پاگلوں کے لطیفے

اس سیکشن میں پاگل ، پاگلوں ، پاگل خانوں ، نفسیاتی امراض سے متعلق لطیفے شامل ہیں۔

وزیراعظم پاگل خانے کا معائنہ کرنے گیا۔

وزیراعظم پاگل خانے کا معائنہ کرنے گیا۔ پاگل خانے کے دروازے

پر اس کی ملاقات ایک پاگل سے ہوئی جوقدرے ٹھیک لگ رہا تھا۔

اس نے وزیر اعظم سے پوچھا تم کون ہو۔ میں اس ملک کا

وزیراعظم ہوں۔ تو پاگل نے جب میں یہاں آیا تھا تو میں بھی یہی

کہتا تھا کہ میں اس ملک کا وزیراعظم ہوں۔ خیر کچھ دن یہاں رہو

گے تو ٹھیک ہو جاؤ گے۔

ایک جہاز کافی بلندی پر اڑ رہا تھا کہ پ

ایک جہاز کافی بلندی پر اڑ رہا تھا کہ پائیلٹ نے اچانک زور زور سے ہنسنا شروع کر دیا۔ لوگوں نے ہنسنے کی وجہ پوچھی تو وہ کھلکھلا کر بولا۔
میں تو یہ سوچ کر ہنس رہا ہوں کہ جب پاگل خانے والوں کو پتہ چلے گا کہ میں فرار ہو گیا ہوں . تو کتنا مزہ آئے گا۔

میں اور میری بیوی کالج کی ری یونین پارٹی

میں اور میری بیوی کالج کی ری یونین پارٹی میں مدعو تھے۔ ہمارے سے اگلے والے ٹیبل پر ایک عورت بیٹھی کبھی کبھی پاگلوں جیسی حرکات کرنے لگتی۔

میں اس کی طرف دیکھا تو میری بیوی نے پوچھا۔ کیا تم اسے جانتے ہو۔
"یہاں یہ میری پرانی منگیتر ہے۔سنا ہے جب میں نے اسے چھوڑا تو تب سے اس کو پاگل پن کے دورے پڑنا شروع ہو گئے ہیں۔"
میری بیوی نے ایک حیرت بھری نگاہ اس پر ڈالی۔ اور کہا
"کوئی اپنے بچ جانے پر اتنا خوش کیسے ہو سکتا ہے کہ پاگل ہو جائے۔"

اور یہاں سے لڑائی شروع ہو گئی۔

پاگل خانے کا دورہ کرنے والی ٹیم نے ایک ک

پاگل خانے کا دورہ کرنے والی ٹیم نے ایک کمرے میں دیکھا کہ میل نرس جیسے ہی پیشنٹ کو انجیکشن لگانے بڑھتاہے پاگل منہ سے فائرنگ کی آوازیں نکالنے لگتااور نرس کی طرف ھاتھ سے پستول کا اشارہ کرتا ہے اور نرس فورا" مرنے کی اداکاری کر کے گر جاتا ہے پھر دوبارہ جیسے ہی انجیکشن لگانے بڑھتا پاگل پھر یہی حرکت کرتا نرس بھی دوبارہ مرنے کی ایکٹنگ کرتامسلسل ایسا کرتے دیکھ کے اک ٹیم ممبر نے آگے بڑھ کے نرس سے کہا کہ
" وہ تو پاگل ہے آپ اپنا کام کریں آپ کیوں اسکا ساتھ دے رہے ہیں"
نرس نے کہا"اگر میں مرنے کی ایکٹنگ نہ کروں تو یہ سمجھتا ہے کہ اسکی پستول خراب ہو گئی ہے اور یہ اٹھ کے مجھ پر جوڈو کراٹے کے وار کر کے مارنے لگتا ہے"

دو پاگل اکٹھے بیٹھے تھے۔ ایک کی جھولی

دو پاگل اکٹھے بیٹھے تھے۔ ایک کی جھولی میں درجن انڈے تھے۔ دونوں آپس میں یوں باتیں کررہے تھے۔

پہلا : یار۔ اگر تم بتا دو کہ میری جھولی میں کیا ہے تو سارے انڈے تجھے دے دوں گا۔ اور اگر یہ بوجھو کہ کتنے ہیں تو بارہ کے بارہ تمھارے ہوگئے۔
دوسرا پاگل۔۔۔ کافی سوچ بچار کے بعد۔۔۔ یار ایک بار پھر سوال دہراؤ۔
پہلا : یار۔ اگر تم بتا دو کہ میری جھولی میں کیا ہے تو سارے انڈے تجھے دے دوں گا۔ اور اگر یہ بوجھو کہ کتنے ہیں تو بارہ کے بارہ تمھارے ہوگئے۔
دوسرا پاگل :۔۔ دیکھو یار میں کوئی خدا تو نہیں کہ ہر چیز بتا سکوں۔
تم ہی بتا دو۔

"]امریکا کے ایک پاگل خانے میں دو ماہرین

"]امریکا کے ایک پاگل خانے میں دو ماہرین نفسیات ایک پاگل کی دماغی حالت کا اندازہ کرنے کے لیے اس سے سوالات کر رہے تھے۔
“امریکا کا پہلا صدر کون تھا؟“ایک ماہر نفسیات نے پوچھا۔
“جارج واشنگٹن۔“پاگل نے جواب دیا۔
“درست۔اور ہمارے دوسرے صدر کون تھے؟“
“جان ایڈم“۔پاگل نے بلا تامل جواب دیا۔
“بلکل ٹھیک۔“ ماہر نفسیات نے کہا اور خاموش ہو کر چند لمحے بعد دوسرے ماہر نفسیات نے اپنے ساتھی کو ٹہوکا دیا اور سرگوشی میں کہا۔
“اس پاگل کی دماغی حالت تو کافی اچھی معلوم ہوتی ہے۔اب تم اس سے امریکا کے تیسرے صدر کا نام بھی پوچھ لو۔“
“میں اصل میں اس لیے رک گیا ہوں کہ امریکا کے تیسرے صدر کا نام تو مجھے خود بھی نہیں معلوم۔“ماہر نفسیات نے بے بسی سے کہا۔

سردار جی کا بچہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔"۔پپا پپا میں

سردار جی کا بچہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔"۔پپا پپا میں نے 5 روپے بچائے بس میں جا کے نہیں بلکے اس کے پیچھے بھاگ کے۔"
سردار جی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔او پاگل ! تجھے 50 روپے بچانے چاہئے تھے ٹیکسی کے پیچھے بھاگ کے۔
سردار : ڈاکٹر مجھے ایک پرابلم ہے Sad
ڈاکٹر : کیا
سردار : بات کرتے وقت آدمی دیکھائی نہیں دیتا Angry
ڈاکٹر : ایسا کب ہوتا ہے
سردار : فون کرتے وقت

اک دریا کے کنارے دو سردار چمچے سے دریا م

اک دریا کے کنارے دو سردار چمچے سے دریا میں دھی ڈال رھے تھے
پٹھان نے دیکھا تو پوچھا
یہ کیا کر رھے ھو؟
سردار :ھم لسّی بنا رھے ھیں۔
پٹھان :ھا ھا ھا
او۔۔۔۔۔ پاگل کا بچہ، لوگ اسی لیے تو تم پر لطیفے بناتا ھیں
اتنی لسّی تمھارا باپ پیے گا؛