شوہر کی زندگیاسکول میں ماسٹروں سے مرعو

شوہر کی زندگی
اسکول میں ماسٹروں سے مرعوب ہونا ہمارے نزدیک ہمیشہ ذلت کی بات تھی۔۔البتہ ذرا ہیڈ ماسٹر کے گھنٹے میں تھوڑی دیر کے لیے دم سادھے بیٹھنا پڑتا تھا مگر اب تو یہ حال ہے۔۔گویا ہیڈ ماسٹر صاحب سے ہی شادی کر لی ہے۔۔کیا مجال ہے کہ بیگم صاحبہ کے ہوتے ہوئے ہم اپنے پیدائشی حق یعنی آزادی سے بھی کوئی فائدہ اٹھا سکیں۔۔صبح دیر سے سو کر اٹھیں تو منحوس‘ منہ ہاتھ دھوئے بغیر چائے پی لیں تو اچھوت‘ دفتر دیر سے جانے کا ارادہ کریں تو کام چور نوالہ حاضر۔۔۔جاڑے کا زمانہ اگر بغیر غسل سے ٹالنا چاہیں تو افیونی‘ تاش کھیلیں تو جواری‘ شطرنج سے دل بہلائیں تو نحوست کے ذمہ دار ‘ باہر گھومنے جائیں تو آوارہ‘ رات کو دیر سے گھر آئیں تو اعلا درجے کے بدمعاش‘ پتنگ اڑانے کا ارادہ کریں تو لوفر اور اگر کچھ بھی نہ کریں یعنی خاموش بیٹھ کر اونگھیں یا منہ اٹھائے محض بیٹھے رہیں تو بے وقوف۔۔۔
اب آپ ہی بتائیں یہ زندگی ایک شوہر کی زندگی ہے یا کالے پانی کی سزا پانے والے کسی مجرم کی زندگی‘ مگر جیسی بھی زندگی ہے بہرحال اب اسی طرح اس کو بسر کرنا ہے‘ اس لیے کہ بیگم صاحبہ کا ساتھ کوئی ایک دو دن کا نہیں زندگی بھر کا ساتھ ہے اور زندگی ایک بڑی مدت کا نام ہے کہ اس کا تصور کرتے ہوئے بھی اختلاج ہونے لگتا ہے۔۔

جارج بش اپنے آفس میں بیٹھے سوچ رہے ہیں کہ اب کس ملک پر چڑھائی کی جائے کہ اچانک ف

جارج بش اپنے آفس میں بیٹھے سوچ رہے ہیں کہ اب کس ملک پر چڑھائی کی جائے کہ اچانک فون کی گھنٹی بجی
"ہیلو مسٹر بش" ایک بھاری لہجے والی آواز سنائی دی۔ "میں شیدا بول رہا ہوں ڈسٹرکٹ ڈیرہ غازی خان، پاکستان سے۔ میں نے تمہیں اس لئے فون کیا ہے کہ ہم تمہارے خلاف اعلان جنگ کر رہے ہیں۔ ہوشیار رہنا“
"خیر، شیدا" بش نے جواب دیا "یہ واقعی بہت اہم خبر ہے۔ آپ کی فوج کتنی بڑی ہے؟"
"اس وقت ہمارے پاس" شیدے نے کچھ دیر تک کی گنتی کے بعد کہا " میں، میرا کزن بشیرا، میرا ہمسائیہ کرم دین اور ہمارے ضلع کی پوری کبڈی ٹیم ہمارے ساتھ ہے۔ ہم مل ملا کر کوئی آٹھ افراد ہوتے ہیں۔"
بش نے کچھ دیر توقف کے بعد کہا "لیکن میں تمہیں یہ بتا دوں کہ میرے پاس دس لاکھ افراد کی فوج ہے اور وہ میرے ایک اشارے کے منتظر ہیں۔"
"جہنم میں جاؤ" شیدا بولا۔ "چلو میں تمہیں کل فون کروں گا"
اگلے دن واقعی شیدے نے پھر فون کیا
"مسٹر بش، میں شیدا، ڈیرہ غازی خان سے بول رہا ہوں۔ ہماری جنگ ابھی بھی چل رہی ہے۔ ہم نے کچھ مزید ہتھیار بردار مشینری بھی اکٹھی کر لی ہے"
"ہممم، تو آپ کون سی ہتھیار بردار مشینری اکٹھی کی ہے؟" بش نے پوچھا۔
"ہمارے پاس دو کمبائنڈ ہارویسٹر، ایک گدھا اور امجد کا ٹریکٹر ہے۔"
بش نے آہ بھری۔ "میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ میرے پاس کوئی سولہ ہزار ٹینک اور چودہ ہزار ہتھیار بند گاڑیاں ہیں۔ اس کے علاوہ آپ کی کل والی دھمکی کے بعد میں نے اپنی فوج کو بڑھا کر پندرہ لاکھ کر دیا ہے"
"اوہ تیری (سنسر)" شیدا بولا۔ "میں پھر فون کرتا ہوں۔"
اگلے دن واقعی شیدے نے پھر فون کیا۔ "مسٹر بش، ہماری جنگ ابھی بھی چل رہی ہے۔ اب ہم نے فضائی جنگ کی تیاری بھی کر لی ہے۔ ہم نے امجد کے ٹریکٹر پر دو بندوقیں فٹ کر لی ہیں اور پنڈ کے جنریٹر پر پر لگا دیئے ہیں۔ مظفر گڑھ سے چار مزید لڑکے بھی ہمارے ساتھ شامل ہو گئے ہیں"
بش نے کچھ دیر تک سوچا، پھر اپنا گلا صاف کیا اور بولا۔ "شاید آپ کو علم نہ ہو کہ میرے پاس دس ہزار بمبار اور بیس ہزار لڑاکا طیارے ہیں۔ ہمارے مراکز لیزر گائیڈڈ زمین سے فضاء تک مار کرنے والے میزائلوں سے کور ہیں۔ سابقہ بات چیت کے بعد میں نے اپنی فوج کی تعداد بیس لاکھ کر دی ہے۔"
"تیرا بھلا ہو۔۔۔" شیدا بولا۔ "میں پھر فون کرتا ہوں"
اگلے دن شیدے نے پھر اسی وقت فون کیا۔ "کیسے ہو مسٹر بش؟ مجھے افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ ہم جنگ کو ختم کر رہے ہیں۔"
"مجھے بھی بہت افسوس ہوا سن کر۔ لیکن آپ کا ارادہ اتنا اچانک کیسے بدلا؟"
"خیر۔۔۔" شیدا بولا "کل ہم دوستوں نے اپنی اس فون والی بات چیت پر لمبی بحث کی اور آخر کار یہ نتیجہ نکالا کہ ہم بیس لاکھ جنگی قیدیوں کو کھلانا پلانا ایفورڈ نہیں سکیں گے۔"