صاحب صبح صبح مچھلی کے شکار پر روانہ ہو

صاحب صبح صبح مچھلی کے شکار پر روانہ ہو گئے۔ اور جاتے ہوئے
بیگم کو ہدایت کر گئے کہ آج کچھ نہ بنانا میں مچھلی شکار کر
کے لاؤں گا وہی بھون کر کھائیں گے۔
ہمیشہ کی طرح واپسی پر مچھلی والے کے پاس رکے اور اسے بولے
“یار ذرا 2 عدد تازہ مچھلیاں دے دینا جو آج ہی کی پکڑی ہوں۔ “
اچھا صاحب۔ کونسی دوں ؟ مچھلی فروش نے مستعدی سے پوچھا۔
روہو دے دو “ صاحب بولے۔
مچھلی والے نے جلدی سے دو مچھلیاں تھیلے میں ڈالیں ، پیسے
وصول کیے اور تھیلا صاحب کے حوالے کر دیا۔
صاحب نے تھیلے میں جھانک کر دیکھا تو وہ روہو مچھلی نہ تھی
بلکہ مچھلی کی ایک اور قسم (ساندہ) تھی ۔ غصے سے تلملائے
ہوئے مچھلی فروش سے کہا
“ تمھیں تو روہو مچھلی کا بولا تھا۔ دوسری کیوں دی ؟“
صاحب ! تھوڑی دیر پہلے بیگم صاحبہ آئی تھی انہوں نے کہا تھا کہ
روہو کھاکھا کر تنگ آ گئی ہوں ۔ آج صاحب مچھلی لینے آئیں تو
کوئی دوسری قسم دینا۔“ مچھلی فروش نے انکشاف کرتے ہوئے
جواب دیا۔

Share this