میاں بیوی کے لطیفے

  • warning: Creating default object from empty value in /home/freeurdujokes/public_html/modules/taxonomy/taxonomy.pages.inc on line 33.
  • user warning: Table './freeurdujokes/cache_filter' is marked as crashed and should be repaired query: SELECT data, created, headers, expire, serialized FROM cache_filter WHERE cid = '1:fbd05f0906965e5b8c58a51c75440468' in /home/freeurdujokes/public_html/includes/cache.inc on line 27.
  • user warning: Table './freeurdujokes/cache_filter' is marked as crashed and should be repaired query: UPDATE cache_filter SET data = '<p>ایک عورت کا شوہر روز رات کو گھر دیر سے آتا تھا۔ اور بیوی کے پوچھنے پر ادھر اُدھر کا بہانہ کر دیتا۔<br />\nایک رات ٹھیک دو بجے اس کے بچے کی آنکھ کھلی تو وہ تقاضا کرنے لگا۔<br />\nامی کوئی کہانی سناؤ.امی کوئی کہانی سناؤ۔<br />\nبس تھوڑی دیر صبرکرو۔ تمہارے ابا آتے ہی ہوں گے وہ ہم دونوں کو کہانی سنائیں گے۔</p>\n', created = 1490848765, expire = 1490935165, headers = '', serialized = 0 WHERE cid = '1:fbd05f0906965e5b8c58a51c75440468' in /home/freeurdujokes/public_html/includes/cache.inc on line 112.
  • user warning: Table './freeurdujokes/cache_filter' is marked as crashed and should be repaired query: SELECT data, created, headers, expire, serialized FROM cache_filter WHERE cid = '1:80f41f309c030d5062c9509d1fb77dec' in /home/freeurdujokes/public_html/includes/cache.inc on line 27.
  • user warning: Table './freeurdujokes/cache_filter' is marked as crashed and should be repaired query: UPDATE cache_filter SET data = '<p>بیوی نئی ساڑھی کے لیے ضد کر رہی تھی۔<br />\nمیاں نے سمجھایا۔<br />\n نیک بخت تمہاری الماری ساڑھیوں سے بھری پڑی ہے۔ نئی ساڑھی پر پیسے ضائع کرنے سے فائدہ۔<br />\nبیوی نے کہا۔<br />\nوہ سب محلے والیوں نے دیکھ رکھی ہیں۔<br />\nاچھا۔ میاں نے کہا۔ تو چلو یوں کرتے ہیں کہ محلہ ہی بدل لیتے ہیں۔</p>\n', created = 1490848765, expire = 1490935165, headers = '', serialized = 0 WHERE cid = '1:80f41f309c030d5062c9509d1fb77dec' in /home/freeurdujokes/public_html/includes/cache.inc on line 112.
  • user warning: Table './freeurdujokes/cache_filter' is marked as crashed and should be repaired query: SELECT data, created, headers, expire, serialized FROM cache_filter WHERE cid = '1:7b0dc09fca4fedaa6f57c37b1a3c488e' in /home/freeurdujokes/public_html/includes/cache.inc on line 27.
  • user warning: Table './freeurdujokes/cache_filter' is marked as crashed and should be repaired query: UPDATE cache_filter SET data = '<p>ایک مصنف کی بیوی نے پڑوسن سے پوچھا: میرے میاں کا ڈرامہ آج کل شہر کے تھیٹر میں چل رہا ہے تم نے اسے دیکھا ہے۔<br />\nپڑوسن بولی: ڈرامہ تو میں نے نہیں دیکھا مگر اس ریہرسل اکثر تمہارے گھر کے اندر ہوتے دیکھی ہے۔</p>\n', created = 1490848765, expire = 1490935165, headers = '', serialized = 0 WHERE cid = '1:7b0dc09fca4fedaa6f57c37b1a3c488e' in /home/freeurdujokes/public_html/includes/cache.inc on line 112.
  • user warning: Table './freeurdujokes/cache_filter' is marked as crashed and should be repaired query: SELECT data, created, headers, expire, serialized FROM cache_filter WHERE cid = '1:b523c7ec5ad35487ec3758e9d20395c7' in /home/freeurdujokes/public_html/includes/cache.inc on line 27.
