شوکت تھانوی کی جب پہلی غزل چھپی تو انھوں نے رسالہ کھول کر میز پر رکھ دیا تاکہ

شوکت تھانوی کی جب پہلی غزل چھپی تو انھوں نے رسالہ کھول کر میز پر رکھ دیا تاکہ آنے جانے والے کی نظر پڑتی رہے۔ مگر شامت اعمال سب سے پہلےان کے والد صاحب کی نظرپڑی،انہوں نے یہ غزل پڑھتے ہی ایسا شورمچایا گویا کہ چور پکڑلیا ہو،والدہ صاحبہ کو بلا کرانہوں نے کہاآپ کے صاحبزادےفرماتےہیں
ہمیشہ غیر کی عزت تیری محفل میں ہوتی ہے
تیرے کوچے میں جاکر ہم زلیل و خوار ہوتے ہیں۔۔
"میں پوچھتاہوں یہ وہاں جاتا ہی کیوں ہےکس سے پوچھ کرجاتاہے؟"
والدہ بیچاری خوفزدہ آواز میں بولیں۔"غلطی سے چلا گیا ہوگا