یونیورسٹی کے لطیفے

  • warning: Creating default object from empty value in /home/freeurdujokes/public_html/modules/taxonomy/taxonomy.pages.inc on line 33.
  • user warning: Table './freeurdujokes/cache_filter' is marked as crashed and should be repaired query: SELECT data, created, headers, expire, serialized FROM cache_filter WHERE cid = '1:8a74a887d1c02d044e708f9b773531d3' in /home/freeurdujokes/public_html/includes/cache.inc on line 27.
  • user warning: Table './freeurdujokes/cache_filter' is marked as crashed and should be repaired query: UPDATE cache_filter SET data = '<p>نتیجے کے اعلان کے بعد</p>\n<p>پہلی لڑکی (روتے ہوئے): آں! پھر سے اکیانوے فیصد</p>\n<p>دوسری لڑکی(روتے ہوئے): تین بار دہرانے کے بعد بھی ترانوے فیصد</p>\n', created = 1490849329, expire = 1490935729, headers = '', serialized = 0 WHERE cid = '1:8a74a887d1c02d044e708f9b773531d3' in /home/freeurdujokes/public_html/includes/cache.inc on line 112.
  • user warning: Table './freeurdujokes/cache_filter' is marked as crashed and should be repaired query: SELECT data, created, headers, expire, serialized FROM cache_filter WHERE cid = '1:ade76b850891fa5b420e757ae0ebc929' in /home/freeurdujokes/public_html/includes/cache.inc on line 27.
  • user warning: Table './freeurdujokes/cache_filter' is marked as crashed and should be repaired query: UPDATE cache_filter SET data = '<p>ڈاکٹر صاحب. مسز زاہدہ نے کہا ’’براہ کرم مجھے بتائیں کہ میں </p>\n<p>کس مرض میں مبتلا ہوں۔ آخر مجھے تکلیف کیا ہے۔‘‘<br />\nڈاکٹر مسکراتے بولا۔<br />\nآپ کو آنکھوں کے علاج کی ضرورت ہے۔ اگر آپ نے میرے دفتر </p>\n<p>کے باہر میرے نام کی پلیٹ کو صحیح طریقے سے پڑھا ہوتا تو آپ </p>\n<p>کو بخوبی علم ہو جاتا کہ میں لٹریچر کا ڈاکٹر ہوں اور مقامی </p>\n<p>یونیورسٹی میں پڑھا رہا ہوں۔</p>\n', created = 1490849329, expire = 1490935729, headers = '', serialized = 0 WHERE cid = '1:ade76b850891fa5b420e757ae0ebc929' in /home/freeurdujokes/public_html/includes/cache.inc on line 112.
  • user warning: Table './freeurdujokes/cache_filter' is marked as crashed and should be repaired query: SELECT data, created, headers, expire, serialized FROM cache_filter WHERE cid = '1:1877767ae578972ab7bba5717b6e922e' in /home/freeurdujokes/public_html/includes/cache.inc on line 27.
  • user warning: Table './freeurdujokes/cache_filter' is marked as crashed and should be repaired query: UPDATE cache_filter SET data = '<p>ایک آدمی یونیورسٹی کے چوکیدار سے: یہ یونیورسٹی کیسی ہے؟<br />\nچوکیدار : زبردست، میں نے ایم بی اے یہیں سے کیا اور فوراً نوکری بھی مل گئی۔</p>\n', created = 1490849329, expire = 1490935729, headers = '', serialized = 0 WHERE cid = '1:1877767ae578972ab7bba5717b6e922e' in /home/freeurdujokes/public_html/includes/cache.inc on line 112.
  • user warning: Table './freeurdujokes/cache_filter' is marked as crashed and should be repaired query: SELECT data, created, headers, expire, serialized FROM cache_filter WHERE cid = '1:ca00806e38260196acdb515c68e38445' in /home/freeurdujokes/public_html/includes/cache.inc on line 27.
