لڑکی کے لطیفے

اس سیکشن میں لڑکی اور لڑکیوں سے متعلق لطائف شامل ہیں

نتیجے کے اعلان کے بعدپہلی لڑکی (روتے

نتیجے کے اعلان کے بعد

پہلی لڑکی (روتے ہوئے): آں! پھر سے اکیانوے فیصد

دوسری لڑکی(روتے ہوئے): تین بار دہرانے کے بعد بھی ترانوے فیصد

تیسری لڑکی (بہت زیادہ روتے ہوئے): میں ترانوے فیصد نمبرز کے ساتھ مما کو کیا منہ دکھاوں گی؟

چوتھی لڑکی (سب سے زیادہ روتے ہوئے): صرف چھیانوے فیصد۔۔کہاں کمی رہ گئی تھی۔۔۔

نتیجے کے بعد لڑکے

پہلا لڑکا:تیرے بھائی نے اس بار فیل ہونے کا سلسلہ ختم کر دیا۔۔۔اس بار پورے چوالیس فیصد۔۔دے تالی

دوسرا لڑکا: پاپا تو ناچ اٹھیں گے جب انھیں پتا چلے گا ان کا بیٹا پاس ہو گیا۔۔

تیسرا لڑکا: وہ تو سر نے نقل کرنے دے دی تو بیالیس فیصد آ گئے ورنہ بینڈ بج گیا تھا جانی۔۔۔

چوتھا لڑکا: تیرا بھائی باڈر کو ہاتھ لگا آیا ہے۔۔پورے تینتیس فیصد۔۔۔نا ایک کم نا ایک زیادہ۔۔جی اوہ شیرا۔۔۔

لڑکیاں بھی عجیب ہوتیں ہیںایک دفعہ ایک

لڑکیاں بھی عجیب ہوتیں ہیں
ایک دفعہ ایک لڑکی آرٹ گیلری گئیں
ایک جگہ دیکھ کر غصے سے مالک سے کہنے لگیں
اس بھیانک تصویر کو آپ آرٹ کہتے ہیں ؟
مالک نے معصومیت سے لڑکی کو دیکھ کر کہا ...
خاتون یہ تصویر نہیں آئینہ ہے

دست شناس نے اس ہاتھ دیکھتے ہوئے۔مس ن

دست شناس نے اس ہاتھ دیکھتے ہوئے۔
مس ناز صاحبہ! جلد ہی کوئی فلمساز، ڈائریکٹر یا ٹی وی

پروڈیوسر آپ کو دیکھے گا اور پھر ایک ہی سال بعد آپ ملک کی

سب سے نامور اور ہر دلعزیز ہیروئن بن جائیں گے۔
بھئی آپ بھی عجیب دست شناس ہیں سب ایک سی باتیں

بتاتے ہیں ۔ کل میری سہیلی شمس اور پرسوں میری سہیلی

چمکیلی کے ہاتھ دیکھ کر بھی آپ نے یہی پیشین گوئی کی

تھی اور انہیں بھی مشہور ہیروئن بن جانے کی خوشخبری

سنائی تھی۔
میں مجبور ہوں مس ناز صاحبہ! آج کے دور کی کوئی بھی لڑکی

اس سے کم درجے کی پیشین گوئی سننا نہیں چاہتی۔

وحیدہ . بھئی تم تو بڑی بدل گئی ہو۔ پہل

وحیدہ . بھئی تم تو بڑی بدل گئی ہو۔ پہلے موٹی تھی اب دبلی

ہو گئی ہو۔پہلے تمہارے بالوں کی رنگت سنہری تھی اب سیاہ ہو

چکی ہے۔
پہلے تمہاری نظر بالکل ٹھیک تھی اب نظر کی کمزوری کی وجہ

سے تم نے چشمہ لگا رکھا ہے
پہلے تم بھدی معلوم ہوتی تھیں اب خوبصورت نظر آ رہی ہو۔
دوسری لڑکی نے تعجب سے پہلی کو دیکھا۔ پھر بولی
میرانام وحیدہ نہیں رخسانہ ہے۔
پہلی نے کہا :واہ بھئی واہ!
بڑی شریر ہو تم ، اپنا نام تک بدل چکی ہو۔

ایک نواب کی بیٹی بات بات پر شیخی بگھار

ایک نواب کی بیٹی بات بات پر شیخی بگھارتی تھی۔ میں نواب کی بیٹی ہوں۔ ماں نے اس کے جھوٹے وقار کو ختم کرنے کے لیے سختی سے کہا۔
آئندہ کبھی یہ مت کہنا کہ میں نواب کی بیٹی ہوں۔
ایک روز ان کے گھر ایک خاتون آ گئی جس نے باتوں باتوں میں لڑکی سے پوچھا۔
تم نواب کی بیٹی ہو؟ لڑکی فوراً بول اٹھی میرا تو ایسا ہی خیال ہے۔ مگر ماں کہتی ہے کہ میں نواب کی بیٹی نہیں ہوں۔

بیوی نے شوہر سے کہا ’’گھر میں لڑکی جوا

بیوی نے شوہر سے کہا ’’گھر میں لڑکی جوان ہو گئی ہے اور آپ کو کچھ پرواہی نہیں‘‘۔
’’تو کیا کروں؟‘‘ شوہر نے بے بسی سے پوچھا۔
’’بیگم ، تلاش تو کر رہا ہوں لیکن کروں ، جو بھی لڑکا ملتا ہے۔ احمق ، کام چور اور معمولی شکل و صورت کا ہی ملتا ہے‘‘۔
’’لو اور سنو . اگر میرے والد بھی یہ سوچتے تو میں تو اب تک کنواری ہی بیٹھی رہتی۔‘‘ بیگم نے تنک کر جواب دیا۔

ایک مولوی صاحب سر ہلا کر وعظ کر رہے تھ

ایک مولوی صاحب سر ہلا کر وعظ کر رہے تھے کہ اتنے میں ان کی چھوٹی لڑکی آئی اور کہا۔
گھر پر بہت ضروری کام ہے اس لئے آپ فوراً گھر آجائیے۔
مولوی صاحب نے کہا۔
بیٹی میں کیسے جا سکتا ہوں میں تو وعظ کر رہاہوں۔
لڑکی نے کہا : اباجان آپ کوئی فکر نہ کریں میں آپ کے آنے تک سر ہلاتی رہو ں گی۔