سردار جی کے لطیفے

سردار جی کی ٹکر ایک ٹرک سے ہو گئی۔ بہت

سردار جی کی ٹکر ایک ٹرک سے ہو گئی۔ بہت سے چوٹیں آئیں۔ ایک دوست ملنے کے لیے آیا اور اس نے سردار جی سے پوچھا۔ حادثہ کیسے ہوا؟
سردار جی بولے۔
بس جی کچھ سمجھ نہیں آیا۔ میں رات موٹرسائیکل پر جا رہا تھا کہ سامنے سے دو موٹر سائیکل آتے ہوئے دکھائی دئیے میں نے ان دونوں کے درمیان سے گذرنا چاہا تو کوئی چیز آ ٹکرائی۔

ایک سکھ کی جرابوں سے سخت بدبو آ رہی تھ

ایک سکھ کی جرابوں سے سخت بدبو آ رہی تھی۔ وہ جہاں جوتا اتارتا لوگ محفل چھوڑ کر بھاگ جاتے۔ ایک مرتبہ اس کی بیوی کے رشتہ داروں میں شادی تھی۔ لہذا اس نے اپنے خاوند کو نئی جرابیں لا کر دیں اور کہا۔ کہ کم از کم وہاں تو نئی جرابیں پہن کر جائیںگے۔جب سردار جی شادی میں تو تمام باراتی اٹھ کر بھاگ گئے۔ سکھ کی بیوی دوڑی دوڑی اس کے پاس آئی اور جھگڑنے کے انداز میں کہا۔ تم پھر پرانی جرابیں پہن کر آئے ہو۔ سردار نے بڑے اطمینان سے بوٹ اتار کر دکھائے اور کہا میں پہنی تو نئی جرابیں ہیں لیکن مجھے پتا تھا تم یقین نہیں کرو گی اس لیے پرانی جرابیں جیب میں ڈال لایا تھا۔

ایک سردار جی کو کتے نے کاٹ کھایا۔ ہسپت

ایک سردار جی کو کتے نے کاٹ کھایا۔ ہسپتال داخل کر دیا گیا۔ ٹیکے لگنے شروع ہوئے چند روز بعد ایک دوست عیادت کو گیا۔ پوچھا کیوں سردار جی اب کیا حال ہے۔
حال تو ٹھیک ہے بس کبھی کبھی بھونکنے کو جی چاہتا ہے۔

ایک بیوقوف کمر کے ساتھ باندھنے والے

ایک بیوقوف کمر کے ساتھ باندھنے والے بٹوے بیچ رہے تھے۔
’’ یہ بٹوے کیسے ہیں؟‘‘میں نے بٹوہ اٹھا کر پوچھا۔
’’بکواس ہیں جی‘‘۔ بیوقوف نے صاف گوئی کے ریکارڈ توڑتے ہوئے کہا۔
’’وہ کیوں میری ہنسی نکل گئی۔‘‘
’’دیکھیں جی ، کمر کے ساتھ باندھنے کا مقصد تو یہ ہے ناں کہ جیب کتروں سے محفوظ رہیں۔ جیب کترے انہیں بلیڈ سے کاٹ کر بیلٹ سمیت لے جاتے ہیں تو اس کا مطلب ہے، یہ نہیں خریدنے چاہیں‘‘۔
میں نے آگے بڑھنے سے پہلے اس کو مخاطب کیا۔
ایک بات تو بتائیں بھائی جی۔
پچھو بادشاہو ، پچھو۔
’’یہ دکان اپنی ہے یا شریکوں کی؟‘‘
اس پر سردار جی قہقہہ لگا کر بولے۔
’’دیکھیں جی ، کیسا زمانہ آ گیا ہے، گاہک سے صاف بات کرو تو جگتیں کرتے ہیں، آپ مجھ سے نہ پوچھتے کہ ’’یہ کیسے ہیں؟‘‘ تو میں آپ کے ہاتھ بیچ دیتا۔ آپ نے جب پوچھ ہی لیا تو چند پیسوں کی خاطر سجنوں کو دھوکا دینا تو اچھی بات نہیں ہے ناں جی؟‘‘ ۔