  • user warning: Table './freeurdujokes/cache_filter' is marked as crashed and should be repaired query: UPDATE cache_filter SET data = '<p>یونیورسٹی میں داخلے کا فارم پُر کرتے ہوئے میرا بیٹا ایک سوال پر ہچکچاہٹ کا شکار ہو گیا<br />\nسوال کے جواب میں اُسے بتانا تھا کہ وہ گھر میں کس طرح رہتا ہے۔جواب کے طور پر تین انتخابات دیے گئے تھے کہ\'\'انتہائی صاف ستھرا\'\'، \'\'زیادہ صفائی ستھرائی سے نہیں\'\' اور \'\'فری اسٹائل\'\'<br />\nباپ نے کہا:جس طرح تم اپنا کمرہ رکھتے ہو اُسے دیکھ کر تو تمھیں فری اسٹائل پر نشان لگانا چاہیے<br />\nآپ درست کہہ رہے ہیں لیکن میں سوچ رہا ہوں کہ اگر میرا روم میٹ مجھے میری ہی طرح کا مل گیا رو فرش پر میری چیزون کے لئے تو جگہ بالکل بھی نہیں رہے گی</p>\n', created = 1490849329, expire = 1490935729, headers = '', serialized = 0 WHERE cid = '1:ca00806e38260196acdb515c68e38445' in /home/freeurdujokes/public_html/includes/cache.inc on line 112.
  • user warning: Table './freeurdujokes/cache_filter' is marked as crashed and should be repaired query: SELECT data, created, headers, expire, serialized FROM cache_filter WHERE cid = '1:5836f3649b8e3e2d07ce186f66503553' in /home/freeurdujokes/public_html/includes/cache.inc on line 27.
  • user warning: Table './freeurdujokes/cache_filter' is marked as crashed and should be repaired query: UPDATE cache_filter SET data = '<p>ایک لڑکے نے یونیورسٹی میں داخلہ لیا تو پروفیسر صاحب نے پہلے دن لیکچر دیتے ہوئے کہا:<br />\nدیکھو ۔ ۔ ۔ ۔لڑکوں کو لڑکیوں کے ہوسٹل میں جانے کی اجازت نہیں جس نے کسی لڑکی کو چھیڑا اُسے سو روپے جرمانہ ہو جائے گا،دوسری مرتبہ چھیڑا تو دو سو روپیہ اور تیسری مرتبہ چھیڑنے پر پانچ سو روپے جرمانہ ہو جائے گا<br />\nیہ سن کر وہ لڑکا سیٹ سے کھڑا ہوا اور پروفیسر صاحب سے بولا:<br />\nپروفیسر صاحب ۔ ۔ ۔ ۔یہ باری باری کی بات چھوڑیں ۔ ۔ ۔ ۔یہ بتائیں کے پورے سال کا ریٹ کیا ہے؟</p>\n', created = 1490849329, expire = 1490935729, headers = '', serialized = 0 WHERE cid = '1:5836f3649b8e3e2d07ce186f66503553' in /home/freeurdujokes/public_html/includes/cache.inc on line 112.
  • user warning: Table './freeurdujokes/cache_filter' is marked as crashed and should be repaired query: SELECT data, created, headers, expire, serialized FROM cache_filter WHERE cid = '2:15a4c373ca9426ce0f4beb79abf6d8a8' in /home/freeurdujokes/public_html/includes/cache.inc on line 27.
  • user warning: Table './freeurdujokes/cache_filter' is marked as crashed and should be repaired query: SELECT data, created, headers, expire, serialized FROM cache_filter WHERE cid = '2:4c70e2cdcbf962ac4ec9fff9e46f9b05' in /home/freeurdujokes/public_html/includes/cache.inc on line 27.
  • user warning: Table './freeurdujokes/cache_filter' is marked as crashed and should be repaired query: SELECT data, created, headers, expire, serialized FROM cache_filter WHERE cid = '2:0855055faa5769cc17f8af0af3872566' in /home/freeurdujokes/public_html/includes/cache.inc on line 27.
  • user warning: Table './freeurdujokes/cache_filter' is marked as crashed and should be repaired query: SELECT data, created, headers, expire, serialized FROM cache_filter WHERE cid = '2:3daa926919d3ddaaf949282f224bbbbb' in /home/freeurdujokes/public_html/includes/cache.inc on line 27.
اس سیکشن میں یونیورسٹی کے لطیفے شامل ہیں

