لطیفہ

امریکہ کے ایک صدر بہت حاضر دماغ تھے۔ ا

امریکہ کے ایک صدر بہت حاضر دماغ تھے۔
ایک دن ایک غیر ملکی صحافی ان سے ملنے کے لیے پہنچا تو وہ جوتوں پر پالش کر رہے تھے۔
صحافی نے حیرت سے پوچھا۔"آپ اپنے جوتوں پر پالش کر رہے ہیں۔?"
صدر نے سنجدگی سے جواب دیا۔"تو کیا آپ دوسروں کے جوتوں پر پالش کرتے ہیں۔"

ایک انشورنس کمپنی کا ایجنٹ ایک آدمی کو پ

ایک انشورنس کمپنی کا ایجنٹ ایک آدمی کو پالیسی خریدنے کے لیے قائل کر رہا تھا اس نے کہا کہ:آپ کی وفات کے بعد آپکی بیوی بچوں کو فوراً بچاس ہزار کا چیک مل جائے گا
وہ آدمی بولا:اگر میں مر جاؤں تو اس کی کیا ضمانت ہے کہ آپ لوگ میرے بیوی بچوں کو فوراً بچاس ہزار روپے ادا کر دیں گے
صاحب ایک واقعہ سن لیجیے! ایجنٹ نے کہا:
ہمارا دفتر بلڈنگ کی آٹھویں منزل پر ہے ایک روز اتفاق یہ ہوا کہ ہمارے مینجر صاحب کھڑکی سے سر نکال کر اُوپر دیکھ رہے تھے ۔سترھویں منزل سے ایک آدمی گر پڑا۔ مینجر صاحب اُسے پہنچانتے تھے وہ ہمارا پالیسی ہولڈر تھا مینجر صاحب نے فوراً پچاس ہزار کاچیک لکھا اور دوڑ کر کھڑکی پر آئے ،جب وہ آدمی گرتے ہوئے ہماری کھڑکی کے قریب سے گزرا تو مینجر صاحب نے برق رفتاری سے اسکے ہاتھ میں چیک دےدیا

ایک آدمی مٹھائی والی دکان پر گیا اور پ

ایک آدمی مٹھائی والی دکان پر گیا اور پوچھنے لگا:
بھائی یہ لڈو کتنے کے ہیں؟
حلوائی:سو روپے کلو
آدمی: ٹھیک ہے ۔ ۔ ۔دو کلو دے دو ۔ ۔ ۔ ۔اور یہ امرتیاں کتنے کی ہیں؟
حلوائی: اسی روپے کلو
آدمی: بالکل ٹھیک ہے ۔ ۔ ۔ یہ بھی دو کلو دے دو ۔ ۔ ۔اور یہ پیٹھا کس طرح بیچ رہے ہو؟
حلوائی: ستر روپے کلو
آدمی خوش ہوتے ہوئے: واہ جی واہ بہت سستا ہے تین کلو دے دو اور یہ برفی؟
حلوائی نے برفی کا ریٹ بھی بتا دیا،اُس نے وہ بھی دو کلو تلوا لی،جب پندرہ بیس کلو مٹھائی ہو چکی تو ہاتھ میں پکڑی ہوئی بالٹی حلوائی کی طرف بڑھائی اور کہنے لگا:
ساری مٹھائی اس میں ڈال دو
حلوائی نے ساری مٹھائی بالٹی میں ڈال دی تو وہ کہنے لگا:
اب بالٹی کو اچھی طرح ہلاؤ جب ساری مٹھائی مل جائے تو اس میں سے آدھا کلو مجھے دے دو آج میرا مکس مٹھائی کھانے کو بڑا دل کر رہا ہے

ایک آدمی نے رات چار بجے یونہی بیٹھے بیٹھ

ایک آدمی نے رات چار بجے یونہی بیٹھے بیٹھے فون گھما دیا دوسری طرف سے نیند میں ڈوبی ہوئی آواز سنائی دی
ہیلو ۔ ۔ ۔ ۔کون بول رہا ہے؟
جی میں بول رہا ہوں
نیند میں سوتے شخص نے جھنجھلا کر کہا: میں کون؟
جی میں احمد۔ لیکن آپ مجھے نہیں جانتے!
دوسری طرف والا غصے سے بولا:تو رات چار بجے فون کیوں کیا ہے؟
اس وقت ٹیلی فون کی کال کا ریٹ کم ہو جاتا ہے اس لئے

