پروفیسر کے لطیفے

ایک خبط الحواس پروفیسر صاحب کا دور کا

ایک خبط الحواس پروفیسر صاحب کا دور کا عزیز فوت ہو گیا۔ وہ پروفیسر تعزیت کے لیے اس کے گھر پہنچے۔ تعزیت کے الفاظ انہوں نے یہ ادا کیے کتنی خوشی کی بات ہے کہ آج کی نشست میں آپ سب نے . ایک شخص نے انہیں کہنی ماری اور بتایا کہ یہاں سب لوگ تعزیت کے لیے آئے ہیں۔
پروفیسر صاحب نے کہنا شروع کیا۔
مجھے ابھی ابھی بتایا گیا ہے کہ آج کا یہ مجمع رنج و غم کا اظہار کرنے کے لیے مخصوص ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ میں نے آج تک اتنا خاموش اور پرسکون مجمع زندگی میں نہیں دیکھا۔ میں دل کی گہرائیوں سے منتظمین کو اس کامیابی پر مبارکباد پیش کرتا ہوں اور توقع کرتا ہوں کہ وہ آئندہ بھی جلد از جلد ایسی سنجیدہ اجتماعات منعقد کرتے رہیں گے۔

بیالوجی کے پروفیسر کلاس میں آئے اور لڑ

بیالوجی کے پروفیسر کلاس میں آئے اور لڑکوں سے کہا ’’آج ہم مینڈک کے عصبی نظام کا معائنہ کریں گے‘‘۔ یہ کہہ کر انہوں نے جیب سے کیک کا ایک ٹکڑا نکال کر اسے میز پر رکھا اور حیران ہو کر بولے ! ’’ہیں کیک تو میں نے کھا لیا تھا‘‘۔

اچانک بڑی شدت کا طوفان بادوباراں آگیا۔ د

اچانک بڑی شدت کا طوفان بادوباراں آگیا۔ درخت جڑوں سے اکھڑنے لگے، گاڑیاں ایک دوسرے سے ٹکرا گئیں، مکانوں کی چھتیں اڑنے لگیں۔
ایک غائب دماغ پروفیسر یہاں وہاں بھاگ کر لوگوں کو جمع کر رہے تھے۔ وہ کہ رہے تھے "ہمیں اب یے سوچنا چاہئے کے ایسی حالت میں ہمیں کیا کرنا چاہئے؟"
ایک صاحب ان کو پکڑ کر ایک طرف لے گئے اور بولے۔ "سب سے پہلے گھر جا کر پتلون پہننی چاہئے۔"

تین غیر حاضر دماغ پروفیسر ریلوے اسٹیشن پ

تین غیر حاضر دماغ پروفیسر ریلوے اسٹیشن پر کھڑے باتیں کر رہے تھے وہ تینوں باتیں کرنے میں ایسے محو تھے کے گاڑی کے آنے کی خبر ہی نا ہوئی۔ چند منٹ بعد گاڑی نے سیٹی بجائی تو چونک گئے اور گھبرا کر ایک ڈبے کی طرف دوڑے۔ دو تو کسی طرح چڑھنے میں کامیاب ہو گئے لیکن ایک رہ گئے۔
ایک قلی نے کہا: کوئی بات نہیں صاحب کسی دوسری گاڑی سے چلے جائیے گا۔
پروفیسر نے کہا: "وہ تو میں چلا ہی جاؤں گا لیکن، ان دونوں کا کیا ہوگا جو مجھے چھوڑنے آئے تھے۔"

ایک جہاز کی اسپیشل فلائٹ پر پانچ افراد ب

ایک جہاز کی اسپیشل فلائٹ پر پانچ افراد بیٹھے ہوئے تھے۔جن میں ایک امریکن صدر بش، دوسرا سچن ٹندولکر،تیسرادلائی چھوتا ایک بچہ اور آخری ایک بوڑھا پروفیسر شامل تھا۔

