خاتونِ خانہ سب گھر والوں کے لیے میز پر ک

خاتونِ خانہ سب گھر والوں کے لیے میز پر کھانا لگا رہی تھی کہ ان دس سالہ بچہ چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ سجائے گھر میں داخل ہوا۔۔''
کہاں تھے بیٹا اتنی دیر سے کیا کر رہے تھے؟ ماں نے پیار سے پوچھا۔۔
ممی! میں پوسٹ مین بنا ہوا تھا۔۔بچے نے فخریہ لہجے میں کہا۔۔
لیکن بیٹا تم پوسٹ مین کیسے بن گئے تمہارے پاس تو‌ڈاک نہیں تھی۔۔ماں نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔
ڈاک کا انتظام ہوا تب ہی تو مجھے پوسٹ مین بننے کا خیال آیا۔۔میں آج صبح آپ کے کاٹ کھباڑ والے کمرے میں آپ کے پرانے ٹرنک کی تلاشی لے رہا تھا اس میں کپڑوں کے نیچے مجھے گلابی رنگ کا ایک بنڈل ملا جس پر سبز ربن بندھا ہوا تھا۔۔میں وہ سارے خط ایک ایک کر کے محلے کے سب گھروں میں گیٹ سے اندر ڈال‌آیا ہوں۔۔بچے نے فخر سے بتایا۔۔

ایک سیاح ایک ہوٹل کے قریب رک گیا لکھا تھ

ایک سیاح ایک ہوٹل کے قریب رک گیا لکھا تھا:ٹی وی مفت
سیاح نے اندر داخل ہو کر کمرہ طلب کیا
ہوٹل کے مینجر نے پوچھا:آپ سو روپے والا کمرہ لینا پسند کریں گے یا ڈیڑ ھ سو روپے والا؟
دونوں کمروں میں فرق کیا ہے؟ سیاح نے سوال کیا
ڈیڑھ سو روپے والے کمرے میں آپ ٹی وی سے مفت لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔مینجر نے جواب دیا

ایک سردار کا بیٹا اس سے بولا۔"باپو ! م

ایک سردار کا بیٹا اس سے بولا۔
"باپو ! ماسٹر کہتا ھے کہ بھینس کا دودھ پینے سے عقل تیزھوتی ھے"۔
سردار صاحب نے قہقہ لگاتے ھوئے جواب دیا۔
"گپ مار دا اے تیرا ماسٹر ! اگر اے سچ ھوندا تے ساڈا کٹا ۔۔۔۔۔ سیاست دان ھوندا "۔

ایک زیر تفتیش مشتبہ ملزم نے ایک پولیس آف

ایک زیر تفتیش مشتبہ ملزم نے ایک پولیس آفیسر کی دعوت کی۔ دعوت میں پولیس افسر اکیلا دو مرغ چٹ کر گیا ۔۔۔ کھانے کے بعد پولیس افسر نے صحن میں ایک بوڑھے مرغ کو سینہ نکالے ، تں کر چلتے ہوئے دیکھا تو بولا
: واہ بھئی واہ ، آپ نے مرغ کو دیکھا ۔۔۔ کیسے سینہ تان کر چل رہا ہے ۔۔"
" جی ہاں ۔۔کیوں نہیں ۔۔سینہ تان کر فخر سے چلے کہ اس کے دو بیٹوں نے ایک پولیس افسر کی خدمت کی ہے ۔۔:
میزبان نے جل کر کہا