لطیفہ

warning: Creating default object from empty value in /home/freeurdujokes/public_html/modules/taxonomy/taxonomy.pages.inc on line 33.

دو دوست سڑک سے ملحق میدان میں گولف کھ

دو دوست سڑک سے ملحق میدان میں گولف کھیلنے میں

منہمک تھے۔ ایک دوست نے ہٹ لگانے کا ارادہ کیا کہ سڑک پر

ایک جنازہ آتا ہوا دکھائی دیا اس نے ہٹ لگانے کی بجائے سٹک

ہاتھ سے چھوڑ دی اور ہیٹ اتار کر احتراماً سر جھکا کر کھڑا ہو

گیا۔
جنازہ گذر گیا تو دوسرے دوست نے کہا۔
مجھے یہ جان کر بہت خوشی ہوئی کہ تم نے سچے دل سے

جنازے کا احترام کیا ہے واقعی ہمیں ہر جنازے کا اسی طرح

احترام کرنا چاہیے۔
بھئی . اتنا احترام کرنا میرا فرض تھا کیونکہ مرحومہ نے مسلسل

تیس برس بحیثیت بیوی میرا ساتھ دیاتھا۔

ایک امریکی خاتون نے مقامی عدالت میں جی

ایک امریکی خاتون نے مقامی عدالت میں جیوری کی رکن بننے

سے محض اس لیے انکار کر دیا کہ وہ موت کی سزا کو ناپسند

کرتی تھی۔
جج نے انہیں سمجھاتے ہوئے کہا۔
لیکن محترمہ وہ مقدمہ جس کے لیے آپ کو جیوری میں شامل

ہونا ہے۔ ایک معمولی سا مقدمہ ہے۔ مقدمہ یہ ہے کہ ایک عورت

نے اپنے شوہر کر دس ہزار روپے زیور خرید کر لانے کے لیے دئیے

تھے۔ مگر شوہر نے زیور خریدنے کی بجائے ساری رقم جوئے

میں ہار دی۔
محترمہ نے یہ سنا تو فوراً بولی۔
مناسب ہے میں بخوشی جیوری میں شامل ہوتی ہوں ممکن ہے

موت کی سزا کے بارے میں میرے جو خیالات ہیں وہ غلط ہی

ہوں۔

ایک آدمی بلی کو نہلا رہا تھا اس کے پاس

ایک آدمی بلی کو نہلا رہا تھا اس کے پاس سے ایک شخص گزرا اس نے پوچھا۔
بھئی بلی کو نہ نہلاؤ مر جائے گی۔
کچھ دیر بعد وہ شخص واپس آیا تو دیکھا بلی مری پڑی ہے وہ شخص بولا۔
میں نے کہا تھا کہ بلی مر جائے گی
اس نے جواب دیا۔
نہلانے سے تھوڑی مری ہے
بلی تو نچوڑنے سے مری ہے

ایک افیمی ﴿دوسرے سے﴾ تمہارا سر کہاں ہے

ایک افیمی ﴿دوسرے سے﴾ تمہارا سر کہاں ہے؟ مجھے نظر نہیں آ رہا
دوسرا : نظر کیسے آئے وہ ہے ہی نہیں۔ درد کر رہا تھا۔ میں اسے ڈاکٹر کے پاس چھوڑ آیا ہوں۔

ایک مصور مالی مشکلات کا شکار تھا اور

ایک مصور مالی مشکلات کا شکار تھا اور چند ماہ سے دکان کا کرایہ ادا نہ کر سکا۔ کیونکہ کاروبار ذرا کم چل رہا تھا۔ مالک دکان اس مصور کے پاس گیا اور بولا۔ کئی ماہ ہو گئے تم نے کرایہ ادا نہیں کیا۔ مصور نے کہا چند برس لوگ اس ویران دکان کو دیکھ کر کہیں گے کہ فلاں مشہور مصورکبھی اس دوکان میں رہتا تھا۔
مالک دوکان نے کہا۔ اگر آج شام مجھے کرایہ نہ ملا تو لوگ یہ بات کل سے ہی کہنا شروع کردیں گے۔

Syndicate content