یونیورسٹی کے لطیفے

اس سیکشن میں یونیورسٹی کے لطیفے شامل ہیں

نتیجے کے اعلان کے بعدپہلی لڑکی (روتے

نتیجے کے اعلان کے بعد

پہلی لڑکی (روتے ہوئے): آں! پھر سے اکیانوے فیصد

دوسری لڑکی(روتے ہوئے): تین بار دہرانے کے بعد بھی ترانوے فیصد

تیسری لڑکی (بہت زیادہ روتے ہوئے): میں ترانوے فیصد نمبرز کے ساتھ مما کو کیا منہ دکھاوں گی؟

چوتھی لڑکی (سب سے زیادہ روتے ہوئے): صرف چھیانوے فیصد۔۔کہاں کمی رہ گئی تھی۔۔۔

نتیجے کے بعد لڑکے

پہلا لڑکا:تیرے بھائی نے اس بار فیل ہونے کا سلسلہ ختم کر دیا۔۔۔اس بار پورے چوالیس فیصد۔۔دے تالی

دوسرا لڑکا: پاپا تو ناچ اٹھیں گے جب انھیں پتا چلے گا ان کا بیٹا پاس ہو گیا۔۔

تیسرا لڑکا: وہ تو سر نے نقل کرنے دے دی تو بیالیس فیصد آ گئے ورنہ بینڈ بج گیا تھا جانی۔۔۔

چوتھا لڑکا: تیرا بھائی باڈر کو ہاتھ لگا آیا ہے۔۔پورے تینتیس فیصد۔۔۔نا ایک کم نا ایک زیادہ۔۔جی اوہ شیرا۔۔۔

ڈاکٹر صاحب. مسز زاہدہ نے کہا ’’براہ کر

ڈاکٹر صاحب. مسز زاہدہ نے کہا ’’براہ کرم مجھے بتائیں کہ میں

کس مرض میں مبتلا ہوں۔ آخر مجھے تکلیف کیا ہے۔‘‘
ڈاکٹر مسکراتے بولا۔
آپ کو آنکھوں کے علاج کی ضرورت ہے۔ اگر آپ نے میرے دفتر

کے باہر میرے نام کی پلیٹ کو صحیح طریقے سے پڑھا ہوتا تو آپ

کو بخوبی علم ہو جاتا کہ میں لٹریچر کا ڈاکٹر ہوں اور مقامی

یونیورسٹی میں پڑھا رہا ہوں۔

یونیورسٹی میں داخلے کا فارم پُر کرتے ہوئ

یونیورسٹی میں داخلے کا فارم پُر کرتے ہوئے میرا بیٹا ایک سوال پر ہچکچاہٹ کا شکار ہو گیا
سوال کے جواب میں اُسے بتانا تھا کہ وہ گھر میں کس طرح رہتا ہے۔جواب کے طور پر تین انتخابات دیے گئے تھے کہ''انتہائی صاف ستھرا''، ''زیادہ صفائی ستھرائی سے نہیں'' اور ''فری اسٹائل''
باپ نے کہا:جس طرح تم اپنا کمرہ رکھتے ہو اُسے دیکھ کر تو تمھیں فری اسٹائل پر نشان لگانا چاہیے
آپ درست کہہ رہے ہیں لیکن میں سوچ رہا ہوں کہ اگر میرا روم میٹ مجھے میری ہی طرح کا مل گیا رو فرش پر میری چیزون کے لئے تو جگہ بالکل بھی نہیں رہے گی

ایک لڑکے نے یونیورسٹی میں داخلہ لیا تو پ

ایک لڑکے نے یونیورسٹی میں داخلہ لیا تو پروفیسر صاحب نے پہلے دن لیکچر دیتے ہوئے کہا:
دیکھو ۔ ۔ ۔ ۔لڑکوں کو لڑکیوں کے ہوسٹل میں جانے کی اجازت نہیں جس نے کسی لڑکی کو چھیڑا اُسے سو روپے جرمانہ ہو جائے گا،دوسری مرتبہ چھیڑا تو دو سو روپیہ اور تیسری مرتبہ چھیڑنے پر پانچ سو روپے جرمانہ ہو جائے گا
یہ سن کر وہ لڑکا سیٹ سے کھڑا ہوا اور پروفیسر صاحب سے بولا:
پروفیسر صاحب ۔ ۔ ۔ ۔یہ باری باری کی بات چھوڑیں ۔ ۔ ۔ ۔یہ بتائیں کے پورے سال کا ریٹ کیا ہے؟

