لطیفہ

warning: Creating default object from empty value in /home/freeurdujokes/public_html/modules/taxonomy/taxonomy.pages.inc on line 33.

اغوا برائے تاوان کی ایک خبر پڑھ کر بیو

اغوا برائے تاوان کی ایک خبر پڑھ کر بیوی نے خاوند سے پوچھا اگر کوئی مجھے اغوا کر لے تو تم کتنا تاوان دو گے۔
خاوند نے مسکرا کر جواب دیا۔ تاوان یا انعام۔

ابراہیم لنکن نے خانہ جنگی کے دوران اپن

ابراہیم لنکن نے خانہ جنگی کے دوران اپنے تمام جرنیلوں کو حکم دے رکھا تھا کہ ہر کاروائی کی اسے رپورٹ بھیجی جائے۔ ایک دن ایک جرنیل کا تار آیا کہ چھ گائیں ہاتھ لگی ہیں ان کے بارے میں حکم؟
ابراہیم لنکن نے جوابی تار دیا ان کا دودھ نکالیے۔

ایک آدمی اپنے دوست سے کہہ رہاتھا: ’’می

ایک آدمی اپنے دوست سے کہہ رہاتھا: ’’میرا گھوڑا کسی چیز سے نہیں ڈرتا چاہے وہ کتنی ہی ڈراؤنی کیوں نہ ہو۔‘‘ اس کے دوست نے ہنستے ہوئے کہا : ’’تمہیں جو دیکھنے کا عادی ہو گیا ہے۔

ایک انگریز اور آئرش سینما میں فلم دی

ایک انگریز اور آئرش سینما میں فلم دیکھ رہے تھے۔ اتنے میں فلم کے سین میں ہیرو ایک گھوڑا سرپٹ دوڑاتا ہوا نظرآیا۔
انگریز زور سے چلایا۔ ’’یہ گر جائے گا؟
جبکہ آئرش چیخا۔ ’’یہ کبھی نہیں گرے گا‘‘
دونوں میں شرط لگ گئی۔ کچھ دیر بعد ہیرو واقعی گھوڑے سے گرگیا۔ انگریز بولا . دیکھا، میں نہ کہتا تھا کہ یہ گر جائے گا، لیکن تمہیں کیسے یقین تھا کہ یہ نہیں گرے گا؟۔
آئرش سر کھجاتے ہوئے بولا۔ دراصل میں نے یہی فلم رات کو بھی دیکھی تھی اور رات کو ہیرو ، گھوڑے سے گر گیا تھا۔ اب مجھے یقین تھا کہ اس بار ہیرو دھیان سے گھوڑا دوڑائے گا‘‘۔

ایک بیوقوف کمر کے ساتھ باندھنے والے

ایک بیوقوف کمر کے ساتھ باندھنے والے بٹوے بیچ رہے تھے۔
’’ یہ بٹوے کیسے ہیں؟‘‘میں نے بٹوہ اٹھا کر پوچھا۔
’’بکواس ہیں جی‘‘۔ بیوقوف نے صاف گوئی کے ریکارڈ توڑتے ہوئے کہا۔
’’وہ کیوں میری ہنسی نکل گئی۔‘‘
’’دیکھیں جی ، کمر کے ساتھ باندھنے کا مقصد تو یہ ہے ناں کہ جیب کتروں سے محفوظ رہیں۔ جیب کترے انہیں بلیڈ سے کاٹ کر بیلٹ سمیت لے جاتے ہیں تو اس کا مطلب ہے، یہ نہیں خریدنے چاہیں‘‘۔
میں نے آگے بڑھنے سے پہلے اس کو مخاطب کیا۔
ایک بات تو بتائیں بھائی جی۔
پچھو بادشاہو ، پچھو۔
’’یہ دکان اپنی ہے یا شریکوں کی؟‘‘
اس پر سردار جی قہقہہ لگا کر بولے۔

Syndicate content