وکیل صفائی ایک گواہ سے جرح کر رہاتھا، جو ایک بڑی بڑی سیاہ آنکھوں والی نوجوان ع

وکیل صفائی ایک گواہ سے جرح کر رہاتھا، جو ایک بڑی بڑی سیاہ آنکھوں والی نوجوان عورت تھی۔
’’آپ سوموار کو کہاں تھیں؟‘‘ اس نے پوچھا
عورت بڑے دلکش انداز میں مسکرائی
’’کار میں سفر کر رہی تھی‘‘۔
’’اور منگل کی رات کو کہاں تھیں‘‘۔ وکیل نے دوبارہ پوچھا۔
’’کار میں سفر کر رہی تھی‘‘۔ حسین عورت نے جواب دیا۔،
وکیل نے اس کے اور قریب ہو کر پوچھا۔
’’اور کل رات کو آپ کہاں ہوں گی؟‘‘
وکیل استغاثہ ایک دم اپنی کرسی سے اچھل پڑا۔
’’جناب عالی‘‘ اس نے کہا۔ ’’میں یہ سوال پوچھنے پر اعتراض کر سکتا ہوں۔‘‘
مجسٹریٹ ایک بردبار شریف آدمی تھا۔ اس نے اپنے شانوں کو حرکت دی۔
’’آپ کو کیا اعتراض ہے؟‘‘ مجسٹریٹ نے دریافت کیا۔
وکیل استغاثہ نے اپنا غصہ دباتے ہوئے کہا۔
’’کیونکہ جناب! کل رات کے لیے میں گواہ کو اپنے ہاں کھانے کی دعوت دے رکھی ہے۔‘‘

Share this