طوطوں کے لطیفے

اس سیکشن میں طوطا ، طوطی ، طوطوں سے متعلق لطیفے شامل ہیں

ایک پنجرے میں کچھ طوطے ایک طوطی کو چیھڑر

ایک پنجرے میں کچھ طوطے ایک طوطی کو چیھڑرھےتھے

جبکہ دوسرےپنجرے میں ایک طوطاتسبیح اور دوسرانمازپڑھ رھا تھا

مالک نےطوطی کونکال کر نیک طوطوں کے پنجرے میں ڈال دیا تسبیح والاطوطا نمازوالے طوطے سےبولا

اٹھوحاجی صاحب دعا قبول ھوگئی ھے.

دروازے پر ڈاکیے نے دستک دی۔۔۔ اندر سے طو

دروازے پر ڈاکیے نے دستک دی۔۔۔ اندر سے طوطے نے پوچھا : کون :
ڈاکیے نے جواب دیا : ڈاکیہ "
طوطا پھر سے : کون "
پوسٹ مین نے کہا " ڈاکیہ "
طوطا پھر " کون "
پوسٹ مین " ڈاکیہ:
پوسٹ مین " تم کون ؟
طوطا " ڈاکیہ "

کھٹائی میں ڈالنا؛؛؛؛؛؛؛؛ بے بی نے غصہ می

کھٹائی میں ڈالنا؛؛؛؛؛؛؛؛ بے بی نے غصہ میں چینی کھٹائی میں ڈال دی۔
سپز باغ دکھانا؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛ دانیال نے کراچی سے باہر آئے ہوئے اپنے کزن عمار کو گاؤں کے سبز باغ دکھائے۔
کلیجہ ٹھنڈا ہونا؛؛؛؛؛؛؛ معاذ نے فریج سے بکرے کا کلیجہ نکالا تو وہ ٹھنڈا ہو چکا تھا۔
گھوڑے بیچ کر سونا؛؛؛؛؛؛ بیوپاری منڈی میں گھوڑے بیچ کر سو گیا۔
مٹھی گرم کرنا؛؛؛؛؛؛؛؛؛ علی نے جب گرم کوئلہ مٹھی میں اٹھایا تو اسکی مٹھی گرم ہو گئی۔
گھی کے چراغ چلانا؛؛؛؛؛؛ ضرار کو جب مٹی کا تیل نہ ملا تو اس نے گھی کے چراغ جلا دیئے۔
گل کھلانا؛؛؛؛ وقار نے اپنے باغ میں نرگس کے گل کھلائے۔
ہاتھوں کے طوطے اڑانا؛؛؛؛؛؛ نوید نے ہاتھ میں جو طوطے پکڑے ہوئے تھے وہ طلحہ کے شور کرنے پر اڑ گئے۔
چراغ گل ہونا؛؛؛؛؛ تیز ہوا کی وجہ سے باورچی خانے میں رکھا ہوا چراغ گل ہو گیا۔
جوتیاں سیدھی کرنا؛؛؛؛؛؛ عینی نے کمرے میں الٹی پڑی ہوئی جوتیاں سیدھی کر دیں۔
پیٹ کاٹنا؛؛؛؛؛؛؛؛ قصائی نے بکرے کی گردن کاٹنے کے بعد اسکا پیٹ کاٹ دیا۔

ایک آدمی پالتو جانوروں کی دوکان میں دا

ایک آدمی پالتو جانوروں کی دوکان میں داخل ہوا، اسے اپنے بیٹے کے لیئے طوطا خریدنا تھا۔
اس نے ایک بہت اچھا طوطا دکھائ دیا۔ دوکاندار سے اس نے طوطے کی قیمت پوچھی۔
جناب 3000 روپئے !!!!!!!!!!!
ہیں !‌ اتنا مہنگا ؟؟؟‌کیوں ؟؟؟
جناب اس کو کمپیوٹر استعمال کرنا آتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اچھا -- آدمی نے حیرت سے کہآ۔۔۔
اور یہ دوسرا والا جو اس کے ساتھ والے پنجرے میں ہے؟؟؟
جناب یہ 6000 کا ہے۔۔۔۔۔۔
کیوں بھائ اس کی قیمت اتنی کیوں ہے؟
جناب !‌ اس کو نہ صرف پہلے والے کی طرح کمپیوٹر استعمال کرنا آتا ہے بلکہ اس کو یونکس آپریٹنگ سسٹم پر بھی مہارت حاصل ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آدمی نے پریشان ہوتے ہوئے تیسرے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پوچھا "اور اس کو کیا کیا آتا ہے؟ اور یہ کتنے کا ہے؟"
کاندار نے سر کھجاتے ہوئے کہا" جناب !‌ قیمت تو اس کی 10000 روپئے ہے، آنے کا تو کا تو مجھے معلوم نہیں، مگر یہ دونوں اس کو باس بولتے ہیں"

