچہ اٹھانے کے لیے بڑھا تو ماں نے اسے سختی سے ڈانٹا کہ مٹھائی پر اس کا پاؤں آگیا تھا۔
بچہ بڑے اطمینان سے بولا۔
’’کوئی بات نہیں ماں کے قدموں تلے تو جنت ہوتی ہے۔‘‘

ایک مینڈک کا بچہ باہر سیر و تفریح کے ل

ایک مینڈک کا بچہ باہر سیر و تفریح کے لیے نکلا راستے میں لوگوں کا ایک گروپ حوروں کے متعلق بحث کر رہا تھا۔ جب مینڈک کا بچہ گھر واپس آیا تو اپنی ماں سے پوچھنے لگا۔
ماں حور کیا چیز ہوتی ہے۔
مینڈکی نے آس پاس دیکھااور چپکے سے کہنے لگی بیٹے! لوگوں کو مجھ پر شک ہے۔

ایک خاتون کے دس بچے تھے وہ سب کو ایک ر

ایک خاتون کے دس بچے تھے وہ سب کو ایک رنگ کے کپڑے پہناتی تھی۔
اس کی سہیلی نے اس سے اس کی وجہ پوچھی تو اس نے بتایا کہ
جب ہمارے دو بچے تھے تو ہم انہیں ایک رنگ کے کپڑے اس لیے پہناتے تھے۔ کہ کہیں وہ گم نہ ہو جائیں اور اب ہمارے دس بچے ہیں ہم انہیں اس لیے ایک جیسے کپڑے پہناتے ہیں کہ کوئی دوسرا بچہ ان میں گم نہ ہو جائے۔

مردم شماری کے انسپکٹر نے پریشان ہو کر

مردم شماری کے انسپکٹر نے پریشان ہو کر کہا،
محترمہ ! یہ بات میری سمجھ میں نہیں آئی کہ آپ کا ایک بچہ دو برس کا ہے اور دوسرا چار برس کا اور پھر آپ یہ کہتی ہیں کہ آپ کے شوہر پانچ سال ہوئے انتقال کر گئے۔ عورت نے جواب دیا ’’ہاں مگر میں تو زندہ ہوں‘‘۔

استاد اتفاق کے مسئلے پر گفتگو کر رہے ت

استاد اتفاق کے مسئلے پر گفتگو کر رہے تھے۔ جب انہیں یقین ہو گیا کہ بچے ان کی بات سمجھ چکے ہیں تو انہوں نے سوال کیا: کیا تم میں سے کوئی اتفاق کے بارے میں مثال دے سکتا ہے؟
ایک بچہ بولا: جی ہاں آپ کو حیرت ہو گی کہ میرے ابو اور امی کی شادی اتفاق سے ایک ہی دن ہوئی۔

٭ایک بچہ رو رہاتھا۔ ۔ باپ نے رونے کا س

٭
ایک بچہ رو رہاتھا۔ ۔ باپ نے رونے کا سبب پوچھا تو بولا : ’’ایک روپیہ دیں تو بتاؤںگا‘‘
باپ نے جلدی سے روپیہ دیا اور کہا ’’بتاؤ کیوں رو رہے تھے؟ ‘‘
’’اس روپے کے لیے ہی رو رہا تھا‘‘ بیٹے نے چپ ہوتے ہوئے جواب دیا۔