شادی کے لطیفے

اس سیکشن میں شادی اور شادی شدہ زندگی سے متعلق لطیفے موجود ہیں۔ اگر شادی نہیں ہوئی تو خوشی خوشی پڑھ لیں ھو گئی تو رو کے پڑھیں کہ پہلے کیوں نہ پڑھے۔ ھاھاھاھاھا

تین لوگ مرنے کے بعد جنّت کے دروازے پر پہ

تین لوگ مرنے کے بعد جنّت کے دروازے پر پہنچے
پہلا بولا: میں مولوی ہوں میں نے زندگی بھر عبادت کی ہے مجھے اندر آنے دو..

آواز آئی نیکسٹ
دوسرا بولا:میں ڈاکٹر ہوں، میں نے زندگی بھر لوگوں کی مدد کی ہے مجھے اندر آنے دو…
آواز آئی نیکسٹ

تیسرا بولا: میں شادی شدہ ہوں
آواز آئی، بس کر رُلائے گا کیا، چل اندر آ جا

ایک سید نے اپنے بیٹے کی شادی کا انتظام

ایک سید نے اپنے بیٹے کی شادی کا انتظام کیا۔ سید صاحب کو مذاق سوجھا۔ ہدایت کر دی کہ میراثی کو کھانے کے لیے کچھ نہ دیا جائے۔ اور مانگے تو میرے پاس بھیج دینا۔ میراثی کو کھانے میں کچھ نہ ملا تو خود ہی ان کے پاس پہنچا۔ سید صاحب بولے۔
میاں دیکھو حشر کے دن تو ہمارا ہی دامن تھام کر گزرنا ہے حشر میں بخشش مقصود ہے تو یہاں کھانا نہ مانگو۔
میراثی کہاں چپ رہنے والا تھا بولا شاہ صاحب بارات کن لوگوں کے گھر جانی ہے۔
انہوں نے کہا۔
بڑے شاہ صاحب کے گھر۔
میراثی بولا تو بخشش ان سے کروا لیں گے کھانا آپ کھلا دیں۔

ایک کنجوس شخص شادی کے بعد پہلی بار بیو

ایک کنجوس شخص شادی کے بعد پہلی بار بیوی کو سیر کرانے

کے لیے کلفٹن سیرگاہ پر لے گیا۔ دل پر پتھر رکھ اس شخص نے

پہلے تو بیوی کو جھولے سے لطف اندوز ہونے کاموقع فراہم کیا۔
اس کے بعد ایک بڑا سا چاکلیٹ خرید کر اپنی بیوی کو دیا۔ جب

بیوی چاکلیٹ کے ایک کنارے سے تھوڑا سا کھا چکی تو کنجوس

کی رگ کنجوسی بھڑکی اور وہ اپنی نئی نویلی دلہن سے

مخاطب ہوا۔
بیگم کیا خیال ہے کیوں نہ ہم باقی چاکلیٹ کو اپنے بچوں کے

لیے محفوظ رکھ لیں۔

ایک نوعمر لڑکا ایک نئے شادی شدہ جوڑے ک

ایک نوعمر لڑکا ایک نئے شادی شدہ جوڑے کے پاس گیا۔ جو پارک میں تفریح کی غرض سے آئے تھے۔ اس نے منہ بنا کر کہا۔ اگر آپ مجھے دس روپے دے دیں تو میں اپنے والدین کے پاس جا سکتا ہوں۔
انہوں نے رحم کھا کر لڑکے کو دس روپے دے دئیے اور پوچھا اس کے والدین کہاں ہیں۔
لڑکے نے جواب دیا وہ سامنے والے سینما میں فلم دیکھ رہے ہیں۔

ایک شخص رات کو زخمی حالت میں سڑک پر پڑ

ایک شخص رات کو زخمی حالت میں سڑک پر پڑا تھا۔ پولیس نے

ابتدائی رپورٹ تیار کی اور ہوش آنے پر اس شخص سے پوچھا۔
کیا تم شادی شدہ ہو؟
جی میں بیوی کی ٹکر سے نہیں بلکہ گاڑی کی ٹکر سے

زخمی ہوا ہوں۔ اس شخص نے جواب دیا۔

ایک سکھ کی جرابوں سے سخت بدبو آ رہی تھ

ایک سکھ کی جرابوں سے سخت بدبو آ رہی تھی۔ وہ جہاں جوتا اتارتا لوگ محفل چھوڑ کر بھاگ جاتے۔ ایک مرتبہ اس کی بیوی کے رشتہ داروں میں شادی تھی۔ لہذا اس نے اپنے خاوند کو نئی جرابیں لا کر دیں اور کہا۔ کہ کم از کم وہاں تو نئی جرابیں پہن کر جائیںگے۔جب سردار جی شادی میں تو تمام باراتی اٹھ کر بھاگ گئے۔ سکھ کی بیوی دوڑی دوڑی اس کے پاس آئی اور جھگڑنے کے انداز میں کہا۔ تم پھر پرانی جرابیں پہن کر آئے ہو۔ سردار نے بڑے اطمینان سے بوٹ اتار کر دکھائے اور کہا میں پہنی تو نئی جرابیں ہیں لیکن مجھے پتا تھا تم یقین نہیں کرو گی اس لیے پرانی جرابیں جیب میں ڈال لایا تھا۔

ایک دوست نے دوسرے پوچھا: یار تمہاری من

ایک دوست نے دوسرے پوچھا: یار تمہاری منگنی تو ہو چکی ہے، یہ بتاؤ شادی کب کر رہے ہو؟
دوسرے نے کہا: ’’شادی تو میں آج ہی کر لوں لیکن بے روزگاری کی وجہ سے مجبور ہوں۔ جیسے ہی میری منگیتر کو نوکری ملی ہماری شادی ہو جائے گی۔