ایک دعوت میں ایک صاحب اپنے دوست کو اپنے

ایک دعوت میں ایک صاحب اپنے دوست کو اپنے فرزند عادل کے بارے میں بتارہے تھے کہ صاحبزادہ نے جب سے یونیورسٹی میں داخلہ لیا ہے ہمیشہ لڑکیوں کے جلو میں نظر آتے ہیں۔ جماعت میں لڑکیوں کے ساتھ، لائبریری میں لڑکیوں کے ساتھ، کینٹین میں لڑکیوں کے ساتھ، یہاں تک کہ یونیورسٹی کے باہر سڑکوں پر بھی لڑکیوں کے ساتھ۔ ۔۔۔ پھر دو لمحے خاموش رہنے کے بعد انہوں نے آہستہ سے کہا اگر مجھے پتہ ہوتا کہ حالات اتنے بدل گئے ہیں تو
اسے دوکان سونپ کر دوبارہ اپنی تعلیم کا سلسلہ شروع کردیتا۔

ایک دعوت میں ایک صاحب اپنے دوست کو اپنے

ایک دعوت میں ایک صاحب اپنے دوست کو اپنے فرزند تعلیم کے بارے میں بتارہے تھے کہ صاحبزادہ نے جب سے یونیورسٹی میں داخلہ لیا ہے ہمیشہ لڑکیوں کے جلوس میں نظر آتے ہیں۔ جماعت میں لڑکیوں کے ساتھ، لائبریری میں لڑکیوں کے ساتھ، کینٹین میں لڑکیوں کے ساتھ، یہاں تک کہ یونیورسٹی کے باہر سڑکوں پر بھی لڑکیوں کے ساتھ۔ ۔۔۔ پھر دو لمحے خاموش رہنے کے بعد انہوں نے آہستہ سے کہا اگر مجھے پتہ ہوتا کہ حالات اتنے بدل گئے ہیں تو
اسے دوکان سونپ کر دوبارہ اپنی تعلیم کا سلسلہ شروع کردیتا۔

پنجاب یونیورسٹی کے رجسٹرار ایس پی سنگھا

پنجاب یونیورسٹی کے رجسٹرار ایس پی سنگھا کے گیارہ بچوں کے نام کا آخری حصہ“ سنگھا” تھا۔جب ان کے ہاں بارہواں لڑکا پیدا ہواتو شوکت تھانوی سے مشورہ کیا کہ اس کا کیا نام رکھوں۔اس پر شوکت صاحب نے بے ساختہ کہا:آپ اس کا نام بارہ سنگھا رکھ دیجیے۔

علی گڑھ یونیورسٹی کے ایک پارٹی میں مولان

علی گڑھ یونیورسٹی کے ایک پارٹی میں مولانا جوہر شریک تھے۔ مولانا شریفے کھا کر ان کے بیج ادھر ادھر پھینکتے جا رہے تھے کہ ایک صاحب کی ان پر نظر پڑی۔ قریب آکر ٹوکا کہ "مولانا! آپ بیج کیوں اس طرح پھینک رہے ہیں؟"
مولانا نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔" وہ اس لیے کہ یہاں شریفوں کی بہت کمی ہے۔"
اعتراض کرنے والا اپنا سا منہ لے کر رہ گیا۔

علی گڑھ یونیورسٹی کے ایک پارٹی میں مولان

علی گڑھ یونیورسٹی کے ایک پارٹی میں مولانا جوہر شریک تھے۔ مولانا شریفے کھا کر ان کے بیج ادھر ادھر پھینکتے جا رہے تھے کہ ایک صاحب کی ان پر نظر پڑی۔ قریب آکر ٹوکا کہ "مولانا! آپ بیج کیوں اس طرح پھینک رہے ہیں؟"
مولانا نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔" وہ اس لیے کہ یہاں شریفوں کی بہت کمی ہے۔"
اعتراض کرنے والا اپنا سا منہ لے کر رہ گیا۔