ملا نصیرالدین کے لطیفے

  • warning: Creating default object from empty value in /home/freeurdujokes/public_html/modules/taxonomy/taxonomy.pages.inc on line 33.
  • user warning: Table './freeurdujokes/cache_filter' is marked as crashed and should be repaired query: SELECT data, created, headers, expire, serialized FROM cache_filter WHERE cid = '1:8864ebeb732611c576a9ef38aca5efcf' in /home/freeurdujokes/public_html/includes/cache.inc on line 27.
  • user warning: Table './freeurdujokes/cache_filter' is marked as crashed and should be repaired query: UPDATE cache_filter SET data = '<p>ایک دن ملا نصیر الدین بازار سے ایک سیر گوشت لائے اور ایک </p>\n<p>دوست کو کھانے پر بلایا. جب کھانا شروع کیا تو پلیٹ میں </p>\n<p>گوشت کا ٹکڑا موجود نہیں تھا۔ بیوی سے پوچھنے پر پتہ چلا کہ </p>\n<p>گوشت بلی نے کھا لیاہے۔ بلی سامنے ہی موجودتھی۔ ملا نے </p>\n<p>بلی پکڑی اور ترازو میں ڈالا کر بلی کا وزن کیا تو بلی ایک سیر </p>\n<p>نکلی۔ ملا کو غصہ آیا اور بیوی سے کہنے لگا بیگم ایک سیر بلی </p>\n<p>تو گوشت کہاں ہے اور ایک سیر گوشت ہے تو بلی کہاں ہے؟</p>\n', created = 1490848955, expire = 1490935355, headers = '', serialized = 0 WHERE cid = '1:8864ebeb732611c576a9ef38aca5efcf' in /home/freeurdujokes/public_html/includes/cache.inc on line 112.
  • user warning: Table './freeurdujokes/cache_filter' is marked as crashed and should be repaired query: SELECT data, created, headers, expire, serialized FROM cache_filter WHERE cid = '1:1c9cda499ef6a37584d0ab2bfece409c' in /home/freeurdujokes/public_html/includes/cache.inc on line 27.
  • user warning: Table './freeurdujokes/cache_filter' is marked as crashed and should be repaired query: UPDATE cache_filter SET data = '<p>ملا نصیر الدین ایک دفعہ ایک استاد سے باجا سیکھنے گئے تو پوچھا۔<br />\nآپ کی فیس کتنی ہے۔<br />\nاستاد نے جواب دیا۔<br />\nپہلے مہینے کی تین دینار . اور پھر ہر مہینے ایک دینار۔<br />\nملا بولے۔<br />\nاچھا تو پھر میرا نام لکھ لیں میں دوسرے مہینے سے آؤں گا۔</p>\n', created = 1490848955, expire = 1490935355, headers = '', serialized = 0 WHERE cid = '1:1c9cda499ef6a37584d0ab2bfece409c' in /home/freeurdujokes/public_html/includes/cache.inc on line 112.
  • user warning: Table './freeurdujokes/cache_filter' is marked as crashed and should be repaired query: SELECT data, created, headers, expire, serialized FROM cache_filter WHERE cid = '1:914703be235eb0ab9dd7c5a886db405a' in /home/freeurdujokes/public_html/includes/cache.inc on line 27.
  • user warning: Table './freeurdujokes/cache_filter' is marked as crashed and should be repaired query: UPDATE cache_filter SET data = '<p>ایک بار ملا نصیر الدین کا گدھا مر گیا تو گاؤں کے شریر بچوں نے مذاق میں رونا شروع کردیا۔<br />\n گاؤں کے چودھری نے انہیں منع کیا تو ملا نصیر الدین نے کہا \" انہیں رونے دیجئے۔ مرحوم ان کا بھائی تھا۔\"</p>\n', created = 1490848955, expire = 1490935355, headers = '', serialized = 0 WHERE cid = '1:914703be235eb0ab9dd7c5a886db405a' in /home/freeurdujokes/public_html/includes/cache.inc on line 112.
  • user warning: Table './freeurdujokes/cache_filter' is marked as crashed and should be repaired query: SELECT data, created, headers, expire, serialized FROM cache_filter WHERE cid = '1:4441c0bbede32370f5ff3ec1548dddc0' in /home/freeurdujokes/public_html/includes/cache.inc on line 27.
