فقیروں کے لطیفے

اس سیکشن میں فقیروں ، بھکاریوں ، گداگروں اور مانگنے والوں سے متعلق دلچسپ لطیفے اور چٹکلے شامل ہیں۔ اگر آپ کے ذہن میں فقیروں ، بھکاریوں ، گداگروں اور مانگنے والوں کے موضوع پر کوئی لطیفہ ھے تو ضرور شامل کیجیے

ایک آدمی چَھٹی منزل پر بالکونی میں کھڑا

ایک آدمی چَھٹی منزل پر بالکونی میں کھڑا نیچے کا نظارہ کر رہا تھا۔ اچانک اس نے دیکھا کہ کوئی اشارے سے اسے نیچے بلا رہا تھا۔ وہ نیچے اترا اور پوچھا
کیا بات ہے ۔ کیوں مجھے اتنی دور سے بلایا ہے؟
کچھ نہیں بابو جی ، میں فقیر ہوں میری مدد کردیں ، آپ کے بچے جیں۔
بس اتنی سی بات تھی؟ ، آؤ میرے ساتھ
وہ شخص اُسے اپنے گھرچھٹی منزل پر لے آیا اور دروزہ بند کرتے ہوئے بولا
معاف کرو بابا۔

یک فقیر ایک کنجوس امیر آدمی کے پاس گیا ا

یک فقیر ایک کنجوس امیر آدمی کے پاس گیا اور اسے اپنی درد بھری کہانی سنانا شروع کی۔
اس کا لہجہ ایسا تھا کہ امیر آدمی کے آنسو نکل آئے۔ اس نے اپنے نوکر کو آواز دی تو فقیر سمجھا شاید اب کچھ ملے گا۔
لیکن نوکر آیا تو امیر آدمی نے اس سے کہا : ”اس کم بخت کو دھکے دے کر نکال دو
اس نے رلا رلا کر میرا برا حال کر دیا ہے“۔

دروازے پر کھڑے ہوا ڈھیٹ بھکاری خالی ہاتھ

دروازے پر کھڑے ہوا ڈھیٹ بھکاری خالی ہاتھ واپس جانا نہیں چاہتا تھا اور اندر کھڑی ہوئی خاتون اُسے ڈانٹ ڈپٹ کر چلے جانے کو کہہ رہی تھی لیکن اس کے باوجود بھی جب بھکاری ٹس سے مبس نہیں ہوا تو خاتون نے اُسے دھمکی دی:
تم جاتے ہو یا میں اپنے شوہر کو بلاؤں
اچھا اچھا میں اس کے بغیر ہی چلا جاتا ہوں۔ بھکاری نے منہ بنا کر کہا:
حالانکہ میں جانتا ہوں کہ تمھارا شوہر اس وقت گھر پر نہیں ہے
کیا بکواس ہے؟ خاتون چیخ کر بولی: تمھیں کیسے معلوم کہ میرا شوہر گھر پر نہیں ہے؟
بالکل صاف بات ہے۔ بھکاری نے ہنس کر کہا:
تم جیسی عورت جس آدمی کےگھر میں ہو اس آدمی میں اتنی ہمت ہی کہاں کہ وہ کھانے کے وقت کے سوا کبھی گھر میں ہوگا

بھکاری نے ایک گھر کے سامنے صدا لگائی ت

بھکاری نے ایک گھر کے سامنے صدا لگائی تو گھر کی نئی نویلی دلہن نے کہا، جاؤ بابا معاف کرو۔
بھکاری کچھ دور گیا تو اس بہو کی ساس نے آواز دے کر بھکاری کو بلایا۔
جب بھکاری پاس آیا تو ساس نے کہا، بابا معاف کرو۔
بھکاری کو بڑا غصہ آیا، اس نے کہا یہ بات تو آپ کی بہو نے بھی کہی تھی۔
ساس نے جواب دیا، "مالکن میں ہوں وہ کون ہوتی ہے تم پر رعب جمانے والی۔

یک خاتون نے ایک فقیر کو بہت سے پرانے کپڑ

یک خاتون نے ایک فقیر کو بہت سے پرانے کپڑے دیتے ھوئے کہا۔"یہ سب کے سب تمھارے کام آجائیں گے۔بس انہیں معمولی سی مرمت کی ضرورت ہے۔زیادہ سے زیادہ ایک دن کا کام یے۔"
ٹھیک ہے بیگم صاحبہ، تو پھر میں کل آجاؤں گا۔"
فقیر نے کپڑے وہیں چھوڑ کر آگے بڑھتے ھوئے کہا۔