جوک

ایک انجینئر کو نوکری نہ ملی تو اس نے کلی

ایک انجینئر کو نوکری نہ ملی تو اس نے کلینک کھولا اور باہر لکھا 300 میں علاج کریں علاج نہ ہوا تو 1000 واپس۔
ایک آدمی نے سوچا کہ 1000 کمانے کا اچھا موقع ہے، وہ کلینک آیا اور کہا مجھے کسی بھی چیز کا ذائقہ نہیں آتا۔
ڈاکٹر: بکس 22 سے دوا نکالو اور اسکو 3 قطرے پلاؤ، نرس نے پلا دیئے۔
مریض: یہ کیا، یہ تو پٹرول ہے۔
ڈاکٹر: مبارک ہو، آپ کو ذائقہ محسوس ہوگیا لاؤ 300 روپے۔
مریض کو غصہ آیا کچھ دن بعد وہ پھر گیا کہ اب ڈاکٹر سے پُرانے پیسے بھی واپس لینے ہے۔
مریض: ڈاکٹر صاحب میری یاداشت کام نہیں کرتی۔
ڈاکٹر: بکس 22 سے دوا نکالو اور اسکو 3 قطرے پلاؤ۔
مریض: لیکن وہ دوا تو زبان کے ذائقے کے لئے ہے۔
ڈاکٹر: مبارک ہو، آپ کی یاداشت بھی واپس آگئی لاؤ 300 روپے۔

ایک چرواہا اپنا ریوڑ لے کر جا رہا تھا کہ

ایک چرواہا اپنا ریوڑ لے کر جا رہا تھا کہ ایک آدمی کا ادھر سے گزر ہوا۔
کہنے لگا اگر میں بتا دوں کہ یہ کتنی بھڑیں ہیں تو کیا میں ایک بھیڑ لے سکتا ہوں۔
چرواہا بولا چلو تمہاری بات مان لیتا ہوں۔
وہ آدمی فوراً بولا یہ 381 بھیڑیں ہیں۔ اور جلدی سے ایک بھیڑ اٹھا کر گردن پر رکھ لی۔
چرواہا بولا اگر میں بتا دوں تم کون ہو تو یہ واپس کر دو گے؟
وہ بولا “ ہاں “
چرواہا کہنے لگا تم فلسفی ہو۔
تم نے کیسے پہچانا، فلسفی نے پوچھا۔
چرواہا بولا “ پہلے یہ کتا نیچے رکھو پھر بتاتا ہوں۔

نتیجے کے اعلان کے بعدپہلی لڑکی (روتے

نتیجے کے اعلان کے بعد

پہلی لڑکی (روتے ہوئے): آں! پھر سے اکیانوے فیصد

دوسری لڑکی(روتے ہوئے): تین بار دہرانے کے بعد بھی ترانوے فیصد

تیسری لڑکی (بہت زیادہ روتے ہوئے): میں ترانوے فیصد نمبرز کے ساتھ مما کو کیا منہ دکھاوں گی؟

چوتھی لڑکی (سب سے زیادہ روتے ہوئے): صرف چھیانوے فیصد۔۔کہاں کمی رہ گئی تھی۔۔۔

نتیجے کے بعد لڑکے

پہلا لڑکا:تیرے بھائی نے اس بار فیل ہونے کا سلسلہ ختم کر دیا۔۔۔اس بار پورے چوالیس فیصد۔۔دے تالی

دوسرا لڑکا: پاپا تو ناچ اٹھیں گے جب انھیں پتا چلے گا ان کا بیٹا پاس ہو گیا۔۔

تیسرا لڑکا: وہ تو سر نے نقل کرنے دے دی تو بیالیس فیصد آ گئے ورنہ بینڈ بج گیا تھا جانی۔۔۔

چوتھا لڑکا: تیرا بھائی باڈر کو ہاتھ لگا آیا ہے۔۔پورے تینتیس فیصد۔۔۔نا ایک کم نا ایک زیادہ۔۔جی اوہ شیرا۔۔۔

ایک بہت ہی عیار اور مکار مجرم کو گرفتار

ایک بہت ہی عیار اور مکار مجرم کو گرفتار کرنے پر انسپکٹر شہباز کو انعام دیتے ھوئے ڈی آئی جی صاحب نے پوچھا :
" انسپکٹر تمہیں کیسے پتا چلا کہ عورت کے بھیس میں وہ مجرم مرد ھے ؟"

انسپکٹر نے سادگی سے جواب دیا : " سر ! مجرم وغیرہ تو مجھے پتا نہیں تھا ۔ ۔ ۔ مجھے تو وہ عورت ہی لگی تھی لیکن ذرا مشکوک دکھائی دے رہی تھی ۔ میں نے اس کا پیچھا شروع کر دیا ۔ وہ ایک اپارٹمنٹ میں گھس کر چیزیں دیکھنے لگی ۔ وہاں بہت سے آئینے بھی لگے ھوئے تھے ۔ جب وہ کسی آئینے کے سامنے نہیں رُکی تب میں سمجھ گیا کہ وہ عورت نہیں ھے ۔۔ "