ی ایم اے " پاکستان ملٹری اکیڈمی " میں انگریزی کا نفاذایک وقت تھا کہ ہر سرکاری

ی ایم اے " پاکستان ملٹری اکیڈمی " میں انگریزی کا نفاذ
ایک وقت تھا کہ ہر سرکاری ادارے میں انگریزی کو بول چال کی عام زبان قرار دینے پر غور ہو رہا تھا۔ جس کے پیچھے پاکستانی تعلیم یافتہ طبقے کا غلامانہ ذہن اور انگریزی بولنے کو باعثِ فخر سمجھاجانا تھا۔
اسی سلسلے میں پاکستان کی مایہ ناز ملٹری اکیڈمی میں بھی حکم نافظ ہو گیا کہ اب انگریزی ہی سرکاری زبان کے طور پر تدریس کے لیے استعمال کی جائے گی۔
اس کے نتیجے میں جو انگریزی وجود میں آئی اگر انگریز بھی سن لیتے تو حیرت زدہ رہ جاتے۔
استادوں کی انگریزی ملاحضہ فرمائیں !
If you narrow me, i will narrow you
اگر تم مجھے تنگ کرو گے تو میں تمہیں تنگ کروں گا
Do do, not do, not do, what is mine
کرنا ہے تو کرو، نہیں کرنا نہ کرو، میرا کیا ہے
Do do, not do, not do, what my goes, my father's goes
کرنا ہے تو کرو ، نہیں کرتے نہ کرو، میرا اور میرے باپ کا کیا جاتا ہے

کسی بادشاہ کے دور میں ایک میراثی کو موت

کسی بادشاہ کے دور میں ایک میراثی کو موت کی سزا ھو گئی۔ مقررہ دن جب میراثی کو سرقلم کرنے کے لئے لایا جا رھا تھا تو بادشاہ نے جلاد سے کہا کہ تلوار لاو اس کا سر میں خود قلم کروں گا
اس پر میراثی نے بادشاہ کی طرف دیکھ کر کہا، لگتا تو نہیں پر شائد
بادشاہ نے سن لیا پر خاموش رھا
جب بادشاہ میراثی کے قریب پہنچا تو میراثی نے پھر بادشاہ کی طرف دیکھا اور کہا، لگتا تو نہیں پر شائد
بادشاہ سن کر پھر خاموش رھا
جب میراثی گردن جھکانے لگا تاکہ سر قلم کیا جاسکے تو میراثی نے بادشاہ کی طرف دیکھ کر پھر کہا، لگتا تو نہیں پر شائد
اب کی بار بادشاہ کو تشویش ھوئی اس نے میراثی سے پوچھا کہ تو نے تین دفعہ میری طرف دیکھ کر کہا کہ لگتا تو نہیں پر شائد ۔ اس کا کیا مطلب ھے
میراثی نے یہ سن کر کہا بادشاہ سلامت مار تو اپ نے مجھے دینا ھی ھے تو سنیں
بات اصل میں یہ ھے کہ میرا باپ ایک نجومی تھا مرنے سے پہلے اس نے میرا ھاتھ دیکھ کر کہا تھا کہ تیری موت ایک کتے کے ھاتھوں ھو گی میں اس لئے اپ کی طرف دیکھ کر کہہ رھا تھا کہ لگتا تو نہیں پر شائد

بھولپارٹی عروج پر تھی جب ایک خاتون اچ

بھول
پارٹی عروج پر تھی جب ایک خاتون اچانک ایک اجنبی شخص کے سامنے کھڑی ہوئیں اور کہا “ہیلو بوبی“
اجنبی حیرت سے انہیں دیکھنے لگا۔
خاتون پھر بولیں۔“بوبی کتنے افسوس کی بات ہے کہ تم مجھے بھول گئے ہو۔“
“نہیں محترمہ۔“ اجنبی دھیرے سے بولا۔ “غالبا آپ بوبی کو بھول گئی ہیں۔“