کالج کے لطیفے

warning: Creating default object from empty value in /home/freeurdujokes/public_html/modules/taxonomy/taxonomy.pages.inc on line 33.
کالج کے لطیفے

شوہر۔ ’’بیگم ! تمہیں یاد ہے میڈیکل ک

شوہر۔ ’’بیگم ! تمہیں یاد ہے میڈیکل کالج میں ایک لڑکا کاشف ہماری کلاس میں پڑھتا تھا ، یونین کا صدر بھی تھا، وہی جو تم سے شادی کرنا چاہتا تھا۔‘‘
بیوی ’’ہاں۔ یاد ہے ، یہ تقریباً تیس سال پہلے کی بات ہے‘‘۔
شوہر۔ ’’آج اس سے ملاقات ہوئی ، وہ تو اتنا موٹا گنجا اور بدہیئت ہو گیا ہے کہ اس نے مجھے پہچانا نہیں۔

میں اور میری بیوی کالج کی ری یونین پارٹی

میں اور میری بیوی کالج کی ری یونین پارٹی میں مدعو تھے۔ ہمارے سے اگلے والے ٹیبل پر ایک عورت بیٹھی کبھی کبھی پاگلوں جیسی حرکات کرنے لگتی۔

میں اس کی طرف دیکھا تو میری بیوی نے پوچھا۔ کیا تم اسے جانتے ہو۔
"یہاں یہ میری پرانی منگیتر ہے۔سنا ہے جب میں نے اسے چھوڑا تو تب سے اس کو پاگل پن کے دورے پڑنا شروع ہو گئے ہیں۔"
میری بیوی نے ایک حیرت بھری نگاہ اس پر ڈالی۔ اور کہا
"کوئی اپنے بچ جانے پر اتنا خوش کیسے ہو سکتا ہے کہ پاگل ہو جائے۔"

اور یہاں سے لڑائی شروع ہو گئی۔

علی گڑھ کالج کے طالبعلموں کو ہدایت کی گئ

علی گڑھ کالج کے طالبعلموں کو ہدایت کی گئ:“وہ کالی اچکن اور کالے جوتے پہن کر آئیں”۔
اگلے روز جس وقت تقریب منعقد ہوئی تو علی گڑھ کالج کے طالبعلم
.
.
.
.
.
.
.
.
.
.
.
.
.
.
صرف کالی اچکن اور کالے جوتے پہن کر آئے

تمہار بیٹا کہاں ہے؟ نظر نہیں آ رہا آج

تمہار بیٹا کہاں ہے؟ نظر نہیں آ رہا آج کل" ایک سردار جی نے دوسرے سردار جی سے پوچھا"

“ وہ کالج چلا گیا ہے۔ “

“ اچھا۔ وہ کیا پڑھ رہا ہے وہاں؟“

“ وہ نہیں پڑھ رہا، بلکہ کالج والے اسے پڑھ رہے ہیں"۔پہلے سردار نے بڑے فلسفیانہ لہجے میں جواب دیا۔

کالج کے پرنسپل نے ایک لڑکے کے والد کو بل

کالج کے پرنسپل نے ایک لڑکے کے والد کو بلوایا اور ان سے پوچھا کہ آپ نے اپنے نوجوان لڑکے کو اتنی بے دردی سے کیوں مارا ۔۔
لڑکے کے والد نے غصے میں آ کر کہا " یہ کل جب نشہ کر کے گھر آیا تو مجھ سے برداشت نہ ہو سکا اور میں نے اس کی پٹائی کر دی ۔۔"
اس پر پرنسپل نے کہا " مگر بہر حال آپ کو اسے اتنی بری طرح سے بھی نہیں مارنا چاہیے تھا ۔۔"
" وہ جی بات دراصل یہ ہے کہ کل میں خود نشے میں تھا ۔۔" لڑکے کے باپ نے بات کو واضح کرتے ہوئے کہا

Syndicate content