ھوٹل کے لطیفے

ایک شخص سوچتا ھے ھوٹل سے مفت کھانا کیسے

ایک شخص سوچتا ھے ھوٹل سے مفت کھانا کیسے کھاؤں۔ اس کا دوست اس کو کہتا ھے یہ کون سی مشکل بات ھے۔

تم ایک مری ھوئی مکھی ساتھ لے جانا۔ خوب کھانا کھانا۔ جب پیٹ بھر جائے تو تھوڑا سا سالن مزید مانگنا۔ اس میں مکھی ڈال کر شور مچا دینا۔ وہ تمہاری منتیں کر کے بھیج دیں گے۔

وہ ایسا ھی کرتا ھے۔ خالی جیب جا کے خوب کھاتا ھے۔ جب آخر میں کہتا ھے تھوڑا سا سالن مزید ڈال دیں تو بیرا کہتا ھے سر ھم معذرت خواہ ھیں سالن ختم ھو گیا ھے۔

تو وہ گھبرا کے کہتا ھے اچھا پھر اس مکھی کا کیا کروں۔

فرمابردار بیوی کیسی ہوتی ہےشوھر: آج کھ

فرمابردار بیوی کیسی ہوتی ہے
شوھر: آج کھانے میں کیا بناؤ گی
بیوی: جو آپ کہیں
شوھر: واہ بھئی واہ ایسا کرو دال چاول بنا لو
بیوی: ابھی کل ہی تو کھائے تھے
شوھر: تو سبزی روٹی بنالو
بیوی: بچے نہیں کھائیں گے
شوھر: تو چھولے پوری بنالو چینج ہوجائے گا
بیوی: جی سا متلا جاتا ہے مجھے ھیوی ھیوی لگتا ہے
شوھر: یار آلو قیمہ بنالو اچھا سا
بیوی: آج منگل ہے گوشت نہیں ملے گا
شوھر: پراٹھہ انڈہ
بیوی: صبح ناشتے میں روز کون کھاتا ہے
شوھر: چل چھوڑ یار ھوٹل سے منگوالیتے ہیں
بیوی: روز روز باھر کا کھانا نقصان دہ ہوتا ہے جانتے ہیں آپ
شوھر: کڑھی چاول
بیوی: دھی کہاں ملے گا اس وقت
شوھر: پلاؤ بنالو چکن کا
بیوی: اس میں ٹائم لگے گا پہلے بتاتے
شوھر: پکوڑے ہی بنالو اسمیں ٹائم نہیں لگے گا
بیوی: وہ کوئی کھانا تھوڑی ہے کھانا بتائیں پراپر
شوھر :پھر کیا بناؤ گی
بیوی: جو آپ کہیں سرتاج

ہوٹل میں ویٹر بھنی ہوئی مرغی کی پلیٹ ر

ہوٹل میں ویٹر بھنی ہوئی مرغی کی پلیٹ رکھ کر جانے لگا تو گاہک نے اسے روک کر کہا۔ یہ دیکھو ، اس کی ایک ٹانگ کہاںگئی.؟ ویٹر نے جواب دیا۔ میرا خیال تھا کہ آپ اسے کھائیں گے اس کے ساتھ رقص نہیں کریں گے۔

ایک آدمی پرانی سی چھکڑا کار پر ہوٹل آی

ایک آدمی پرانی سی چھکڑا کار پر ہوٹل آیا اور ہوٹل کے ملازم سے بولا۔ بھئی ذرا کار کا خیال رکھنا ، میں چائے پینے جا رہا ہوں۔
تھوڑی دیر بعد اس نے واپس آ کر ملازم کو دو روپے ٹپ دی۔ ملازم نے کہا : دو روپے اور دیجئے۔
اس آدمی نے حیرت سے پوچھا وہ کس لیے؟
ملازم: شرمندگی کے۔ کیونکہ جو بھی یہاں سے گزرتا تھا اس کار کو دیکھ کر یہی سمجھتا تھا کہ شاید یہ کار میری ہے۔

جوئے میں گاہکایک دولت مند صاحب کھانا ک

جوئے میں گاہک
ایک دولت مند صاحب کھانا کھانے کے لیے اپنے مخصوص ہوٹل میں پہنچے تو انہیں یہ دیکھ کر بہت حیرانی ہوئی کہ آج ان کی خدمت میں نیا بیرا کھڑا ہے. وہ پرانا بیرا کہاں ہے انہوں نے ڈپٹ کر نئے بیرے سے پوچھا. جناب اب میں ہی آپ کی خدمت کیاکروں گا۔ رات کو جوئے میں میں نے آپ کو جیت لیا ہے۔ بیرے نے انتہائی متانت سے جواب دیا۔

ایک من چلے امیر زادے کو سیر سپاٹے کا

ایک من چلے امیر زادے کو سیر سپاٹے کا شوق تھا ایک مرتبہ وہ پہاڑی علاقے میںگیا۔ اس نے سن رکھا تھا کہ وہاں ویران علاقے میں ایک ریسٹورنٹ ہے جہاں کھانے پینے کی عمدہ چیزیں مہیا کی جاتی ہیں۔ چنانچہ وہ اس پہاڑی ریسٹورنٹ کو تلاش کرنے لگا۔ بڑی کوششوں کے بعد اسے ایک چار دیواری نظر آئی جس کے صحن میں میز اور بنچیں رکھی ہوئی تھیں۔ وہ بیٹھ گیا تو ایک شخص اندر سے نکلا۔ نوجوان نے عمدہ سی کافی لانے کا آرڈر دیا جو لا کر اس کے سامنے رکھ دی گئی۔
’’کافی واقعی نفیس تھی‘‘۔ پینے کے بعد اس نے پیسے پوچھے تو بڑی شرافت سے جواب ملا۔
’’یہ ہوٹل نہیں ہے جہاں آپ بیٹھے ہیں۔ وہ میرا گھر ہے۔‘‘

میں اپنی بیوی کو اپنے ساتھ ایک ہوٹل میں

میں اپنی بیوی کو اپنے ساتھ ایک ہوٹل میں لے آیا۔
بیرا میرا پاس آیا وہ بولا "سر آپ کیا کھانا پسند کریں گے۔"
میں نے کہا۔
"کچن لولی پاپ اور فش بریانی"
"سر۔ بھینس کے بارے میں کیا خیال ہے۔ ہمارے ہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"

میں نے اس بات کاٹ کر کہا۔
"نہیں وہ اپنا آرڈر خود دے گی"

اور یہیں سے لڑائی شروع ہو گئی۔

لڑکا لڑکی سے: تمہارا نام کیا ہےلڑکی: ک

لڑکا لڑکی سے: تمہارا نام کیا ہے
لڑکی: کیوں بتاؤں
لڑکا: اچھا مت بتاؤ، میں نے کون سا تمہیں مرسڈیز کار میں لانگ ڈرائیو پر لے جا کر "فائیو سٹار" ہوٹل میں کھانا کھلانا ہے
لڑکی فورا" بولی: نازیہ، بی کام فائنل ائیر،سامنے والی گلی میں تیسرے مکان کی دوسری منزل پر رہتی ہوں۔