خدا کا کرنا یہ ہوا کہ جہاز میں ایک فنی خرابی ہو گئی۔ مگر جہاز میں ایک پیرا شوٹ کم تھا۔
تو سب سے پہلے سچن اُٹھا اور بولامیں کرکٹ کی دنیا کا سب سے اہم نام ہون اور میری قوم کو میری ضرورت ہے یہ کہہ کر اس نے پیراشوٹ اٹھایا اور جہاز سے باہر چھلانگ لگا دی۔

پھر دلائی لامہ اٹھے اور انہوں نے کہا کہ اس وقت میری قوم بہت مشکلات میں گھری ہوئی ہے میں ان کو اکیلا نہیں چھوڑ سکتا یہ کہہ کر انہوں نے پیراشوٹ اُٹھا یا اور جہاز سے باہر چھلانگ لگا دی۔
اس کے فوری بعد صد بش اٹھا اور اس نے کہا اس وقت میں دنیا میں سب سے عقل مند انسان ہوں اور میں نے بھی عراق اور افغانستان سے شدت پسندوں کو سدھارنا ہے اس لیے میں قربانی نہیں دے سکتا ۔ اس کے ساتھ اس نے ایک بیگ اٹھا یا اور جہاز سے باہر چھلانگ لگا دی۔

اب پروفیسر بچے سے بولا۔ بیٹے میں نے پوری زندگی درس تدریس میں گزار دی ہے اور میں اپنی گزشتہ زندگی سے بہت خوش ہوں اور زندگی کی ساری خوشیاں دیکھ چکا ہوں تم ابھی چھوٹے ہو اور تم نے ابھی بہت کچھ دیکھنا ہے مجھے رہنے دو اور تم پیراشوٹ لے لو۔

بچے نے پروفیسر کی طرف اور مسکرا کر بولا۔ پروفیسر فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہم دونوں کے لیے پیرا شوٹ موجود ہے۔ دنیا کا سب سے عقل مند انسان بش میرا اسکول بیگ لے گیا ہے۔

لیکچر روم میں پروفیسر صاحب لیکچر دے رہے

لیکچر روم میں پروفیسر صاحب لیکچر دے رہے تھے۔کہ ایک بات پر بحث شروع ہو گئ کہ انسان کے مرنے کے بعد روحیں نہیں مرتیں ہیں بلکہ زندہ رہتی ہیں۔کچھ شاگردوں کا نظریہ تھا کہ مرنے کے بعد روحیں ،،،،،کسی دوسرے جسم میں داخل ہو جاتی ہیں۔اس دوران ایک چنچل طالبعلم نے اٹھ کر سوال کیا۔
“ اگر میرے مرنے کے بعد میری روح کسی گدھے کے جسم میں چلی گئی تو پھر کیا ہوگا؟“
پروفیسر صاحب اطمینان سے بولے ۔“تم فکر نہیں کرو روحیں کبھی اپنے پرانے جسم میں واپس نہیں جاتی ہیں۔“

ایک لڑکے نے یونیورسٹی میں داخلہ لیا تو پ

ایک لڑکے نے یونیورسٹی میں داخلہ لیا تو پروفیسر صاحب نے پہلے دن لیکچر دیتے ہوئے کہا:
دیکھو ۔ ۔ ۔ ۔لڑکوں کو لڑکیوں کے ہوسٹل میں جانے کی اجازت نہیں جس نے کسی لڑکی کو چھیڑا اُسے سو روپے جرمانہ ہو جائے گا،دوسری مرتبہ چھیڑا تو دو سو روپیہ اور تیسری مرتبہ چھیڑنے پر پانچ سو روپے جرمانہ ہو جائے گا
یہ سن کر وہ لڑکا سیٹ سے کھڑا ہوا اور پروفیسر صاحب سے بولا:
پروفیسر صاحب ۔ ۔ ۔ ۔یہ باری باری کی بات چھوڑیں ۔ ۔ ۔ ۔یہ بتائیں کے پورے سال کا ریٹ کیا ہے؟