لطیفے

warning: Creating default object from empty value in /home/freeurdujokes/public_html/modules/taxonomy/taxonomy.pages.inc on line 33.

دو سیاست دان زور شور سے بحث کر رہے تھے۔

دو سیاست دان زور شور سے بحث کر رہے تھے۔ آخر ایک نے جھلا کر کہا۔

”میں جانتا ہوں تم کس کے اشاروں پر ناچ رہے ہو۔“

دوسرے نے فوراً کہا:

”سیاسی بحث میں میری بیوی کو نہ گھسیٹو۔“

میں اپنی بیوی کو اپنے ساتھ ایک ہوٹل میں

میں اپنی بیوی کو اپنے ساتھ ایک ہوٹل میں لے آیا۔
بیرا میرا پاس آیا وہ بولا "سر آپ کیا کھانا پسند کریں گے۔"
میں نے کہا۔
"کچن لولی پاپ اور فش بریانی"
"سر۔ بھینس کے بارے میں کیا خیال ہے۔ ہمارے ہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"

میں نے اس بات کاٹ کر کہا۔
"نہیں وہ اپنا آرڈر خود دے گی"

اور یہیں سے لڑائی شروع ہو گئی۔

دو عورتوں کی ملاقات ہوئی تو ایک نے دوسر

دو عورتوں کی ملاقات ہوئی تو ایک نے دوسری سے کہا ، ۔
بہن تم نے کچھ سنا ۔۔۔۔ ؟ نازیہ کے میاں کا ہارٹ فیل ہوگیا ہے ۔

ارے وہ کیسے ؟ ؟ دوسری نے پوچھا ۔

وہ اسطرح کہ دونوں میاں بیوی میں لڑائی ہورہی تھی ، اس دوران نازیہ نے اپنے شوہر سے کہا مجھے ابھی کے ابھی تم سے طلاق چاہئیے ۔

تو کیا وہ صدمے سے مر گیا ؟ ؟ ؟

ارے نہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔وہ اچانک اتنی بڑی خوشی برداشت نہیں کرسکا

ایک عورت جب اپنے کمرے میں داخل ہوئی تو

ایک عورت جب اپنے کمرے میں داخل ہوئی تو اس نے دیکھا کہ اس کا شوہر نے ہاتھ میں مکھیاں مارنے والا چمٹا پکڑ رکھا ہے۔

عورت نے پوچھا "یہ کیا کر رہے ہو?"

"مکھیوں کا شکار کر رہا ہوں"
مرد نے جواب دیا۔

"اوہ ۔ ۔ ۔ ۔ ابھی تک کچھ ہاتھ آیا۔"

"بالکل، 3 مزکر مکھیاں، اور 2 مونث مکھیاں ماریں ہیں۔"

عورت نے حیران ہو کر پوچھا "تمہیں کیسے پتہ چلا کہ کون سی مکھیاں مذکر ہیں اور کون سے مونث"

مرد نے جواب دیا

"تین مکھیاں ٹی۔وی ریموٹ پر بیٹھی ہوئی تھیں۔ اور دو فون پر"

انسپکٹر نے ایک کانسٹیبل کو ایک مجرم کی چ

انسپکٹر نے ایک کانسٹیبل کو ایک مجرم کی چھ تصویریں دیں اور کہا
جاؤ، اس مجرم کو پکڑ کر لاؤ
شام کو کانسٹیبل واپس آیا اور بڑے فخر سے کہا
جناب، پانچ مجرم پکڑے جا چُکے ہیں، چھٹے کی تلاش جاری ہے

Syndicate content