گل خان : یارا یہ موبائل کافی مہنگا ہوگیا ہےعجب خان : ایس ایم ایس پر بات کرتے ہ

گل خان : یارا یہ موبائل کافی مہنگا ہوگیا ہے
عجب خان : ایس ایم ایس پر بات کرتے ہیں
دونوں نے مشترکہ فیصلہ کیا کہ ایک کبوتر کو اس مقصد کے لئے استعمال کرتے ہیں ۔
گل خان (پشاور) نے کبوتر کے پیر پر کاغز باندھا اور عجب خان کی طرف روانہ کیا
عجب خان (بنوں) نے اس کبوتر پر پیغام لکھ کر باندھا کہ "تمہارا کاغز خالی تھا"
گل خان نے جواب میں لکھا کہ "وہ مس کال دی تھی"

سوا سیرفوجی یونٹ میں کام کرنے والا ایک سپاہی شرطیں لگانے اور حیرت انگیز طور پر

سوا سیر
فوجی یونٹ میں کام کرنے والا ایک سپاہی شرطیں لگانے اور حیرت انگیز طور پر جیت میں بڑی شہرت رکھتا تھا۔
ایک یونٹ سے دوسری یونٹ میں اس کا تبادلہ ہوا تو اس کی سابقہ یونٹ کے کمانڈنگ آفیسر نے اس کی نئی یونٹ کے کمانڈگ آفیسر کو ٹیلی فون پر بتایا کہ :
"ہماری یونٹ سے آپ کے ہاں پوسٹ ہوکر آنے والا فلاں سپاہی شرطیں لگانے اور ہر بار جیت جانے میں بڑا ماہر ہے ۔۔ تم احتیاط کرنا ۔۔"
احتیاط کی تلقین پانے والے کمانڈنگ آفیسر کو نئے آنے والے سپاہی کے بارے میں تجسّس بڑھا اور اس نے اپنے پرسنل اسسٹنٹ سے کہا ۔۔
" یہ باکمال سپاہی جونہی یونٹ پہنچے ' مجھے اس سے ملوادینا ۔۔"
اگلے دن نئی کلف شدہ وردی پہنے یہ باوصف سپاہی کمانڈنگ آفیسر کے سامنے کھڑا تھا ۔ صاحب کے استفسار پر اس نے کہا :
"سر ! ایسی کوئی بات نہیں ۔۔ میں یونہی بات بات پر شرط نہیں لگاتا ۔۔ بس جب بات ہی ایسی ہو تو شرط لگانا پڑتی ہے ۔۔ اور ہار جیت تو مقّدر کی بات ہے ' جیسے اب مجھے معلوم ہے کہ آپ کی پیٹھ پر تل ہے۔ آپ اگر پانچ سو روپے کی شرط لگاتے ہیں تو میں اس کے لیے تیار ہوں۔۔"
کمانڈگ آفیسر کو بھی کبھی نہ ہارنے والے کو ہرانے کا اشیاق تھا ۔ اس نے فوراً اپنی شرٹ کے بٹن کھولے اور پیٹھ دکھا دی ۔۔سپاہی نے اپنی جیب سے پانچ سو روپے نکال کر میز پر رکھے اور کہا :
سر! میں شرط ہار گیا ہوں ۔۔ یہ پانچ سو روپے آپ کے ہوئے ۔۔"
کمانڈنگ آفیسر نے فاتحانہ انداز میں فون پر اس کے سابقہ کمانڈنگ آفیسر سے کہا :
" تم تو کہتے تھے کہ وہ کبھی شرط نہیں ہارتا ۔۔" اور پھر تمام واقعہ سنایا ۔۔سپاہی کے سابقہ کمانڈنگ آفیسر نے کہا :
جناب ! آ پ نے مجھے مروادیا ۔۔اس نے جاتے ہوئے مجھ سے ہزار روپے کی شرط لگائی تھی کہ میں نئی یونٹ میں جاتے ہی کمانڈنگ آفیسر کی شرٹ اُتروادوں گا ۔۔"