  • user warning: Table './freeurdujokes/cache_filter' is marked as crashed and should be repaired query: UPDATE cache_filter SET data = '<p>ملا نصیر الدین نے بازار میں ایک مزدور سے کہا:میرا یہ سامان لے چلو<br />\nمزدور:ٹھیک ہے جناب ،لیکن آپ کا گھر کہاں ہے؟<br />\nملا سخت غصے سے:بدمعاش! تم یقیناً چور ہو تم کیا سمھتے ہو میں تمھیں اپنے گھر کا پتا دوں گا</p>\n', created = 1490848955, expire = 1490935355, headers = '', serialized = 0 WHERE cid = '1:4441c0bbede32370f5ff3ec1548dddc0' in /home/freeurdujokes/public_html/includes/cache.inc on line 112.
  • user warning: Table './freeurdujokes/cache_filter' is marked as crashed and should be repaired query: SELECT data, created, headers, expire, serialized FROM cache_filter WHERE cid = '1:7babd1c57d1f76d01a5513ad1b7cfafe' in /home/freeurdujokes/public_html/includes/cache.inc on line 27.
  • user warning: Table './freeurdujokes/cache_filter' is marked as crashed and should be repaired query: UPDATE cache_filter SET data = '<p>ایک ان پڑھ زمیندار خط لے کر ملا نصیر الدین کے پاس پہنچا۔ملا نے اتفاقاً بڑی پگڑی پہنی ہوئی تھی پگڑی اس زمانے میں عالموں کی نشانی ہوتی تھی<br />\nزمیندار نے ان کو خط پڑھنے کو کہا۔ ملا نے کہا:<br />\nمیں خط نہیں پڑھ سکتا<br />\nزمیندار بولا:اتنی بڑی پگڑی باندھی ہوئی ہے اور خط نہیں پڑھ سکتے<br />\nملا نے فورا پگڑی اپنے سر سے اُتار کر زمیندار کے سر پر کھ دی اور کہا:<br />\nاب پگڑی تمھارے سر پر ہے خود ہی پڑھ لو اپنا خط ۔ ۔ ۔ ۔!۔</p>\n', created = 1490848955, expire = 1490935355, headers = '', serialized = 0 WHERE cid = '1:7babd1c57d1f76d01a5513ad1b7cfafe' in /home/freeurdujokes/public_html/includes/cache.inc on line 112.
  • user warning: Table './freeurdujokes/cache_filter' is marked as crashed and should be repaired query: SELECT data, created, headers, expire, serialized FROM cache_filter WHERE cid = '2:15a4c373ca9426ce0f4beb79abf6d8a8' in /home/freeurdujokes/public_html/includes/cache.inc on line 27.
  • user warning: Table './freeurdujokes/cache_filter' is marked as crashed and should be repaired query: SELECT data, created, headers, expire, serialized FROM cache_filter WHERE cid = '2:4c70e2cdcbf962ac4ec9fff9e46f9b05' in /home/freeurdujokes/public_html/includes/cache.inc on line 27.
  • user warning: Table './freeurdujokes/cache_filter' is marked as crashed and should be repaired query: SELECT data, created, headers, expire, serialized FROM cache_filter WHERE cid = '2:0855055faa5769cc17f8af0af3872566' in /home/freeurdujokes/public_html/includes/cache.inc on line 27.
  • user warning: Table './freeurdujokes/cache_filter' is marked as crashed and should be repaired query: SELECT data, created, headers, expire, serialized FROM cache_filter WHERE cid = '2:3daa926919d3ddaaf949282f224bbbbb' in /home/freeurdujokes/public_html/includes/cache.inc on line 27.
اس سیکشن میں ملا نصیرالدین کے دلچسپ لطیفے شامل ہیں۔ ملا نصیر الدین کو ملا نصر الدین بھی کہا جاتا ہے ملا نصیرالدین مُلا نصیرالدین 1208ء کو ”حورتو“ نامی گاؤں میں پیدا ہوئے جو تُرکی کے صوبہ حشار میں واقع ہے ۔ ان کے والد کا نام آفندی اور والدہ کا نام صدیقہ خانم تھا ۔ والد ایک مسجد کے پیش امام تھے ۔ ملا نصیرالدین بعد میں ”اک شہر“ نامی شہر میں جا کر بس گئے تھے ۔ 1284ء میں اسی شہر میں ان کا انتقال ہوگیا ۔ ان کے مزار کے لیے ایک دروازہ بنایا گیا اور بڑا سا تالا لگا کر اسے مضبوطی سے بند کر دیا گیا ۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ مزار کے چاروں طرف کی دیواریں غائب تھیں ، کیونکہ مُلا نے ایسا ہی چاہا تھا ۔ یہ ان کی زندگی کا آخری مذاق تھا ۔ 1907ء میں اس مزار کو دوبارہ تعمیر کیا گیا جو آج بھی قائم ہے ۔ ملا نصیرالدین اپنی ذات میں لطیفوں ، چٹکلوں اور حاضر جوابیوں کی ایک دنیا آباد کیے ہوئے تھے ۔ ان کی انہی خوبیوں کی وجہ سے ان کی شہرت دنیا ترکی سے نکل کر دنیا کے مختلف ممالک میں پھیل گئی ۔ تُرک انہیں ”حوجا“ یعنی استاد کے نام سے پکارتے ۔ ان سے وابستہ چند دلچسپ واقعات درج ذیل ہیں ۔

