ماہ رمضان گزرنے پر ایک بار جب مرزا غالب بادشاہ کے حضور پیش ہوئے تو اسنے مرزا غال

ماہ رمضان گزرنے پر ایک بار جب مرزا غالب بادشاہ کے حضور پیش ہوئے تو اسنے مرزا غالب سے پوچھا:مرزا تم نے کتنے روزے رکھے؟
مرزا نے جھٹ شرارتی لہجے میں جواب دیا:اکتیسواں(31) نہیں رکھا حضور۔۔۔

اکبر اور بیربل سے تو آپ واقف ہی ہونگے۔ ا

اکبر اور بیربل سے تو آپ واقف ہی ہونگے۔ ایک مرتبہ اکبر کے دوسرے نورتنوں نے یہ پلان بنایاکہ کسی طرح بیربل کونیچادکھایاجائے۔ پلان کےمطابق
اگلے دن جب بادشاہ اپنے نورتنوں کے ساتھ حوض خاص پرموجود تھے۔نورتنوں نے کہاکہ جہاں پناہ ایک کھیل کھیلتے ہیں۔ ہم میں سے ہر درباری حوض میں ڈبکی لگائے اور اندر سے ایک انڈالے کرآئَے۔ جہاں پناہ راضی ہوئے۔ آٹھوں نورتنوں نے حوض میں ڈبکی لگائی اور انڈہ لیکر حاضر ہوگئے۔ بیربل جب ڈبکی لگانے کے بعد حوض کی تہہ میں پہنچے تو انہیں کافی ہاتھ پاوں مارنے کے باوجود کوئی انڈہ نہیں ملا۔بیربل نورتنوں کی چال سمجھ گئے۔ خیر سے باہر نکلے۔ بادشاہ کے پاس پہنچے۔ بادشاہ نے پوچھاانڈہ کہاں ہے۔
بیربل نے جواب دیا:ککڑوں کوں،ککڑوں کوں!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!