ملا نصیرالدین کے لطیفے

اس سیکشن میں ملا نصیرالدین کے دلچسپ لطیفے شامل ہیں۔ ملا نصیر الدین کو ملا نصر الدین بھی کہا جاتا ہے

ملا نصیرالدین

مُلا نصیرالدین 1208ء کو ”حورتو“ نامی گاؤں میں پیدا ہوئے جو تُرکی کے صوبہ حشار میں واقع ہے ۔ ان کے والد کا نام آفندی اور والدہ کا نام صدیقہ خانم تھا ۔ والد ایک مسجد کے پیش امام تھے ۔ ملا نصیرالدین بعد میں ”اک شہر“ نامی شہر میں جا کر بس گئے تھے ۔ 1284ء میں اسی شہر میں ان کا انتقال ہوگیا ۔
ان کے مزار کے لیے ایک دروازہ بنایا گیا اور بڑا سا تالا لگا کر اسے مضبوطی سے بند کر دیا گیا ۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ مزار کے چاروں طرف کی دیواریں غائب تھیں ، کیونکہ مُلا نے ایسا ہی چاہا تھا ۔ یہ ان کی زندگی کا آخری مذاق تھا ۔ 1907ء میں اس مزار کو دوبارہ تعمیر کیا گیا جو آج بھی قائم ہے ۔

ملا نصیرالدین اپنی ذات میں لطیفوں ، چٹکلوں اور حاضر جوابیوں کی ایک دنیا آباد کیے ہوئے تھے ۔ ان کی انہی خوبیوں کی وجہ سے ان کی شہرت دنیا ترکی سے نکل کر دنیا کے مختلف ممالک میں پھیل گئی ۔ تُرک انہیں ”حوجا“ یعنی استاد کے نام سے پکارتے ۔ ان سے وابستہ چند دلچسپ واقعات درج ذیل ہیں ۔

ایک دن ملا نصیر الدین بازار سے ایک سیر گ

ایک دن ملا نصیر الدین بازار سے ایک سیر گوشت لائے اور ایک

دوست کو کھانے پر بلایا. جب کھانا شروع کیا تو پلیٹ میں

گوشت کا ٹکڑا موجود نہیں تھا۔ بیوی سے پوچھنے پر پتہ چلا کہ

گوشت بلی نے کھا لیاہے۔ بلی سامنے ہی موجودتھی۔ ملا نے

بلی پکڑی اور ترازو میں ڈالا کر بلی کا وزن کیا تو بلی ایک سیر

نکلی۔ ملا کو غصہ آیا اور بیوی سے کہنے لگا بیگم ایک سیر بلی

تو گوشت کہاں ہے اور ایک سیر گوشت ہے تو بلی کہاں ہے؟

ملا نصیر الدین ایک دفعہ ایک استاد سے ب

ملا نصیر الدین ایک دفعہ ایک استاد سے باجا سیکھنے گئے تو پوچھا۔
آپ کی فیس کتنی ہے۔
استاد نے جواب دیا۔
پہلے مہینے کی تین دینار . اور پھر ہر مہینے ایک دینار۔
ملا بولے۔
اچھا تو پھر میرا نام لکھ لیں میں دوسرے مہینے سے آؤں گا۔

ملا نصیر الدین نے بازار میں ایک مزدور سے

ملا نصیر الدین نے بازار میں ایک مزدور سے کہا:میرا یہ سامان لے چلو
مزدور:ٹھیک ہے جناب ،لیکن آپ کا گھر کہاں ہے؟
ملا سخت غصے سے:بدمعاش! تم یقیناً چور ہو تم کیا سمھتے ہو میں تمھیں اپنے گھر کا پتا دوں گا