ایک دن ملا نصیر الدین بازار سے ایک سیر گ

ایک دن ملا نصیر الدین بازار سے ایک سیر گوشت لائے اور ایک

دوست کو کھانے پر بلایا. جب کھانا شروع کیا تو پلیٹ میں

گوشت کا ٹکڑا موجود نہیں تھا۔ بیوی سے پوچھنے پر پتہ چلا کہ

گوشت بلی نے کھا لیاہے۔ بلی سامنے ہی موجودتھی۔ ملا نے

بلی پکڑی اور ترازو میں ڈالا کر بلی کا وزن کیا تو بلی ایک سیر

نکلی۔ ملا کو غصہ آیا اور بیوی سے کہنے لگا بیگم ایک سیر بلی

تو گوشت کہاں ہے اور ایک سیر گوشت ہے تو بلی کہاں ہے؟

ملا نصیر الدین ایک دفعہ ایک استاد سے ب

ملا نصیر الدین ایک دفعہ ایک استاد سے باجا سیکھنے گئے تو پوچھا۔
آپ کی فیس کتنی ہے۔
استاد نے جواب دیا۔
پہلے مہینے کی تین دینار . اور پھر ہر مہینے ایک دینار۔
ملا بولے۔
اچھا تو پھر میرا نام لکھ لیں میں دوسرے مہینے سے آؤں گا۔

ایک بار ملا نصیر الدین کا گدھا مر

ایک بار ملا نصیر الدین کا گدھا مر گیا تو گاؤں کے شریر بچوں نے مذاق میں رونا شروع کردیا۔
گاؤں کے چودھری نے انہیں منع کیا تو ملا نصیر الدین نے کہا " انہیں رونے دیجئے۔ مرحوم ان کا بھائی تھا۔"

ملا نصیر الدین نے بازار میں ایک مزدور سے

ملا نصیر الدین نے بازار میں ایک مزدور سے کہا:میرا یہ سامان لے چلو
مزدور:ٹھیک ہے جناب ،لیکن آپ کا گھر کہاں ہے؟
ملا سخت غصے سے:بدمعاش! تم یقیناً چور ہو تم کیا سمھتے ہو میں تمھیں اپنے گھر کا پتا دوں گا

ایک ان پڑھ زمیندار خط لے کر ملا نصیر الد

ایک ان پڑھ زمیندار خط لے کر ملا نصیر الدین کے پاس پہنچا۔ملا نے اتفاقاً بڑی پگڑی پہنی ہوئی تھی پگڑی اس زمانے میں عالموں کی نشانی ہوتی تھی
زمیندار نے ان کو خط پڑھنے کو کہا۔ ملا نے کہا:
میں خط نہیں پڑھ سکتا
زمیندار بولا:اتنی بڑی پگڑی باندھی ہوئی ہے اور خط نہیں پڑھ سکتے
ملا نے فورا پگڑی اپنے سر سے اُتار کر زمیندار کے سر پر کھ دی اور کہا:
اب پگڑی تمھارے سر پر ہے خود ہی پڑھ لو اپنا خط ۔ ۔ ۔ ۔!۔

Syndicate content