لطیفہ

warning: Creating default object from empty value in /home/freeurdujokes/public_html/modules/taxonomy/taxonomy.pages.inc on line 33.

ایک افیمی دوسرے سے: یار تم کس دن پیدا

ایک افیمی دوسرے سے: یار تم کس دن پیدا ہوئے تھے۔
دوسرا : جمعے کے دن
پہلا افیمی : چل جھوٹے جمعے کو تو چھٹی ہوتی ہے۔

اپنی ساری رقم فوراً میرے حوالے کر دو ن

اپنی ساری رقم فوراً میرے حوالے کر دو نہیں تو ابھی تم کو گولی ما ر دوں گا۔ ایک ڈاکو نے ایک شخص سے کہا۔
وہ شخص پستول کی طرف مسلسل گھورنے لگا۔ ڈاکو نے کچھ دیر انتظار کیا اور پھر دھاڑا۔ جلدی بولو زندگی یا رقم۔
وہ شخص بولا۔ ’’خاموش رہو‘‘ میں ابھی اس مسئلے پر غور کر رہا ہوں۔

ایک افیمی نے رات کے وقت پانی میں چاند

ایک افیمی نے رات کے وقت پانی میں چاند کا عکس دیکھا اور اپنے دوست سے بولا۔ یہ کیا چیز ہے؟ دوست نے جواب دیا۔ یہ چاند ہے۔
پہلا افیمی بولا۔ اوہ میرے دوست تو کیا ہم اتنے اوپر آ گئے ہیں کہ چاند بھی نیچے رہ گیا ہے۔

ایک آدمی اچانک بیہوش ہو گیا۔ اس کے دوس

ایک آدمی اچانک بیہوش ہو گیا۔ اس کے دوست احباب جمع ہو گئے کوئی کہتا اسے حکیم کے پاس لے چلو، کوئی کہتا اسے ڈاکٹر کے پاس لے چلو۔ غرض جتنے منہ اتنی باتیں۔ ایک شخص نے کہا : اسے فوراً حلوا دو۔
یہ سنتے ہی بیمار نے آنکھیںکھول دیں اور دوسرے لوگوں سے کہنے لگا: ’’بھائیو ! اس کی بھی بات سن لو۔‘‘ اور پھر دوباہ بے ہوش ہو گیا۔

ایک آدمی پرانی سی چھکڑا کار پر ہوٹل آی

ایک آدمی پرانی سی چھکڑا کار پر ہوٹل آیا اور ہوٹل کے ملازم سے بولا۔ بھئی ذرا کار کا خیال رکھنا ، میں چائے پینے جا رہا ہوں۔
تھوڑی دیر بعد اس نے واپس آ کر ملازم کو دو روپے ٹپ دی۔ ملازم نے کہا : دو روپے اور دیجئے۔
اس آدمی نے حیرت سے پوچھا وہ کس لیے؟
ملازم: شرمندگی کے۔ کیونکہ جو بھی یہاں سے گزرتا تھا اس کار کو دیکھ کر یہی سمجھتا تھا کہ شاید یہ کار میری ہے۔

Syndicate content