لطیفے

warning: Creating default object from empty value in /home/freeurdujokes/public_html/modules/taxonomy/taxonomy.pages.inc on line 33.

"پتا نہیں ان کو کیا ھو گیا ھے۔ مجھ سے

"پتا نہیں ان کو کیا ھو گیا ھے۔ مجھ سے رکھے رکھےرہتے ھیں۔اب تو میرے ساتھ سیدھے منہ بات بھی نہیں کرتےمیں تو بہت پریشان ھو گئی ھوں" نئی نویلی دلہن نے اپنی ساس کو کہا

پر ھوا کیا?۔ساس نے پوچھا

"کیا بتاؤں اب میں آپکو۔ پیر کو کھچڑی پکائی تو انہوں نے بہت زیادہ پسند کی اور تعریف بھی کی۔ منگل کو کھچڑی پکائی تو بہت پسند کی۔ بدھ کو پکائی تو چپ چاپ کھا لی۔ لیکن آج جب جمعرات کو کھچڑی کو دیکھا تو چلا اٹھے اور بولے"مجھے نفرت ھے کھچڑی سے۔لے جاؤ اسے"

ایک دن غالب ایک کمرے میں بند ھو کر شترنج کھیل رہے تھے

ایسےمیں ان کا ایک دوست آ گیا اور کہنے لگا کہ میں نے تو سنا تھا کہ رمضان میں شیطان بند کر دئیے جاتے ھیں اور تم تو شیطانی کھیل کھیل رہے ھو

"میں بھی تو بند ھوں نا" غالب نے جواب دیا

اکبر الہ آبادی کے دور میں ایک شخص نے ج

اکبر الہ آبادی کے دور میں ایک شخص نے جوتوں کی نئی دوکان کھولی اور ان سے کہا کہ اس پر کوئی شعر کہہ دیں۔ اکبر آبادی صاحب نے اسی وقت شعر پڑھا۔
شو میکری کی ہم نے کھولی ھے دوکان آج
روزی کو ہم کمائیں گے جوتوں کے زور سے

Syndicate content