پروفیسر کے لطیفے

warning: Creating default object from empty value in /home/freeurdujokes/public_html/modules/taxonomy/taxonomy.pages.inc on line 33.

ایک پروفیسر نے ایک بالکل نئی طرز کا پی

ایک پروفیسر نے ایک بالکل نئی طرز کا پیراشوٹ تیار کیا ایک روز آزمائش کے لیے جہاز میں سوار ہوئے اور چھلانگ لگا دی۔ دو ہزار کی فٹ کی بلندی پر پہنچ کر انہیں یاد آیا پیراشوٹ تو اندر ہی رہ گیا ہے۔

ایک خبط الحواس پروفیسر صاحب کا دور کا

ایک خبط الحواس پروفیسر صاحب کا دور کا عزیز فوت ہو گیا۔ وہ پروفیسر تعزیت کے لیے اس کے گھر پہنچے۔ تعزیت کے الفاظ انہوں نے یہ ادا کیے کتنی خوشی کی بات ہے کہ آج کی نشست میں آپ سب نے . ایک شخص نے انہیں کہنی ماری اور بتایا کہ یہاں سب لوگ تعزیت کے لیے آئے ہیں۔
پروفیسر صاحب نے کہنا شروع کیا۔

سائنس کے پروفیسر : یہ بتاؤ کہ سونے کو

سائنس کے پروفیسر : یہ بتاؤ کہ سونے کو اگر کھلی ہوا میں رکھ دیا جائے تو کیا ہو گا؟
شاگرد : جناب چوری ہو جائے گا۔

بیالوجی کے پروفیسر کلاس میں آئے اور لڑ

بیالوجی کے پروفیسر کلاس میں آئے اور لڑکوں سے کہا ’’آج ہم مینڈک کے عصبی نظام کا معائنہ کریں گے‘‘۔ یہ کہہ کر انہوں نے جیب سے کیک کا ایک ٹکڑا نکال کر اسے میز پر رکھا اور حیران ہو کر بولے ! ’’ہیں کیک تو میں نے کھا لیا تھا‘‘۔

اچانک بڑی شدت کا طوفان بادوباراں آگیا۔ د

اچانک بڑی شدت کا طوفان بادوباراں آگیا۔ درخت جڑوں سے اکھڑنے لگے، گاڑیاں ایک دوسرے سے ٹکرا گئیں، مکانوں کی چھتیں اڑنے لگیں۔
ایک غائب دماغ پروفیسر یہاں وہاں بھاگ کر لوگوں کو جمع کر رہے تھے۔ وہ کہ رہے تھے "ہمیں اب یے سوچنا چاہئے کے ایسی حالت میں ہمیں کیا کرنا چاہئے؟"
ایک صاحب ان کو پکڑ کر ایک طرف لے گئے اور بولے۔ "سب سے پہلے گھر جا کر پتلون پہننی چاہئے۔"

Syndicate content