مقدمے کی سماعت آخری مراحل میں تھی۔ ملز

مقدمے کی سماعت آخری مراحل میں تھی۔ ملزم نے مطالبہ کر دیا کہ وہ اپنے وکیل صفائی کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہے اس لئے اسے وکیل تبدیل کرنے کا موقع دیا جائے۔
جج صاحب ناگواری سے بولے۔ ’’پولیس نے تمہیں جیولرز کی دکان میں ڈاکا ڈالتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا ہے۔ دکاندار نے بھی تمہیں پہچان لیا ہے زیورات تمہارے قبضے سے برآمد ہوئے ہیں۔ا س کے علاوہ تم آٹھ مرتبہ کے سزا یافتہ ہو۔ تمہارے خیال میں اب کوئی دوسرا وکیل تمہارے دفاع میں کیا کہہ سکتا ہے؟‘‘
’’یہی تو میں جاننا چاہتا ہوں۔‘‘ ملزم نے جواب دیا۔