کلثوم آپا کی شادی نہ ہوسکی ِحتٰی کہ بڑ

کلثوم آپا کی شادی نہ ہوسکی ِحتٰی کہ بڑھاپاآگیا ِایک روز ان کی ایک شادی شدہ سہیلی نےہمدررانہ لہجےمیں آہ بھر کر کہا ِ
"کاش تمہاری بھی شادی ہوجاتی ِ"
آپا صابرانہ لہجے میں بولیں ِ
"میرے پاس ایک کتا ہے جوخراٹے لیتا ہے ِایک طوطا ہے جو ٹیں ٹیں کرکے دماغ چاٹتا ہے ِایک بلا ہےجو رات بھر گھر سے باہر رہتا ہے ِمجھےبھلا شوہر کی کیا ضرورت ہے ِ

فقیر ایک روپے کا سوال ہے بابا؟اس ادمی

فقیر ایک روپے کا سوال ہے بابا؟
اس ادمی نے جواب دیا:ٹماٹر کھاؤ!
اس نے پھر سوال کیا،اس نے پھر کہا ٹماٹر کھاؤ
آخر وہ فقیر ہار کر ساتھ والے آدمی سے کہنے لگا:میں کب سے سوال کر رہا ہوں کہ ایک روپے کا سوال ہے مگر جواب ملتا ہے ٹماٹر کھاؤ
یار یہ زرا توتلا ہے کہہ رہا ہے کہ کما کر کھاؤ

دو طوطے پنجرے میں ہر وقت عبادت کرتے ریتے

دو طوطے پنجرے میں ہر وقت عبادت کرتے ریتے تھے ایک دن اُن کے پنجرے میں ایک طوطی بھی رکھ دی گئی۔اُس وقت ایک طوطا سجدے میں گرا ہوا تھا اور دوسرا تسبیح کر رہا تھا۔جیسے ہی طوطی اندر آئی،طوطے نے اپنی تسبیح گھما کر پھینکی اور دوسرے طوطے سے کہا ”اُٹھ اوےے ساڈی دعا قبول ہوئی‘‘

ایک پنجابی ایک دن بازار سے گزر رہا تھا

ایک پنجابی ایک دن بازار سے گزر رہا تھا،دیکھا کہ مختلف چیزوں کی نیلامی ہو رہی ہے۔وہ رک گیا،کئی چیزوں کے بکنے کے بعد،ایک بولنے والے طوطے کی نیلامی شروع ہوئی،
پنجابی کو طوطا بہت اچھا لگا۔اس نے بولی دینی شروع کی
پنجابی:پچاس روپے
دوسری طرف سے آواز آئی:سو روپے
پنجابی:دو سو روپے
آواز آئی:بانچ سو روپے
اب ایک طوطے کے لئے پانچ سو روپے خرچ کرنا بہت زیادہ تھا،مگر بات بھرے بازار میں اُس کی عزت کی تھی اُس نے بولی بڑھائی:سات سو روپے
آواز آئی:ہزار روپے
اب تو وہ بہت پریشان ہوا مگر مسئلہ ناک کا تھا بولا:ڈیڑھ ہزار
آواز آئی :دو پزار
پنجابی:بانچ ہزار
اس پر دوسری طرف مکمل خاموشی چھا گئی اور آخر کار اُسے پانچ ہزار دے کر طوطا خریدنا پڑا،طوطے کا پنجرا ہاتھ میں پکڑ کر اُس نے دکاندار سے پوچھا:
بھائیا ۔ ۔ ۔ ۔میں انے پیسے خرچ کر دتے ۔ ۔ ۔ ۔ایہہ طوطا بولدا وی اے کہ نہیں؟
دکاندار نوٹ گنتے ہوئے بولا:لو بولدا نہیں تے تہاڈے مقابلے تے بولی تہاڈا پیو دے رہیا سی!۔