لطیفہ

ایک دوست نے دوسرے دوست سے کہا۔ "سنا ہے

ایک دوست نے دوسرے دوست سے کہا۔ "سنا ہے تمہارے والد صاحب کو ڈاکٹروں نے جواب دے دیا"۔ وہ دوست ہکا بکا رہ گیا کہ یہ کیا کہہ رہا ہے جبکہ میرے والد صاحب تو بھلے چنگے ہیں۔ دوسرے دوست نے کہا تم یہ کیا بات کر رہے ہو میرے والد صاحب تو اچھے بھلے ہیں۔ پہلے دوست نے کہا میرا مطلب ہے کہ تمہارے والد صاحب نے ڈاکٹروں سے سوال پوچھا تھا اور ڈاکٹروں نے انہیں جواب دے دیا۔

اچانک بڑی شدت کا طوفان بادوباراں آگیا۔ د

اچانک بڑی شدت کا طوفان بادوباراں آگیا۔ درخت جڑوں سے اکھڑنے لگے، گاڑیاں ایک دوسرے سے ٹکرا گئیں، مکانوں کی چھتیں اڑنے لگیں۔
ایک غائب دماغ پروفیسر یہاں وہاں بھاگ کر لوگوں کو جمع کر رہے تھے۔ وہ کہ رہے تھے "ہمیں اب یے سوچنا چاہئے کے ایسی حالت میں ہمیں کیا کرنا چاہئے؟"
ایک صاحب ان کو پکڑ کر ایک طرف لے گئے اور بولے۔ "سب سے پہلے گھر جا کر پتلون پہننی چاہئے۔"

ایک آدمی گنڈیریاں چوستے ہوئے جا رہا تھا

ایک آدمی گنڈیریاں چوستے ہوئے جا رہا تھا اور ساتھ ہی چھلکے بھی پھینکتا جا رہا تھا۔ اچانک اس کی نظر پیچھے پڑی تو دیکھا کہ اس کے پیچھے پیچھے دوسرا آدمی وہ چھلکے اٹھا اٹھا کر چوستا جا رہا ہے۔ اسے برا لگا اور بولا:" تم کتنے ندیدے ہو"
دوسرا آدمی:"تم بھی تو ندیدے ہو ذرا سا رس بھی نہیں چھوڑ رہے۔"
 
 

ایک آدمی کتا لے کر جا رہا تھا کہ دوسرے آ

ایک آدمی کتا لے کر جا رہا تھا کہ دوسرے آدمی نے یہ دیکھ کر کہا یہ گدھا کہاں لے کے جارہے ہو؟
ان صاحب نے جواب دیا: تمہیں نظر نہیں آرہا یہ گدھا ہے یا کتا۔
دوسرے آدمی نے جواب دیا: جی میں آپ سے نہیں کتے سے مخاطب ہوں۔

ایک امیر خاتون کے گھر دعوت تھی۔بدقسمتی س

ایک امیر خاتون کے گھر دعوت تھی۔بدقسمتی سے خاتون کے دانت نقلی تھے بتیسی لگایا کرتی تھیں۔اپنے ملازم سے کہا جب میری بتیسی گرتی دیکھو تو آواز لگانا "سلطان صاحب گیٹ پر آچکے ہیں۔"میں بتیسی ٹھیک کر لونگی۔ دعوت میں
کافی مرتبہ نوکر نے یاد دلایا"سلطان صاحب گیٹ پر آرہے ہیں"
"لیکن خاتون بات مکمل کرنے کے ایسے جوش میں تھیں کے سنا ہی نییں۔نوکر نے دوبارہ یاد دلایا "سلطان صاحب گیٹ پر آچکے ہیں" خاتون نے پھر نہ سنا آخر جب اپنی بات مکمل کر چکی تو نوکر کی طرف مڑھ کر پوچھا کیا کہنا چاہتے تھے۔نوکر نے با ادب طریقے سے کہا"بیگم صاحبہ میں کہہ رہا تھا سلطان صاحب گیٹ پر آچکے ہیں"لیکن اب کوئی فائدہ نہیں کیوں کے وہ شوربے کے ڈونگے میں گر چکے ہیں۔۔!

