پنجابی کے لطیفے

اس سیکشن میں پنجابی کے لطیفے شامل ہیں

دماغ کی بات ہو رہی تھی محفل میں ایک پٹھا

دماغ کی بات ہو رہی تھی محفل میں ایک پٹھان بھی پیٹھا تھا، ایک شخص بولا، کل میں بازار گیا وہاں دماغ بک رہے تھے، سندھی کا دماغ دس ہزار کا، بلوچی کا دماغ بیس ہزار کا، پنجابی کا دماغ پچاس ہزار کا، پٹھان کا دماغ ایک لاکھ کا، یہ سن کر پٹھان بہت خوش ہوا، میں نے بیچنے والے سے پوچھا بھئی پٹھان کا دماغ کیوں اتنا مہنگا ہے تو اس نے کہا: بھئی پچاس پٹھان ماریں تو ایک سے دماغ نکلتا ہے۔ مدثر علی سراج: گجرات www.facebook.com/mudassarsaraj

ایک انگریز کو پنجابی سیکھنے کا بہت شوق ت

ایک انگریز کو پنجابی سیکھنے کا بہت شوق تھا۔ کسی نے اسے بتایا کہ 36 چک کے قدیم بزرگ پنجابی کی تعلیم دیتے ہیں۔
ایک دن انگریز نے بس پر سوار ہو کر 36 چک کی راہ لی۔ بس نے اسے جس جگہ اتارا 36 چک وہاں سے ایک گھنٹے کی پیدل مسافت پر تھا۔ انگریز بس سے اتر کر 36 چک کی طرف چل پڑا۔
تھوڑی دور ہی گیا تھا کہ اس نے ایک کسان کو فصل کاٹ کر اس کے گٹھے بناتے دیکھا۔
انگریز نے پوچھا: oh man تم یہ کیا کرتا؟
کسان نے جواب دیا: گورا صاب! ہم فصل وٹتا۔
انگریز بولا: oh man تم crop کرنا کو what بولتا۔
انگریز آگے چل دیا۔ آگے ایک شخص وان وٹ رہا تھا۔
انگریز نے پوچھا: oh man تم یہ کیا کرتا؟
اس آدمی نے جواب دیا: گورا صاب! ہم وان وٹتا۔
انگریز بولا: oh man تم twist کرنا کو what بولتا۔
انگریز اس شخص کو چھوڑ کر آگے چلا تو کیا دیکھتا ہے کہ ایک دکاندار اداس بیٹھا ہے۔
انگریز نے پوچھا: oh man تم اداس کیوں بیٹھا؟
دکاندار بولا: گورا صاب! سویر دا کج وی نئیں وٹیا۔
انگریز بولا: oh man تم earning کو what بولتا۔
انگریز اسے چھوڑ کر کچھ اور آگے چلا تو ایک شخص کو دیکھا جو پریشانی کے عالم میں آسمان کی طرف دیکھ رہا تھا۔
انگریز نے پوچھا: oh man کیا ہوا؟
وہ شخص بولا: گورا صاب اج بڑا وٹ ہے۔
انگریز بولا: oh man تم humidity کو what بولتا۔
انگریز اسے چھوڑ کر آگے چلا۔ سامنے چودھری کا بیٹا کلف لگے کپڑے پہنے چلا آ رہا تھا۔ انگریز اس سے گلے ملنے کے لئے آگے بڑھا۔
وہ لڑکا بولا: گورا صاب! ذرا آرام نال، کپڑیاں نوں وٹ ناں پا دینا۔
انگریز بولا: oh man تم wrinkles کو what بولتا۔
کچھ آگے جا کر انگریز کو ایک شخص پریشانی کے عالم میں لوٹا پکڑے کھیتوں کی طرف بھاگتا ہوا نظر آیا۔
انگریز نے کہا: oh man ذرا بات تو سنو۔
وہ شخص بولا: گورا صاب واپس آ کر سنتا ہوں، بڑے زور کا وٹ پیا ہے۔
انگریز بولا: oh man تم loose motion کو what بولتا۔
تھوڑا آگے جانے پر انگریز کو ایک بزرگ حقہ پکڑے سامنے سے آتا دکھائی دیا۔
قریب آنے پر انگریز نے پوچھا: oh man یہ 36 چک کتنی دور ہے؟
وہ بولا: وٹو وٹ ٹری جاؤ، زیادہ دور نئیں ہے۔
انگریز بولا: oh man تم path کو what بولتا۔
آگے چلا تو کیا دیکھا کہ دو آدمی آپس میں بری طرح لڑ رہے ہیں۔
گورا لڑائی چھڑانے کے لئے آگے بڑھا تو ان میں سے ایک بولا: گورا صاب تسی وچ نہ آؤ میں اج ایدھے سارے وٹ کڈ دیاں گا۔
انگریز بولا oh man تم immorality کو what بولتا۔
انگریز نے لڑائی بند کرانے کی غرض سے دوسرے آدمی کو سمجھانے کی کوشش کی تو وہ بولا: او جان دیو بادشاؤ، مینوں تے آپ ایدھے تے بڑا وٹ اے۔
انگریز بولا: oh man تم mercilessness کو what بولتا۔
قریب ایک آدمی کھڑا لڑائی دیکھ رہا تھا۔
وہ بولا: گورا صاب! تسی اینوں لڑن دیو ایدھے نال پنگا لتا تے تہانوں وی وٹ کے چپیڑ کڈ مارے گا۔
انگریز بولا: oh man تم fighting کو what بولتا۔
لاچار انگریز آگے چل دیا۔ تھوڑی دور گیا تو کیا دیکھا کہ ایک شخص گم سم بیٹھا ہے۔
انگریز نے پوچھا: یہ آدمی کس سوچ میں ڈوبا ہے؟
جواب ملا: گورا صاب! یہ بڑا میسنا ہے، یہ دڑ وٹ کے بیٹھا ہے۔
انگریز بولا: oh man تم silent کو what بولتا۔
بالآخر انگریز نے یہ کہتے ہوئے واپسی کی راہ لی:
what a comprehensive language, I cant learn it

