پولیس کے لطیفے

اس سیکشن میں پولیس سے متعلق دلچسپ لطیفے ، چٹکلے شامل کئے گئے ھیں۔ امید ہے یہ شوخ مجموعہ آپ کو پسند آئے گا۔ اگر آپ کے پاس بھی کوئی پولیس سے متعلقہ لطیفہ ھے تو ضرور یہاں شامل کیجیے۔ شکریہ

ایک بہت ہی عیار اور مکار مجرم کو گرفتار

ایک بہت ہی عیار اور مکار مجرم کو گرفتار کرنے پر انسپکٹر شہباز کو انعام دیتے ھوئے ڈی آئی جی صاحب نے پوچھا :
" انسپکٹر تمہیں کیسے پتا چلا کہ عورت کے بھیس میں وہ مجرم مرد ھے ؟"

انسپکٹر نے سادگی سے جواب دیا : " سر ! مجرم وغیرہ تو مجھے پتا نہیں تھا ۔ ۔ ۔ مجھے تو وہ عورت ہی لگی تھی لیکن ذرا مشکوک دکھائی دے رہی تھی ۔ میں نے اس کا پیچھا شروع کر دیا ۔ وہ ایک اپارٹمنٹ میں گھس کر چیزیں دیکھنے لگی ۔ وہاں بہت سے آئینے بھی لگے ھوئے تھے ۔ جب وہ کسی آئینے کے سامنے نہیں رُکی تب میں سمجھ گیا کہ وہ عورت نہیں ھے ۔۔ "

ایک پاکستانی فرانس میں ایک ھائی وے پر گا

ایک پاکستانی فرانس میں ایک ھائی وے پر گاڑی چلا رھا ھوتا ھے۔
گاڑی چلاتے چلاتے جس موڑ سے اس نے مڑنا ھوتا ھے وہ اس سے چھوٹ جاتا ھے۔ اگلا موڑ بیس میل بعد آنا ھوتا ھے۔ تو وہ پاکستانی اسٹائل میں
گاڑی روک کر تیز رفتار ھائی وے پر ریورس گئیر میں چلانا شروع کر دیتا ھے۔
پیچھے سے آنے والا ٹرک زور سے ٹکرا جاتا ھے۔

ٹریفک پولیس والا آتا ھے پہلے فرنچ ٹرک ڈرائیو سے بات کرتا ھے اور پھر پاکستانی کے پاس آ کر کہتا ھے
آپ سے معذرت خواہ ھیں ٹرک ڈرائیو نے اتنی شراب پی ھوئی ھے کہ مستی میں کہہ رھا ھے آپ ھائی وے پر ریورس گئیر میں چلا رھے تھے۔ ھم اس کو ابھی جیل بھجواتے ھیں۔ شکریہ

ایک شخص رات کو زخمی حالت میں سڑک پر پڑ

ایک شخص رات کو زخمی حالت میں سڑک پر پڑا تھا۔ پولیس نے

ابتدائی رپورٹ تیار کی اور ہوش آنے پر اس شخص سے پوچھا۔
کیا تم شادی شدہ ہو؟
جی میں بیوی کی ٹکر سے نہیں بلکہ گاڑی کی ٹکر سے

زخمی ہوا ہوں۔ اس شخص نے جواب دیا۔

تانگے والے نے سڑک کے درمیان چلنے والی

تانگے والے نے سڑک کے درمیان چلنے والی بڑھیا سے چیخ کر کہا:
’’بچ مائی بچ‘‘۔ لیکن بڑھیا راستے سے نہ ہٹی اور تانگے کے نیچے آ کر زخمی ہو گئی۔ پولیس والے نے تانگے والے کا چالان کر دیا اور پوچھا کہ تم نے جان بوجھ کر ایسا کیا ہے؟ تانگے والا خاموش رہا لیکن بڑھیا بول پڑی:
’’ارے ! اس وقت تو بڑا چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا بچ مائی بچ۔ اب کیوں نہیں بولتا؟

مقدمے کی سماعت آخری مراحل میں تھی۔ ملز

مقدمے کی سماعت آخری مراحل میں تھی۔ ملزم نے مطالبہ کر دیا کہ وہ اپنے وکیل صفائی کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہے اس لئے اسے وکیل تبدیل کرنے کا موقع دیا جائے۔
جج صاحب ناگواری سے بولے۔ ’’پولیس نے تمہیں جیولرز کی دکان میں ڈاکا ڈالتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا ہے۔ دکاندار نے بھی تمہیں پہچان لیا ہے زیورات تمہارے قبضے سے برآمد ہوئے ہیں۔ا س کے علاوہ تم آٹھ مرتبہ کے سزا یافتہ ہو۔ تمہارے خیال میں اب کوئی دوسرا وکیل تمہارے دفاع میں کیا کہہ سکتا ہے؟‘‘
’’یہی تو میں جاننا چاہتا ہوں۔‘‘ ملزم نے جواب دیا۔

’’تم نے پولیس والے کی بے عزتی کی ہے‘

’’تم نے پولیس والے کی بے عزتی کی ہے‘‘۔ سارجنٹ نے غصے سے ملزم کو دیکھا اور پوچھا۔
’’کیا تم نے اسے جھوٹا کہا تھا؟‘‘
’’جی ہاں‘‘
’’تم نے اسے چھچھورا کہا تھا؟‘‘
’’جی ہاں‘‘
’’تم اسے بھینگا، لنگڑا ، احمق اور ناکارہ بھی کہا تھا؟‘‘
’’جی نہیں‘‘ ملزم نے سادگی سے جواب دیا‘‘۔ ’’جناب یہ باتیں تو اس وقت مجھے یاد ہی نہیں آ رہی تھیں‘‘۔

پولیس افسر نے راستہ کاٹ کر گاڑی کو روک

پولیس افسر نے راستہ کاٹ کر گاڑی کو روکا اور اس کی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے ہوئے نوجوان سے غراتے ہوئے پوچھا۔
’’تمہاری تیز رفتاری پر میں نے چیخ کر تمہیں رکنے کا حکم دیا تو تم کیوں نہیں رکے؟‘‘
’’میں معذرت چاہتا ہوں جناب‘‘ ڈرائیور نے ندامت سے کہا۔
’’مجھے اندازہ نہیں ہو سکا کہ کوئی پولیس افسر مجھے روک رہا ہے۔ میں سمجھا کہ کوئی میری گاڑی کے نیچے کچل کر چیخا ہے اس وجہ سے میں نے رکنے کی ضرورت محسوس نہیں کی،‘‘