مولوی صاحب کے لطیفے

اس سیکشن میں مولوی صاحب کے موضوع سے متعلق دلچسپ لطیفے شامل ھیں۔

تین لوگ مرنے کے بعد جنّت کے دروازے پر پہ

تین لوگ مرنے کے بعد جنّت کے دروازے پر پہنچے
پہلا بولا: میں مولوی ہوں میں نے زندگی بھر عبادت کی ہے مجھے اندر آنے دو..

آواز آئی نیکسٹ
دوسرا بولا:میں ڈاکٹر ہوں، میں نے زندگی بھر لوگوں کی مدد کی ہے مجھے اندر آنے دو…
آواز آئی نیکسٹ

تیسرا بولا: میں شادی شدہ ہوں
آواز آئی، بس کر رُلائے گا کیا، چل اندر آ جا

نماز کے اختتام پر مولوی صاحب نے سب کے

نماز کے اختتام پر مولوی صاحب نے سب کے لیے دعا مانگی۔ مولانا . سیاست دانوں کے لیے بھی دعائے خیر فرما دیجئے۔ ایک سیاست دان نے کہا۔
مولوی صاحب نے اس کی طرف دیکھا۔ پھر دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے۔ یا اﷲ ہمارے ملک کو ہر آفت سے محفوظ رکھ۔

ایک مولوی صاحب سر ہلا کر وعظ کر رہے تھ

ایک مولوی صاحب سر ہلا کر وعظ کر رہے تھے کہ اتنے میں ان کی چھوٹی لڑکی آئی اور کہا۔
گھر پر بہت ضروری کام ہے اس لئے آپ فوراً گھر آجائیے۔
مولوی صاحب نے کہا۔
بیٹی میں کیسے جا سکتا ہوں میں تو وعظ کر رہاہوں۔
لڑکی نے کہا : اباجان آپ کوئی فکر نہ کریں میں آپ کے آنے تک سر ہلاتی رہو ں گی۔

ایک مولوی جماعت کرارہا تھا۔
اس کا وض

ایک مولوی جماعت کرارہا تھا۔


اس کا وضو ٹوٹ گیا 

لیکن مولوی نے نماز پوری پڑھادی۔

جب مولوی نےسلام پھیرا تو پیچھے ایک پٹھان بیٹھا تھا 

اس نےکہا مولوی صاحب مان گیا تیری ڈرائیوری کو 

پنکچر ٹائر کے ساتھ بھی منزل مقصود تک پہنچا دیا۔

ایک مولوی صاحب کھیتوں سے گزرے ،کیا دیکھا

ایک مولوی صاحب کھیتوں سے گزرے ،کیا دیکھا کہ ایک بیل کنوے کے گرد گھومے جارہا ہے اور پانی نکل رہا ہے ، مولوی صاحب نے دیکھا کہ آس پاس بھی کویی نہیں اور بیل اپنا کام بھی کر رہا ہے ، جب ادھر اُدھر دیکھا تو کچھ دور ایک شخص پگڈنڈی پر بیٹھ کر حقہ پی رہا تھا ، مولوی صاحب نے جا کر پوچھا ، اے شخص یہ بیل کیا تمہارا ہے جو خود ہی گھوم گھوم کر کنویں سے پانی نکال رہا ہے ، رُکتا ہی نہیں حالانکہ تم یہاں دور بیٹھے ہو۔ وہ شخص کہتا ہے نہیں نہیں مولانا صاحب اُس کے گلے میں گھنٹی ہے ،وہ جب تک گھومتا رہے گا تو گھنٹی کی آواز آتی رہے گی اور مجھے پتہ چلتا رہے گا کہ بیل پانی نکال رہا ہے ، مولوی صاحب کہتے ہیں ،یہ کیا بات ہویی اگر بیل ایک جگہ کھڑا ہوکر سر ہلاتا رہے تو بھی تو گھنٹی کی آواز آے گی ، وہ شخص کہتا ہے مولوی صاحب ، وہ بیل ہے آپ کی طر ح کام چور نہیں ہے ۔

ایک مولوی صاحب پاکستان سے لندن میں آ گئے

ایک مولوی صاحب پاکستان سے لندن میں آ گئے۔

انہوں نے لندن میں مسلمانوں کے گھروں میں جا جا کر انہیں یہ بتانا شروع کر دیا کہ اب وہ یہاں آ گئے ھیں لہذا انہیں اپنے مذہب اور ایمان کی فکر کی ضرورت نہیں رہی

کسی دل جلے نے کہا :
’’مولوی صاحب یہ کیا ظلم کیا ہے ہم تو آپ کے شر کے خوف سے پاکستان چھوڑ آئے تھے اور آپ یہاں بھی پہنچ گئے ہیں‘‘۔

ایک صاحب، اپنے علاقے کے مولوی صاحب کے پا

ایک صاحب، اپنے علاقے کے مولوی صاحب کے پاس آئے اور پوچھا:
صاحب:مولانا صاحب، کیا وضو کے بغیر نماز ہو جاتی ہے؟
مولانا: نہیں‌جناب۔
صاحب: مولانا صاحب، میرا خیال ہے ہوجاتی ہے!!!
مولانا: نہیں جناب، نہیں‌ہوتی۔
صاحب: تھوڑا سا ڈرتے ہوئے، نہیں مولوی صاحب، میں‌پھر کہہ رہا ہوں ہو جاتی ہے!!
مولانا: جھنجھلاتے ہوئے، ارے صاحب، آپ کوئی بچے تو نہیں کہ اتنا سا دینی مسئلہ نہ سمجھ سکیں۔ نہیں ہوتی بغیر وضو کے نماز۔۔:00013:
صاحب: آہستہ سے، مولانا صاحب، ہو جاتی ہے، میں‌نے خود پڑھ کر دیکھی ہے۔۔۔۔