نتیجے کے اعلان کے بعدپہلی لڑکی (روتے

نتیجے کے اعلان کے بعد

پہلی لڑکی (روتے ہوئے): آں! پھر سے اکیانوے فیصد

دوسری لڑکی(روتے ہوئے): تین بار دہرانے کے بعد بھی ترانوے فیصد

ڈاکٹر صاحب. مسز زاہدہ نے کہا ’’براہ کر

ڈاکٹر صاحب. مسز زاہدہ نے کہا ’’براہ کرم مجھے بتائیں کہ میں

کس مرض میں مبتلا ہوں۔ آخر مجھے تکلیف کیا ہے۔‘‘
ڈاکٹر مسکراتے بولا۔
آپ کو آنکھوں کے علاج کی ضرورت ہے۔ اگر آپ نے میرے دفتر

کے باہر میرے نام کی پلیٹ کو صحیح طریقے سے پڑھا ہوتا تو آپ

کو بخوبی علم ہو جاتا کہ میں لٹریچر کا ڈاکٹر ہوں اور مقامی

یونیورسٹی میں پڑھا رہا ہوں۔

ایک آدمی یونیورسٹی کے چوکیدار سے: یہ یون

ایک آدمی یونیورسٹی کے چوکیدار سے: یہ یونیورسٹی کیسی ہے؟
چوکیدار : زبردست، میں نے ایم بی اے یہیں سے کیا اور فوراً نوکری بھی مل گئی۔

یونیورسٹی میں داخلے کا فارم پُر کرتے ہوئ

یونیورسٹی میں داخلے کا فارم پُر کرتے ہوئے میرا بیٹا ایک سوال پر ہچکچاہٹ کا شکار ہو گیا
سوال کے جواب میں اُسے بتانا تھا کہ وہ گھر میں کس طرح رہتا ہے۔جواب کے طور پر تین انتخابات دیے گئے تھے کہ''انتہائی صاف ستھرا''، ''زیادہ صفائی ستھرائی سے نہیں'' اور ''فری اسٹائل''
باپ نے کہا:جس طرح تم اپنا کمرہ رکھتے ہو اُسے دیکھ کر تو تمھیں فری اسٹائل پر نشان لگانا چاہیے
آپ درست کہہ رہے ہیں لیکن میں سوچ رہا ہوں کہ اگر میرا روم میٹ مجھے میری ہی طرح کا مل گیا رو فرش پر میری چیزون کے لئے تو جگہ بالکل بھی نہیں رہے گی

ایک لڑکے نے یونیورسٹی میں داخلہ لیا تو پ

ایک لڑکے نے یونیورسٹی میں داخلہ لیا تو پروفیسر صاحب نے پہلے دن لیکچر دیتے ہوئے کہا:
دیکھو ۔ ۔ ۔ ۔لڑکوں کو لڑکیوں کے ہوسٹل میں جانے کی اجازت نہیں جس نے کسی لڑکی کو چھیڑا اُسے سو روپے جرمانہ ہو جائے گا،دوسری مرتبہ چھیڑا تو دو سو روپیہ اور تیسری مرتبہ چھیڑنے پر پانچ سو روپے جرمانہ ہو جائے گا
یہ سن کر وہ لڑکا سیٹ سے کھڑا ہوا اور پروفیسر صاحب سے بولا:
پروفیسر صاحب ۔ ۔ ۔ ۔یہ باری باری کی بات چھوڑیں ۔ ۔ ۔ ۔یہ بتائیں کے پورے سال کا ریٹ کیا ہے؟

Syndicate content