لطیفے

امریکہ کے ایک صدر بہت حاضر دماغ تھے۔ ا

امریکہ کے ایک صدر بہت حاضر دماغ تھے۔
ایک دن ایک غیر ملکی صحافی ان سے ملنے کے لیے پہنچا تو وہ جوتوں پر پالش کر رہے تھے۔
صحافی نے حیرت سے پوچھا۔"آپ اپنے جوتوں پر پالش کر رہے ہیں۔?"
صدر نے سنجدگی سے جواب دیا۔"تو کیا آپ دوسروں کے جوتوں پر پالش کرتے ہیں۔"

]ایک سردار جی ویسٹ انڈیز انڈیا سیریز کے

]ایک سردار جی ویسٹ انڈیز انڈیا سیریز کے میچ دیکھنے کے لئے ویسٹ انڈیز گئے انھوں نے ویسٹ انڈیز کے ساحلوں کے بارے بہت سن رکھا تھا سو وہ سمندر کنارے سن باتھ کے لئے چلے گئے
کچھ دیر گزری تھی کہ ایک انگریز کا گزر ہوا اور اس نے سردار جی سے پوچھا آر یو ریلیکسنگ ؟
سردار جی بولے نو نو آئی ایم ناٹ ریلیکسنگ
آئی ایم ہرنام سنگھ
کچھ دیر مزید گزری کہ ایک سیاہ فام عورت نے گزرتے ھوئے پھر وہی سوال دہرایا
سردار جی کا جواب پھر وہی تھا
خیر جو بھی وہاں سے گزرتا وہ یہی پوچھتارہا سردار جی کا سکون غارت ہو گیا
اور وہ آگ بگولا ہو کر ایک طرف چل دیئے
کچھ دور جانے کے بعد ان کو ایک اور سردار منہ پر ہیٹ لئے لیٹا نظر آیا
ہرنام سنگھ نے اس کے منہ سے ہیٹ پیچھے کیا اور پوچھا
آر یو ریلیکسنگ ؟
دوسرے سردار جی نے جواب دیا
یس آئی ایم ریلیکسنگ
ہرنام سنگھ نے ایک زور کا طمانچہ اس کے منہ پر مارا اور کہا
“اوئے کھوتے دے پتر توں ایتھے پیا ایں تے اوتھے تینوں سارے لب رئے نیں“

"]ایک سردار جی جنرل سٹور سے شاپنگ کرتے ہ

"]ایک سردار جی جنرل سٹور سے شاپنگ کرتے ہوئے، دوکاندار سے پوچھتے ہیں:
“اس تیل کے ڈبے کا گفٹ کہاں ہے؟“
دوکاندار:
“سردار جی اس کے ساتھ کوئی گفٹ نہیں“
سردار جی:
“اوئے اس پر لکھا ہے ‘کولسٹرول فری‘“

آپ کی کار ایک جانب سے نیلے رنگ کی ہے اور

آپ کی کار ایک جانب سے نیلے رنگ کی ہے اور دوسری طرف سے سبز رنگ کی ہے؟ ایک صاحب نے دوسرے سے پوچھا:
کیا آپ بتانا چاہیں گے کہ کار کو دو رنگوں میں رنگانے کی وجہ کیا ہے؟
اس لئے جناب کہ میں بہت اختیاط پسند ہوں اگر میری کار سے کوئی حادثہ ہو جائے تو دو چشم دید گواہ عدالت میں نیلے اور سبز رنگ کے چکر میں پڑ کر یہ گواہی دیں گے کہ جائے حادثہ پر جو کار دیکھی گئی تھی وہ نیلے رنگ کی تھی اور دوسرا گواہ یہ بتائے گا کہ جناب میں تو سبز رنگ کی کار دیکھی تھی اور اس طرح عدالت الجھ ائے گی

ا یک بچے نے اپنے دوستوں کے سا منے ایک پہ

ا یک بچے نے اپنے دوستوں کے سا منے ایک پہیلی رکھی۔۔
کچھ چیونٹیاں ایک قطار میں ہیں۔ سب سے آگے والی چیونٹی کہتی ہے کہ اس کے پیچھے دو چیونٹیاں ہیں۔ سب سے پیچھے والی چیونٹی کہتی ہے کہ اس کے آگے دو چیونٹیاں ہیں۔ مگر درمیان والی چیونٹی کہتی ہے کہ میرے آگے ایک اور پیچھے دو چیونٹیاں ہیں۔
نمام د وستوں نے بہت کوشش کی مگر کوئی صحیع جواب نہ دے سکا۔ آخر بچے نیے سب سے شرط ہارنے کے پانچ روپے لینے کے بعد صحیع جواب بتایا کہ در اصل درمیان والی چیونٹی جھوٹ بول رہی ہے کل تین چیونٹیاں ہیں۔

آخری خواہشامریکا میں ایک قاتل کو بجل

آخری خواہش
امریکا میں ایک قاتل کو بجلی کی کرسی کے ذریعے سزائے موت دی جانے والی تھی۔ جب اسے کرسی پر بٹھایا جا چکا تو جلاد نے پوچھا۔
”تمہاری کوئی آخری خواہش ہے تو بتا دو۔“
اس پر مجرم نے کہا۔
”بس آپ میرا ہاتھ پکڑ لیں، تاکہ مجھے حوصلہ رہے۔

منیر صاحب نے نیا گھر بنایا۔اپنے دوست اح

منیر صاحب نے نیا گھر بنایا۔اپنے دوست احباب کو دعوت د ی۔باقی گھر دکھانے کے بعد باہر آکر بتانے لگے:“یہ گرم پانی کا سو ئمنگ پول ہے کھبی کھبی گرم پانی میں نہانےکو دل کرتا ہے۔یہ ٹھنڈے پانی کا پول ہے۔کھبی کھبی ٹھنڈے پانی میں نہانے کو دل کرتا ہے۔“تھوڑی دور ایک خالی پول تھا۔ایک دوست نے پوچھا:“منیرصاحب:یہ کس لئے ہے؟“منیر صاحب "نے جواب دیا:“کھبی کھبی نہ نہانے کو بھی دل کرتا ہے

اُستاد نے کلاس میں ایک لڑکے سے پوچھا:بتا

اُستاد نے کلاس میں ایک لڑکے سے پوچھا:بتاؤ یہ شعر کس کا ہے؟
سرہانے میر کے آہستہ بولو
ابھی روتے روتے سو گیا ہے
لڑکا:سر یہ شعر میر تقی میر کی والدہ کا ہے
کیا؟۔ استاد نے چونک کر اس کی طرف دیکھا
جی سر یہ اُس وقت کی بات ہے جب میر تقی میر سکول میں پڑھتے تھے ایک دن ہوم ورک نہ کرنے کی وجہ سے استاد نے ان کی بہت پٹائی کی جس پر وہ روتے روتے گھر آئے اور سو گئے جس پر ان کی والدہ نے یہ شعر کہا:
سرہانے میر کے آہستہ بولو
ابھی روتے روتے سو گیا ہے