ایک دفعہ کا زکر ہے کہ ایک ٹوپیاں بیچنے

ایک دفعہ کا زکر ہے کہ ایک ٹوپیاں بیچنے والا جنگل سے گذر رہا تھا۔اُسے تھکاوٹ محسوس ہوئی اور وہ ٹوپیاں سرہانے رکھ کر سو گیا۔جب اس کی آنکھ کھلی تو ٹوپیاں غائب تھیں۔اس کی نطر درخت پر پڑی تو وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ سب بندر ٹوپیاں پہنے بیٹھے تھے۔اسے ایک ترکیب سوجھی۔اس نے پہلیے اپنے گال پر خارش کی،سب بندروں نے اس کی نقل اتاری پھر اس نے اپنی ٹوپی زور سے زمین پر پھینکی،سب بندروں نے اس کی نقل اتاری اور ٹوپیاں زمین پر پھینک دیں ،اس نے ٹوپیاں اکٹھی کی اور چلتا بنا۔
یہ کہانی سفر کرتے ہوئے اس کے پوتے تک پہنچی وہ بھی ایک دن جنگل سے گذر رہا تھا۔اُسے تھکاوٹ محسوس ہوئی اور وہ ٹوپیاں سرہانے رکھ کر سو گیا۔جب اس کی آنکھ کھلی تو ٹوپیاں غائب تھیں۔اس کی نطر درخت پر پڑی تو وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ سب بندر ٹوپیاں پہنے بہٹھے تھے۔اسے اپنے دادا کی چالاکی یاد آئی۔اس نے پہلیے اپنے گال پر خارش کی،سب بندروں نے اس کی نقل اتاری پھر اس نے اپنی ٹوپی زور سے زمین پر پھینکی،ایک بندر ٹوپی پہنے درخت سے اترا اور اسے زور دار تھپڑ لگا
کر بولا
اوے تیرا کی خیال ہے ساڈا دادا نہیں ہوندا
__________________