ایک ان پڑھ زمیندار خط لے کر ملا نصیر الد

ایک ان پڑھ زمیندار خط لے کر ملا نصیر الدین کے پاس پہنچا۔ملا نے اتفاقاً بڑی پگڑی پہنی ہوئی تھی پگڑی اس زمانے میں عالموں کی نشانی ہوتی تھی
زمیندار نے ان کو خط پڑھنے کو کہا۔ ملا نے کہا:
میں خط نہیں پڑھ سکتا
زمیندار بولا:اتنی بڑی پگڑی باندھی ہوئی ہے اور خط نہیں پڑھ سکتے
ملا نے فورا پگڑی اپنے سر سے اُتار کر زمیندار کے سر پر کھ دی اور کہا:
اب پگڑی تمھارے سر پر ہے خود ہی پڑھ لو اپنا خط ۔ ۔ ۔ ۔!۔

ملا نصیر ایک دفعہ ایک استاد سے باجا سی

ملا نصیر ایک دفعہ ایک استاد سے باجا سیکھنے گئے تو پوچھا:
آپ کی فیس کتنی ہے؟
استاد نے جواب دیا:پہلے مہینے کی تین دینار ۔ ۔ ۔ ۔اور پھر ہر مہینے کا ایک دینا
ملا بولے:اچھا تو پھر میرا نام لکھ لیں میں دوسرے مہینے سے آؤں گا

ملا نصیر الدین اپنے دوستوں کو شکار کے فر

ملا نصیر الدین اپنے دوستوں کو شکار کے فرضی قصے سناتا رہتا تھا کہ ایک مرتبہ دوست اسے شکار پر لے گئے ایک مرغابی پانی کی سطح پر تیرتی ہوئی نظر آئی
سب نے ملا سے کہا کہ وہ نشانہ بازی کے جوہر دکھائیں
ملا نے بندوق چلائی تو نشانہ خطا گیا اور مرغابی اُڑ گئی
ملا بالکل شرمندہ نہ ہوا بلکہ اس اُڑتی ہوئی مرغابی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حیرت سے کہنے لگے:
میں نے زندگی میں پہلی مرتبہ مری ہوئی مرغابی کو اُڑتے ہوئے دیکھا ہے

ملا نصیر الدین سے ایک شخص نے عاریتاً گ

ملا نصیر الدین سے ایک شخص نے عاریتاً گدھا مانگا ۔ملا نے بہانہ بنایہ کہ وہ آج صبح ہی ایک دوست مانگ کر لے گیا اتنے میں اندر سے گدھے کی آواز آئی
دوست نے ملا سے کہا:گدھا تو اندر موجود ہے
ملا نے غصے سے کہا:عجیب انسان ہو ،انسان کی بات کا تمھیں یقین نہیں آ رہا اور ایک جانور کی آواز کا یقین کر رہے ہو

سکاٹ لینڈ کے ملا نصیر الدین میک ڈونلڈ

سکاٹ لینڈ کے ملا نصیر الدین میک ڈونلڈ نے ایک مٹھائی کی دکان کھولی
جب اُسے ایک شاگرد کی تلاش ہوئی تو ایک دوست نے پوچھا:
تمھیں کیسا ملازم درکار ہے،نیا کام کرنے والا ہو یا پرانا،منجھا ہوا شادی شدہ یا کنوارہ، بوڑھا یا جوان؟
میک ڈولنڈ نے جواب دیا:ان سب باتوں کی کوئی اہمیت نہیں ہے اُمید وار صرف ایک شرط پوری کرتا ہو کہ وہ ذیابیطس کا مریض ہو تاکہ وہ میری مٹھائی خود ہی نہ کھاتا رہے

مُلا نصیر الدین سے کسی نے پوچھا:”پستے کا

مُلا نصیر الدین سے کسی نے پوچھا:”پستے کا حلوہ مزیدار ہوتا ہے یا بادام کا“۔
مُلا نے جواب دیا: معاملہ انصاف کا ہے میں فریقین کی عدم موجودگی میں فیصلہ نہیں کر سکتا دونوں کو حاضر کروتو فوراً بتادوں گا“۔