  • user warning: Table './freeurdujokes/cache_filter' is marked as crashed and should be repaired query: UPDATE cache_filter SET data = '<p>‘‘<br />\nبوڑھے میاں بیوی نے اپنی صحت بحال رکھنے کے لیے روزانہ دو میل پیدل چلنے کا پروگرام بنایا۔ چنانچہ وہ صبح پیدل چلے۔ ایک میل ہی چلے تھے کہ دونوں بہت تھک گئے۔ بوڑھے نے بیوی سے پوچھا: تم تھک تو نہیں گئیں؟<br />\nبیوی بہت تھک گئی تھی لیکن شوہر کی ہمدردی دیکھ کر بولی: ’’نہیںتو ابھی تو میں دو میل اور چل سکتی ہوں۔‘‘<br />\nاس پر بوڑھے نے کہا۔ واپس گھر جاؤ اور کار لے کر آؤ ، میں بہت تھک گیا ہوں۔</p>\n', created = 1490848765, expire = 1490935165, headers = '', serialized = 0 WHERE cid = '1:b523c7ec5ad35487ec3758e9d20395c7' in /home/freeurdujokes/public_html/includes/cache.inc on line 112.
  • user warning: Table './freeurdujokes/cache_filter' is marked as crashed and should be repaired query: SELECT data, created, headers, expire, serialized FROM cache_filter WHERE cid = '1:f8c72939442180daff64d1cb6ec1ea56' in /home/freeurdujokes/public_html/includes/cache.inc on line 27.
  • user warning: Table './freeurdujokes/cache_filter' is marked as crashed and should be repaired query: UPDATE cache_filter SET data = '<p>دو عورتوں کی ملاقات ہوئی تو ایک نے دوسری سے کہا ، ۔<br />\nبہن تم نے کچھ سنا ۔۔۔۔ ؟ نازیہ کے میاں کا ہارٹ فیل ہوگیا ہے ۔</p>\n<p>ارے وہ کیسے ؟ ؟ دوسری نے پوچھا ۔</p>\n<p>وہ اسطرح کہ دونوں میاں بیوی میں لڑائی ہورہی تھی ، اس دوران نازیہ نے اپنے شوہر سے کہا مجھے ابھی کے ابھی تم سے طلاق چاہئیے ۔</p>\n<p>تو کیا وہ صدمے سے مر گیا ؟ ؟ ؟</p>\n<p>ارے نہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔وہ اچانک اتنی بڑی خوشی برداشت نہیں کرسکا</p>\n', created = 1490848765, expire = 1490935165, headers = '', serialized = 0 WHERE cid = '1:f8c72939442180daff64d1cb6ec1ea56' in /home/freeurdujokes/public_html/includes/cache.inc on line 112.
  • user warning: Table './freeurdujokes/cache_filter' is marked as crashed and should be repaired query: SELECT data, created, headers, expire, serialized FROM cache_filter WHERE cid = '2:15a4c373ca9426ce0f4beb79abf6d8a8' in /home/freeurdujokes/public_html/includes/cache.inc on line 27.
  • user warning: Table './freeurdujokes/cache_filter' is marked as crashed and should be repaired query: SELECT data, created, headers, expire, serialized FROM cache_filter WHERE cid = '2:4c70e2cdcbf962ac4ec9fff9e46f9b05' in /home/freeurdujokes/public_html/includes/cache.inc on line 27.
  • user warning: Table './freeurdujokes/cache_filter' is marked as crashed and should be repaired query: SELECT data, created, headers, expire, serialized FROM cache_filter WHERE cid = '2:0855055faa5769cc17f8af0af3872566' in /home/freeurdujokes/public_html/includes/cache.inc on line 27.
  • user warning: Table './freeurdujokes/cache_filter' is marked as crashed and should be repaired query: SELECT data, created, headers, expire, serialized FROM cache_filter WHERE cid = '2:3daa926919d3ddaaf949282f224bbbbb' in /home/freeurdujokes/public_html/includes/cache.inc on line 27.