ایک امریکی نے اپنے پڑوسی کو نشانے بازی ک

ایک امریکی نے اپنے پڑوسی کو نشانے بازی کی مشق کرتے دیکھا تو اس کے پاس جا کر بولا:
آپ کو بندوق احتیاط سے چلانی چاہیے کل آپ کی چلائی ہوئی گولی میری بیوی کو لگتے لگتے رہ گئی
امریکی بولا:اوہ ایم ویری سوری۔ برائے مہربانی مجھے معاف کر دیجیے اور یہ لیجیے بندوق آپ اس کے بدلے میں میری بیوی پر ایک کی بجائے دو گولیاں چلا لیجیے

]ایک سردار جی ویسٹ انڈیز انڈیا سیریز کے

]ایک سردار جی ویسٹ انڈیز انڈیا سیریز کے میچ دیکھنے کے لئے ویسٹ انڈیز گئے انھوں نے ویسٹ انڈیز کے ساحلوں کے بارے بہت سن رکھا تھا سو وہ سمندر کنارے سن باتھ کے لئے چلے گئے
کچھ دیر گزری تھی کہ ایک انگریز کا گزر ہوا اور اس نے سردار جی سے پوچھا آر یو ریلیکسنگ ؟
سردار جی بولے نو نو آئی ایم ناٹ ریلیکسنگ
آئی ایم ہرنام سنگھ
کچھ دیر مزید گزری کہ ایک سیاہ فام عورت نے گزرتے ھوئے پھر وہی سوال دہرایا
سردار جی کا جواب پھر وہی تھا
خیر جو بھی وہاں سے گزرتا وہ یہی پوچھتارہا سردار جی کا سکون غارت ہو گیا
اور وہ آگ بگولا ہو کر ایک طرف چل دیئے
کچھ دور جانے کے بعد ان کو ایک اور سردار منہ پر ہیٹ لئے لیٹا نظر آیا
ہرنام سنگھ نے اس کے منہ سے ہیٹ پیچھے کیا اور پوچھا
آر یو ریلیکسنگ ؟
دوسرے سردار جی نے جواب دیا
یس آئی ایم ریلیکسنگ
ہرنام سنگھ نے ایک زور کا طمانچہ اس کے منہ پر مارا اور کہا
“اوئے کھوتے دے پتر توں ایتھے پیا ایں تے اوتھے تینوں سارے لب رئے نیں“

"]ایک سردار جی جنرل سٹور سے شاپنگ کرتے ہ

"]ایک سردار جی جنرل سٹور سے شاپنگ کرتے ہوئے، دوکاندار سے پوچھتے ہیں:
“اس تیل کے ڈبے کا گفٹ کہاں ہے؟“
دوکاندار:
“سردار جی اس کے ساتھ کوئی گفٹ نہیں“
سردار جی:
“اوئے اس پر لکھا ہے ‘کولسٹرول فری‘“

آپ کی کار ایک جانب سے نیلے رنگ کی ہے اور

آپ کی کار ایک جانب سے نیلے رنگ کی ہے اور دوسری طرف سے سبز رنگ کی ہے؟ ایک صاحب نے دوسرے سے پوچھا:
کیا آپ بتانا چاہیں گے کہ کار کو دو رنگوں میں رنگانے کی وجہ کیا ہے؟
اس لئے جناب کہ میں بہت اختیاط پسند ہوں اگر میری کار سے کوئی حادثہ ہو جائے تو دو چشم دید گواہ عدالت میں نیلے اور سبز رنگ کے چکر میں پڑ کر یہ گواہی دیں گے کہ جائے حادثہ پر جو کار دیکھی گئی تھی وہ نیلے رنگ کی تھی اور دوسرا گواہ یہ بتائے گا کہ جناب میں تو سبز رنگ کی کار دیکھی تھی اور اس طرح عدالت الجھ ائے گی

ا یک بچے نے اپنے دوستوں کے سا منے ایک پہ

ا یک بچے نے اپنے دوستوں کے سا منے ایک پہیلی رکھی۔۔
کچھ چیونٹیاں ایک قطار میں ہیں۔ سب سے آگے والی چیونٹی کہتی ہے کہ اس کے پیچھے دو چیونٹیاں ہیں۔ سب سے پیچھے والی چیونٹی کہتی ہے کہ اس کے آگے دو چیونٹیاں ہیں۔ مگر درمیان والی چیونٹی کہتی ہے کہ میرے آگے ایک اور پیچھے دو چیونٹیاں ہیں۔
نمام د وستوں نے بہت کوشش کی مگر کوئی صحیع جواب نہ دے سکا۔ آخر بچے نیے سب سے شرط ہارنے کے پانچ روپے لینے کے بعد صحیع جواب بتایا کہ در اصل درمیان والی چیونٹی جھوٹ بول رہی ہے کل تین چیونٹیاں ہیں۔