فقیروں کے لطیفے

اس سیکشن میں فقیروں ، بھکاریوں ، گداگروں اور مانگنے والوں سے متعلق دلچسپ لطیفے اور چٹکلے شامل ہیں۔ اگر آپ کے ذہن میں فقیروں ، بھکاریوں ، گداگروں اور مانگنے والوں کے موضوع پر کوئی لطیفہ ھے تو ضرور شامل کیجیے

ایک فقیر کسی کنجوس کے گھر سے روتا ھوا با

ایک فقیر کسی کنجوس کے گھر سے روتا ھوا باھر نکلا

کسی نے پوچھا کیا ھوا۔ اس نے کہا سو روپے مانگے تو میری پٹائی کی انہوں نے۔

اس نے غصے سے کہا تم نے بھی تو مار کھانے والی بات کی۔ بندہ خدا ایک دو روپے مانگتے ھیں تم نے اکٹھے سو روپے مانگ لیے۔

فقیر رونی صورت بنا کر کہتا ھے جناب انہوں نے مجھ سے ادھار لیے ھوئے ھیں۔ وہ واپس مانگ رھا تھا

سڑک کے کنارے ایک فقیر بیٹھا ہوا تھا اس

سڑک کے کنارے ایک فقیر بیٹھا ہوا تھا اس کے پاس کار آ کر رکی اس میں سے ایک آدمی اترا اور فقیر سے بولا۔
کیا تم جوا کھیلتے ہو؟۔
فقیر نہیں
کیا شراب پیتے ہو؟
نہیں جناب
کیا کلب جاتے ہو؟
نہیں
رات کو گھر دیر سے جاتے ہو
نہیں حضور. فقیر نے گھبرا کر جواب دیا۔
اچھا تو پھر میرے ساتھ گھر چلو میں اپنی بیگم کو بتانا چاہتا ہوں جو لوگ یہ سب کام نہیں کرتے ان کی حالت کیا ہوتی ہے۔

کسی کنجوس امیر کے در پر کسی فقیر نے آو

کسی کنجوس امیر کے در پر کسی فقیر نے آواز لگائی۔
بابا بھلا کرے یہاں دو. وہاں لو.۔
کنجوس نے اپنے ملازم کو آواز دی فیروز منشی جی سے کہو کہ خدمت گار مبارک کو بلائے او ر مبارک ملازمہ کے ذریعے دروازے پر کھڑے فقیر سے کہہ دے کہ ۔ کوئی اور گھر دیکھو۔
فقیر اس عجیب و غریب جواب رسانی سے جھنجھلا اٹھا اور آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کر بولا۔
اے رب العزّت اپنے پیارے رسول(ص) کے واسطے سے جبرئیل(ع) سے کہیے کہ وہ میکائیل کے ذریعہ اسرافیل کو طلب کریں اور اسرافیل کو حکم دیا جائے کہ وہ عزرائیل سے کہیں کہ وہ اس ملعون اور کنجوس رئیس کی روح فوراً قبض کر لیں۔

فقیر نے ایک آدمی سے پیسے مانگے۔ اس آدم

فقیر نے ایک آدمی سے پیسے مانگے۔ اس آدمی نے کہا ’’میں اپنی داڑھی پر ہاتھ پر ہاتھ پھیرتا ہوں جتنے بال میرے ہاتھ میں آئیں گے میں تمہیں اتنے ہی روپے دے دوں گا۔
اس نے تین بار اپنی داڑھی پر ہاتھ پھیرا۔ مگر کوئی بال اس کے ہاتھ نہ آیا۔ تمہاری قسمت میں کچھ بھی نہیں ، اس نے فقیر سے کہا۔
یوں نہیں ، حضور ! فقیر بولا ، داڑھی آپ کی اور ہاتھ میرا۔ پھر دیکھئے میری قسمت۔

ایک بھکاری سڑک پر لنگڑا لنگڑا کر چل رہا

ایک بھکاری سڑک پر لنگڑا لنگڑا کر چل رہا تھا۔ سامنے سے تین دوست آ رہے تھے۔ بھکاری کو اس طرح چلتے دیکھ کر پہلے دوست نے کہا۔ "یار! دیکھو بیچارے بھکاری کی ٹانگ ٹوٹی ہوئی ہے۔"
دوسرے دوست نے کہا: "نہیں یار! مجھے لگتا ہے کہ اس کی ٹانگ مفلوج ہو گئی ہے۔"
یہ سن کر تیسرا دوست بولا: "تم دونوں غلط اندازے لگا رہے ہو۔ مجھے لگتا ہے کہ اس کی ٹانگ کو پولیو ہو چکا ہے۔"
اس بات پر تینوں دوستوں میں تکرار ہونے لگی۔ بلآخر انہوں نے فیصلہ کیا کے وہ بھکاری سے ہی پوچھ لیتے ہیں، وہ تینوں بھکاری کے پاس گئے اور اس سے پوچھا۔ "بھائی صاحب! یہ آپ کی ٹانگ کس طرح ٹوٹی؟"
بھکاری (غصے سے تینوں کو گھورتے ہوئے): ارے! میری ٹانگ نہیں بلکہ میرا جوتا ٹوٹا ہوا ہے۔"