بچوں کے لطیفے

warning: Creating default object from empty value in /home/freeurdujokes/public_html/modules/taxonomy/taxonomy.pages.inc on line 33.
بچوں کے لطیفے

بحری جہاز میں ایک ملازم کھڑا لوگوں کو

بحری جہاز میں ایک ملازم کھڑا لوگوں کو بتا رہا تھا کہ فرسٹ کلاس کدھر ہے اور سکینڈ کلاس کدھر ہے؟
ایک عورت بچہ اٹھائے ہوئے داخل ہوئی ، ملازم نے جلدی سے پوچھا، فرسٹ یا سکینڈ؟ عورت نے شرما کر جواب دیا. تیسرا۔

ایک بچہ دوسرے سے۔ تم بڑے ہو کر کیا بنو

ایک بچہ دوسرے سے۔ تم بڑے ہو کر کیا بنو گے۔
دوسرا بچہ۔ میں مریض بن کر ڈاکٹروں کی خدمت کروں گا۔

ایک دولت مند عورت کی ایک نئی سہیلی پہل

ایک دولت مند عورت کی ایک نئی سہیلی پہلی بار اس کی شاندار کوٹھی میں آئی۔ دیر تک وہ حیرت سے یہ ماجرا دیکھتی رہی کہ دولت مند عورت کا بچہ نہایت اطمینان کے ساتھ ڈرائنگ روم کے قیمتی فرنیچر میں کیلیں ٹھونک رہا ہے۔ مہمان خاتون سے رہا نہ گیا تو اس نے دولت مند عورت سے کہا۔
کیا آپ کے بچے کا کھیل آپ کے لیے مہنگا نہیں ہوگا۔
دولت مند عورت نے جواب دیا۔ نہیں۔ ہم نے کیلیں تھوک کے بھاؤ سے منگوا لیتے ہیں۔

ایک دفعہ ایک چھوٹا جن ایک بچے کے پاس آ

ایک دفعہ ایک چھوٹا جن ایک بچے کے پاس آیا اور اسے ڈرانے لگا۔ بچے نے معصومیت سے پوچھا تم کون ہو؟
میں جن کابچہ ہوں۔
بچے نے فوراً جواب دیا۔ اچھا تو ریڈیو پرتمہارا ہی اعلان ہو رہا تھا کہ ’’جن کا بچہ‘‘ ہے آ کر لے جائیں۔

ایک دفعہ کسی بچے کی والدہ محترمہ کے ہا

ایک دفعہ کسی بچے کی والدہ محترمہ کے ہاتھ سے مٹھائی کا ڈبہ گر گیا۔ بچہ پاس ہی کھڑا تھا۔ماں مٹھائی اٹھانے کی خاطر ذرا جھکی تو اس کا پاؤں مٹھائی پر آگیا۔ بچہ اٹھانے کے لیے بڑھا تو ماں نے اسے سختی سے ڈانٹا کہ مٹھائی پر اس کا پاؤں آگیا تھا۔
بچہ بڑے اطمینان سے بولا۔
’’کوئی بات نہیں ماں کے قدموں تلے تو جنت ہوتی ہے۔‘‘

Syndicate content