ایک عورت کا شوہر روز رات کو گھر دیر سے آ

ایک عورت کا شوہر روز رات کو گھر دیر سے آتا تھا۔ اور بیوی کے پوچھنے پر ادھر اُدھر کا بہانہ کر دیتا۔
ایک رات ٹھیک دو بجے اس کے بچے کی آنکھ کھلی تو وہ تقاضا کرنے لگا۔
امی کوئی کہانی سناؤ.امی کوئی کہانی سناؤ۔
بس تھوڑی دیر صبرکرو۔ تمہارے ابا آتے ہی ہوں گے وہ ہم دونوں کو کہانی سنائیں گے۔

بیوی نئی ساڑھی کے لیے ضد کر رہی تھی۔

بیوی نئی ساڑھی کے لیے ضد کر رہی تھی۔
میاں نے سمجھایا۔
نیک بخت تمہاری الماری ساڑھیوں سے بھری پڑی ہے۔ نئی ساڑھی پر پیسے ضائع کرنے سے فائدہ۔
بیوی نے کہا۔
وہ سب محلے والیوں نے دیکھ رکھی ہیں۔
اچھا۔ میاں نے کہا۔ تو چلو یوں کرتے ہیں کہ محلہ ہی بدل لیتے ہیں۔

ایک مصنف کی بیوی نے پڑوسن سے پوچھا: می

ایک مصنف کی بیوی نے پڑوسن سے پوچھا: میرے میاں کا ڈرامہ آج کل شہر کے تھیٹر میں چل رہا ہے تم نے اسے دیکھا ہے۔
پڑوسن بولی: ڈرامہ تو میں نے نہیں دیکھا مگر اس ریہرسل اکثر تمہارے گھر کے اندر ہوتے دیکھی ہے۔

‘‘بوڑھے میاں بیوی نے اپنی صحت بحال رکھ

‘‘
بوڑھے میاں بیوی نے اپنی صحت بحال رکھنے کے لیے روزانہ دو میل پیدل چلنے کا پروگرام بنایا۔ چنانچہ وہ صبح پیدل چلے۔ ایک میل ہی چلے تھے کہ دونوں بہت تھک گئے۔ بوڑھے نے بیوی سے پوچھا: تم تھک تو نہیں گئیں؟
بیوی بہت تھک گئی تھی لیکن شوہر کی ہمدردی دیکھ کر بولی: ’’نہیںتو ابھی تو میں دو میل اور چل سکتی ہوں۔‘‘
اس پر بوڑھے نے کہا۔ واپس گھر جاؤ اور کار لے کر آؤ ، میں بہت تھک گیا ہوں۔

دو عورتوں کی ملاقات ہوئی تو ایک نے دوسر

دو عورتوں کی ملاقات ہوئی تو ایک نے دوسری سے کہا ، ۔
بہن تم نے کچھ سنا ۔۔۔۔ ؟ نازیہ کے میاں کا ہارٹ فیل ہوگیا ہے ۔

ارے وہ کیسے ؟ ؟ دوسری نے پوچھا ۔

وہ اسطرح کہ دونوں میاں بیوی میں لڑائی ہورہی تھی ، اس دوران نازیہ نے اپنے شوہر سے کہا مجھے ابھی کے ابھی تم سے طلاق چاہئیے ۔

تو کیا وہ صدمے سے مر گیا ؟ ؟ ؟

ارے نہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔وہ اچانک اتنی بڑی خوشی برداشت نہیں کرسکا

Syndicate content