حفیظ صاحب اپنے بقول ساتویں جماعت سے بھاگ

حفیظ صاحب اپنے بقول ساتویں جماعت سے بھاگے ہوئے تھے۔ انگریزی جتنی سیکھی تھی زندگی اور انگریز بیوی سے سیکھی تھی۔ انگریزی ناول بہت پڑھتے تھے۔ سفر میں بھی انگریزی کتابیں ساتھ رہتی تھیں۔ انگریزی روانی سے بول نہیں سکتے تھے البتہ انگریزی میں روانی سے لڑ سکتے تھے۔ ہماری انگریزی کی چار سطریں نہیں چلنے دیتے، انگریزی میں لکھ نہیں سکتے مگر انگریزی میں اصلاح دے سکتے تھے۔ ان کی اصلاح لفظوں کی جنگ ہوتی تھی۔ ان کے نزدیک ایک وقت میں ایک لفظ ایک ہی مفہوم ادا کر سکتا تھا۔ اگر نہیں کر رہا تو لفظ کو کاٹ کر کہیں گے “ میری جان کوئی اور لفظ لاؤ۔۔۔ لفظ موجود ہے بس چُھپا ہوا ہے۔ ڈھونڈھو، ڈھونڈھو، بات بنی نہیں، تم تھک گئے ہو۔“

Share this