ایک امریکن اور ایک انڈین ایک امریکن بار

ایک امریکن اور ایک انڈین ایک امریکن بار میں بیٹھے جام پر جام انڈھیل رہے تھے۔ انڈین آدمی نے امریکن سے کہا،"تم جانتے ہو میرا گھر والوں زبردستی میری شادی ایک فرسودہ خیالات والی گھریلو لڑکی سے کرنا چاہتے ہیں۔ جس سے نہ میں نے کبھی بات کی نہ کبھی ملا۔ ہم اسے "ارینجنڈ میرج" کہتے ہیں۔ میں نے بھی صاف صاف کہہ دیا کہ میں اس لڑکی سے کبھی بھی شادی نہیں کروں گا جسے میں جانتا نہیں جیسے میں پیار نہیں کرتا۔اور اب میرا باپ میرے لیے پریشانیاں کھڑی کر رہا ہے۔ میں بہت خاندانی میں گھر گیا ہوں"۔

امریکن نے اس کے جواب میں کہا۔"لو میرج کے بارے کیا کہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔چلو دوست تمہیں اپنی
کہانی سناتا ہوں۔"مجھے ایک بیوہ سے پیوہ سے پیار ہو گیا۔ تین سال کے پیار کے بعد میں نے اس سے شادی کر لی۔اس بیوہ کی پہلے شوہر سے ایک لڑکی تھی جس سے دو سال بعد میرے باپ کو پیار ہو گیا اور میرے باپ نے اس کے ساتھ شادی کر لی۔اس طرح میں اپنے باپ کا سسر بن گیا اور میں اس کا بیٹا بھی تھا۔ اور میری بیٹی میری ہی ماں بن گئی اور میری بیوی میری نانی۔

اور مزید معاملہ تو تب خراب ہوا جب میرے گھر ایک لڑکا پیدا ہوا۔ میرابیٹا میرے باپ کا سالا بھی ہے اور پوتا بھی۔ اور اس وقت تو صورتحال اور ہی بگڑ گئی جب میرے باپ کے گھر بیٹا پیدا ہوا۔ اب میرے باپ کا بیٹا یعنی میرا بھائی میرا پوتا ہے۔ جس کےنتیجہ یہ نکلا کہ میں خود اپنا ہی دادا ہوں اور اپنا ہی پوتا بھی ہوں۔

اور تم کہتے ہو کہ تمہیں خاندانی مسائل کا سامنا ہے۔

میں اپنی بیوی کو اپنے ساتھ ایک ہوٹل میں

میں اپنی بیوی کو اپنے ساتھ ایک ہوٹل میں لے آیا۔
بیرا میرا پاس آیا وہ بولا "سر آپ کیا کھانا پسند کریں گے۔"
میں نے کہا۔
"کچن لولی پاپ اور فش بریانی"
"سر۔ بھینس کے بارے میں کیا خیال ہے۔ ہمارے ہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"

میں نے اس بات کاٹ کر کہا۔
"نہیں وہ اپنا آرڈر خود دے گی"

اور یہیں سے لڑائی شروع ہو گئی۔

دو عورتوں کی ملاقات ہوئی تو ایک نے دوسر

دو عورتوں کی ملاقات ہوئی تو ایک نے دوسری سے کہا ، ۔
بہن تم نے کچھ سنا ۔۔۔۔ ؟ نازیہ کے میاں کا ہارٹ فیل ہوگیا ہے ۔

ارے وہ کیسے ؟ ؟ دوسری نے پوچھا ۔

وہ اسطرح کہ دونوں میاں بیوی میں لڑائی ہورہی تھی ، اس دوران نازیہ نے اپنے شوہر سے کہا مجھے ابھی کے ابھی تم سے طلاق چاہئیے ۔

تو کیا وہ صدمے سے مر گیا ؟ ؟ ؟

ارے نہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔وہ اچانک اتنی بڑی خوشی برداشت نہیں کرسکا