لطیفہ

آخری خواہشامریکا میں ایک قاتل کو بجل

آخری خواہش
امریکا میں ایک قاتل کو بجلی کی کرسی کے ذریعے سزائے موت دی جانے والی تھی۔ جب اسے کرسی پر بٹھایا جا چکا تو جلاد نے پوچھا۔
”تمہاری کوئی آخری خواہش ہے تو بتا دو۔“
اس پر مجرم نے کہا۔
”بس آپ میرا ہاتھ پکڑ لیں، تاکہ مجھے حوصلہ رہے۔

منیر صاحب نے نیا گھر بنایا۔اپنے دوست اح

منیر صاحب نے نیا گھر بنایا۔اپنے دوست احباب کو دعوت د ی۔باقی گھر دکھانے کے بعد باہر آکر بتانے لگے:“یہ گرم پانی کا سو ئمنگ پول ہے کھبی کھبی گرم پانی میں نہانےکو دل کرتا ہے۔یہ ٹھنڈے پانی کا پول ہے۔کھبی کھبی ٹھنڈے پانی میں نہانے کو دل کرتا ہے۔“تھوڑی دور ایک خالی پول تھا۔ایک دوست نے پوچھا:“منیرصاحب:یہ کس لئے ہے؟“منیر صاحب "نے جواب دیا:“کھبی کھبی نہ نہانے کو بھی دل کرتا ہے

ایک انتخابی تقریردوستوں نہ تو میں ک‏وئ

ایک انتخابی تقریر
دوستوں نہ تو میں ک‏وئ لیڈر ہوں نہ پلیڈر ـ لیڈری کر گۓ وہ سردار جن ارتھی میں پانچ من گلاب کے پھول ـ ویسے پانچ من گلاب کے پھولوں کو اگر ایک لا‏ئن میں رکھا جاۓ تو پانچ میل لمبی لا‏ئن بنتی ھے ـ گلاب کا گلقند بھی بنتا ھے جو قبض کی بیماری کے لیۓ بھت مفید ھے ـ قبض بیماریوں جڑ ہے ـ جڑوں کی اور بھی بھت سی قسمیں ھیں ؛ مثلاء کیکر کی جڑ ؛ تمے کی جڑ وغیرہ ـ
لیکن خوبوزہ جڑ کو نھیں بلکھ خربوزے کو دیکھ کر رنگ پکڑتا ہے ـ رنگ جرمنی بڑے پکے ہوتے ہیں ـ جرمنی میں ایک بادشاہ تھا جسے جنگیں لڑنے کا بہت شوق تھا ـ اس نے دو جنگیں لڑیں فرسٹ ورڈ وار اور سیکنڈ ورڈ وار ـ اس کے بعد آتا ہے منگلوار اور پھر بہدوار جو کہ الیکشن کا دن ہے ـ میرا انتخابی نشان گدھا ہے لہزا گدھے کو ووٹ دے کر عقلمندی کا ثبوت دیں ـ اور گدھے کو کامیاب بنائں ـ شکریہ

اُستاد نے کلاس میں ایک لڑکے سے پوچھا:بتا

اُستاد نے کلاس میں ایک لڑکے سے پوچھا:بتاؤ یہ شعر کس کا ہے؟
سرہانے میر کے آہستہ بولو
ابھی روتے روتے سو گیا ہے
لڑکا:سر یہ شعر میر تقی میر کی والدہ کا ہے
کیا؟۔ استاد نے چونک کر اس کی طرف دیکھا
جی سر یہ اُس وقت کی بات ہے جب میر تقی میر سکول میں پڑھتے تھے ایک دن ہوم ورک نہ کرنے کی وجہ سے استاد نے ان کی بہت پٹائی کی جس پر وہ روتے روتے گھر آئے اور سو گئے جس پر ان کی والدہ نے یہ شعر کہا:
سرہانے میر کے آہستہ بولو
ابھی روتے روتے سو گیا ہے

ایک آدمی اپنے شرابی بھائی کو رات کے وقت

ایک آدمی اپنے شرابی بھائی کو رات کے وقت گھر لے جارہا تھا۔راستے میں ایک پل پر سے گزرتے ہوئے شرابی نے دریا میں چاند کا عکس دیکھ کر اپنے بھائی سے پوچھا "یہ کیا ہے"
بھائی نے بیزاری سے بتایا"یہ چاند ہے"
"ہائیں!"نشے میں دھت شرابی نے چونکتے ہوئے کہا"تو کیا میں اتنا اوپر آگیا ہوں"

ایک امریکی بڑے فخر سے بول رہا تھا : کہ

ایک امریکی بڑے فخر سے بول رہا تھا
: کہ ہماری ریاست ٹیکساس کے کیا کہنے ۔۔۔ آپ پیر کی صبح کو ٹرین پر سوار ہوں ۔۔۔ اس کے بعد رات ، پھر منگل کا دن، اور پھر رات اور پھر بدھ کا دن بھی سفر کرتے رہیں ۔۔ اور جب بدھ کی شام کو ٹرین سے اتریں گے ۔۔۔ پھر ۔۔۔بھی ٹیکساس کی ریاست ختم نہیں ہوئی ہو گی ۔۔۔
ساتھ بیٹھا ہو پاکستانی بولا : کوئی بات نہیں ۔۔۔ ہمارے پاکستان میں اس سے بھی زیادہ سست رفتار ٹرینیں چلتی ہیں ۔۔۔: