کاتب اور خطاط ہوں اپنی فیلڈ کا ہی لطیفہ

کاتب اور خطاط ہوں اپنی فیلڈ کا ہی لطیفہ سناوں گا
کسی جگہ پڑھا تھا کہ ایک شخص نے مشہور مصور پکاسو کی زندگی پر ایک کتاب لکھی۔ اور کاتب کو دے دی۔ کاتب نے دوران کتابت اپنے علم کو بھی پس پشت نہ رکھا اور جب کتابت مکمل ہوئی تو لکھنے والے نے دیکھا کہ ہر جگہ جہا ں پکاسو کا نام تھا ایک ایک "رے" کا اضافہ تھا۔اور یوں‌لفظ بنتا تھا۔ "پکا سور" `
جب اس نے کاتب سے پوچھا کہ ایسا کیوں کیا تو کاتب نےجواب دیا میں نےسمجھا کہ "رے " ڈالنی آپ سے رہ گئی ہوگی شاید۔ واہ پکاسو کو پکا سور لکھ دیا۔

جج " تمہارا کہنا ہے کہ تم نے غلطی سےاپنے

جج " تمہارا کہنا ہے کہ تم نے غلطی سےاپنے شوہر کو ہلاک کر دیا ۔۔۔ حالانکہ تمہارا ایسا کوئی ارادہ نہ تھا :
ملزمہ : جی ہاں ، جناب عالی "
جج " کیا تم اپنی غلطی کی وضاحت کر سکتی ہو ؟
ملزمہ " دیکھیئے جناب عالی ۔۔۔ ہوا یہ کہ میں بندوق سے اپنی ساس کا نشانہ لے رہی تھی ۔۔۔ کہ ۔۔۔ اچانک میرا شوہر دوڑ کر اس کے سامنے آ کھڑا ہوا ۔۔۔ "

سر مجھے یقین ہے کہ میری قابلیت کو دیکھتے ہوئے آپ مجھے ضرور نوکری پر رکھ لیں گے۔

سر مجھے یقین ہے کہ میری قابلیت کو دیکھتے ہوئے آپ مجھے ضرور نوکری پر رکھ لیں گے۔ ملازمت کے اُمید وار نے سیٹھ سے کہا
لیکن میں تو اپنے گھر کے سارے کام اپنے ہاتھ سے ہی کر لیتا ہوں
لیکن اس میں مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے سر۔ اُمید وار بولا
میں تو سارا کام آپ کو ہی کرنے دوں گا