لطیفہ

warning: Creating default object from empty value in /home/freeurdujokes/public_html/modules/taxonomy/taxonomy.pages.inc on line 33.

ایک دفعہ دو پاگل دوست بیٹھے باتیں کر رھ

ایک دفعہ دو پاگل دوست بیٹھے باتیں کر رھے تھے
پہلا پاگل دوست بولا :یار اگر تم یہ بتا دو کہ میری جھولی میں کیا ھے تو میں یہ انڈے تمہیں دے دونگا
دوسرا پاگل دوست : نہیں معلوم کوئی دوسرا سوال کرو
پہلا پاگل دوست بولا : اچھا چلو یار تم یہ ھی بتا دو کہ میری جھولی میں کتنے انڈے ھیں تو میں تمہیں بارہ بارہ کے انڈے دے دونگا
دوسرا پاگل دوست : نہیں یار یہ بھی نہیں معلوم کچھ اور پوچھو
پہلا پاگل دوست بولا : اچھا چلو یار تم یہ ھی بتا دو کہ یہ انڈے کس کے ھیں تو میں تمہیں وہ مرغی بھی دے دونگا
دوسرا پاگل دوست : یار تم ہمیشہ ایسے مشکل سوال ھی کیوں پوچھتے ھو

انکساریآغا حشر کاشمیری کے شناساؤں می

انکساری

آغا حشر کاشمیری کے شناساؤں میں ایک ایسے مولوی صاحب بھی تھے جنکی فارسی دانی کو ایرانی بھی تسلیم کرتے تھے، لیکن یہ اتفاق تھا کہ مولوی صاحب بیکاری کے ہاتھوں سخت پریشان تھے، اچانک ایک روز آغا صاحب کو پتہ چلا کہ ایک انگریز افسر کو فارسی سیکھنے کیلئے اتالیق درکارہے۔ آغا صاحب نے ممبی کے ایک معروف رئیس کے توسط سے مولوی صاحب کو اس انگریز کے ہاں بھجوا دیا، صاحب بہادر نے مولوی صاحب سے کہا۔

ویل مولوی صاحب ہم کو پتہ چلتا کہ آپ بہت اچھا فارسی جانتا ہے

مولوی صاحب نے انکساری سے کام لیتے ہوئے کہا، حضور کی بندہ پروری ہے ورنہ میں فارسی سے کہاں واقف ہوں۔

صاحب بہادر نے یہ سنا تو مولوی صاحب کو تو خوش اخلاقی سے پیش آتے ہوئے رخصت کر دیا، لیکن اس رئیس سے یہ شکایت کی انہوں نے سوچے سمجھے بغیر ایک ایسے آدمی کو فارسی پڑھانے کیلئے بھیج دیا جو فارسی کا ایک لفظ تک نہیں جانتا تھا۔

"پتا نہیں ان کو کیا ھو گیا ھے۔ مجھ سے

"پتا نہیں ان کو کیا ھو گیا ھے۔ مجھ سے رکھے رکھےرہتے ھیں۔اب تو میرے ساتھ سیدھے منہ بات بھی نہیں کرتےمیں تو بہت پریشان ھو گئی ھوں" نئی نویلی دلہن نے اپنی ساس کو کہا

پر ھوا کیا?۔ساس نے پوچھا

"کیا بتاؤں اب میں آپکو۔ پیر کو کھچڑی پکائی تو انہوں نے بہت زیادہ پسند کی اور تعریف بھی کی۔ منگل کو کھچڑی پکائی تو بہت پسند کی۔ بدھ کو پکائی تو چپ چاپ کھا لی۔ لیکن آج جب جمعرات کو کھچڑی کو دیکھا تو چلا اٹھے اور بولے"مجھے نفرت ھے کھچڑی سے۔لے جاؤ اسے"

ایک دن غالب ایک کمرے میں بند ھو کر شترنج کھیل رہے تھے

ایسےمیں ان کا ایک دوست آ گیا اور کہنے لگا کہ میں نے تو سنا تھا کہ رمضان میں شیطان بند کر دئیے جاتے ھیں اور تم تو شیطانی کھیل کھیل رہے ھو

"میں بھی تو بند ھوں نا" غالب نے جواب دیا

اکبر الہ آبادی کے دور میں ایک شخص نے ج

اکبر الہ آبادی کے دور میں ایک شخص نے جوتوں کی نئی دوکان کھولی اور ان سے کہا کہ اس پر کوئی شعر کہہ دیں۔ اکبر آبادی صاحب نے اسی وقت شعر پڑھا۔
شو میکری کی ہم نے کھولی ھے دوکان آج
روزی کو ہم کمائیں گے جوتوں کے زور سے

ایک آدمی نے ایک اندھے فقیر سے پوچھا

ایک آدمی نے ایک اندھے فقیر سے پوچھا
بابا جی کھیر کھاؤ گے؟
با با جی نے پوچھا یہ کھیر کسی ھوتی ھے
آدمی بولا سفید رنگ کی
اندھے فقیر نے پوچھا یہ سفید رنگ کیسا ھوتا ھے
آدمی نے جواب دیا جیسا بگلے کا رنگ ھوتا ھے
اندھے فقیر نے پوچھا یہ بگلا کیسا ھوتا ھے
آدمی نے بازو ٹیٹرھا کر کے اندھے فقیر کا ھاتھ اپنے بازو کو لگوا کر کہا بگلا ایسا ھوتا ھے
اندھے فقیر نے معذرت کرلی اور کہا ایسی ٹیڑھی کھیر مجھ سے نہیں کھائی جائے گی

Syndicate content