کیا فائدہانڈیا میں ایک امریکن ہوٹل کا

کیا فائدہ
انڈیا میں ایک امریکن ہوٹل کا راستہ بھول گیا۔ ہیں جی،
اسے دو پولیس مین نظر آئے جو کہ سردار تھے۔ وہ انکے پاس گیا اور انگلش میں ہوٹل کا راستہ پوچھا۔ لیکن سرداروں کو انگلش نہیں آتی تھی اس لئے چپ۔ پھر اس نے جرمن زبان میں پوچھا لیکن جواب ندارد۔ غرض بے چارے امریکن نے سوائے پنجابی کے تقریبا ہر زبان میں بات کرکے دیکھ لی ۔ لیکن ہر زبان سرداروں کے سر پر سے گزر گئی۔ ہیں جی،
آخر تھک ہار کر وہ چلا گیا تو بعد میں ایک سردار بولا۔”یار جیت سنگھا۔ آخر ہمیں بھی ایک دو پردیسی زبانیں سیکھ لینی چاہئیں تاکہ آئیندہ کسی کو کچھ بتا سکیں۔“ ہیں جی،
دوسرے نے جواب دیا۔” کیا فائدہ۔ دیکھا نہیں اس بے چارے کو کتنی زبانیں آتی تھیں لیکن کسی ایک زبان کا بھی اسے فائدہ ہوا ہے۔“ ہیں جی،

پنجاب کے ایک گاؤں میں ایک مشاعر ہو رھا

پنجاب کے ایک گاؤں میں ایک مشاعر ہو رھا تھا ۔
ایک شاعر کو اپنا کلام پیش کرنے کے لئے اسٹیج پر بلایا گیا۔
شاعر نے اپنا کلام شروع کیا
” اندھیرا ھو رھا ھے کسی کِرن کو جگا دو “
یہ سنتے ھی مجمعے میں موجود ایک دیہاتی کھڑا ھو کر غصہ سے سے بولا
تم کون ھوتے ھو کسی ” کی رن “ کو جگانے والے۔
واضح ھو کہ پنجابی زبان میں ” رن “ بیوی کو کہتے ھیں۔

دو دوست تہے ۔ ان میں ایک پنجابی تھا اور

دو دوست تہے ۔ ان میں ایک پنجابی تھا اور دوسرا لکھنؤ سے تھا ، ایک دن پنجابی دوست نے اسے کہا : آو تمہیں مجرا سنوانے لے جاؤں ؟
وہ اسے ساتھ لے گیا ۔ وہاں پنجابن نے کلام پڑھنا شروع کیا
واپسی پر پنجابی دوست نے اس سے مجرے کے بارے میں پوچھا کہ کیسا تھا ؟ تو لکھنؤ والا بولا
" لا حولا ولا ۔ ۔ ارے اس کا تلفظ تو اس کے چال چلن سے بھی زیادہ خراب تھا ۔۔ :

ایک پنجابی ایک دن بازار سے گزر رہا تھا

ایک پنجابی ایک دن بازار سے گزر رہا تھا،دیکھا کہ مختلف چیزوں کی نیلامی ہو رہی ہے۔وہ رک گیا،کئی چیزوں کے بکنے کے بعد،ایک بولنے والے طوطے کی نیلامی شروع ہوئی،
پنجابی کو طوطا بہت اچھا لگا۔اس نے بولی دینی شروع کی
پنجابی:پچاس روپے
دوسری طرف سے آواز آئی:سو روپے
پنجابی:دو سو روپے
آواز آئی:بانچ سو روپے
اب ایک طوطے کے لئے پانچ سو روپے خرچ کرنا بہت زیادہ تھا،مگر بات بھرے بازار میں اُس کی عزت کی تھی اُس نے بولی بڑھائی:سات سو روپے
آواز آئی:ہزار روپے
اب تو وہ بہت پریشان ہوا مگر مسئلہ ناک کا تھا بولا:ڈیڑھ ہزار
آواز آئی :دو پزار
پنجابی:بانچ ہزار
اس پر دوسری طرف مکمل خاموشی چھا گئی اور آخر کار اُسے پانچ ہزار دے کر طوطا خریدنا پڑا،طوطے کا پنجرا ہاتھ میں پکڑ کر اُس نے دکاندار سے پوچھا:
بھائیا ۔ ۔ ۔ ۔میں انے پیسے خرچ کر دتے ۔ ۔ ۔ ۔ایہہ طوطا بولدا وی اے کہ نہیں؟
دکاندار نوٹ گنتے ہوئے بولا:لو بولدا نہیں تے تہاڈے مقابلے تے بولی تہاڈا پیو دے رہیا سی!۔