جٹ بڑے کھلے ڈلے ہوتے ہیں، ان کی مہمان طبع کا تو جواب نہیں، ہر چیز میں صلح مارت

جٹ بڑے کھلے ڈلے ہوتے ہیں، ان کی مہمان طبع کا تو جواب نہیں، ہر چیز میں صلح مارتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ کھانا کھاتے ہوئے ۔ ۔ ۔ ۔ لسی پیتے ہوئے ۔ ۔ ۔ ۔ حقہ پیتے ہوئے ۔ ۔ ۔ ۔ حتی کہ باتھ روم جاتے ہوئے بھی ۔ ۔ ۔ ۔!!!
اکثر جٹوں کا لہجہ اتنا سخت ہوتا ہے کہ سلام کا جواب بھی دے رہے ہوں تو لگتا ہے بد دعا دے رہے ہیں۔
ان کے انکشافات بھی بڑے ہولناک ہوتے ہیں، میرا جٹ دوست مجھ سے کہنے لگا کہ ۔ ۔ ۔ ۔ "میں دو سال پہلے معراج پر گیا تھا ۔ ۔ ۔ "
میں نے کرسی سے اچھلتے ہوئے کہا ۔ ۔ ۔ ۔ " نعوذ باللہ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ کیا کہہ رہے ہو؟"
منہ بنا کر بولا ۔ ۔ ۔ ۔ " اس میں اتنا اچھلنے والی کیا بات ہے ۔ ۔ ۔ ۔ میرے ماموں بھی میرے ساتھ تھے، انہی سے پوچھ لو ۔ ۔ ۔ ۔"
میرے ہوش مزید اڑ گئے ۔ ۔ ۔ ۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ جٹ کے انکشاف کو کفر شمار کروں یا نہیں ۔ ۔ ۔ ۔ پھر بھی دوبارہ کنفرم کرتے ہوئے پوچھا!!!
"کیا تم واقعی معراج پر گئے تھے؟"
"ہاں ۔ ۔ ۔ ۔ " اس نے پوری ذمہ داری سے سر ہلایا۔
"تمہیں شرم آنی چاہیے ایسی بات کرتے ہوئے ۔ ۔ ۔ ۔" مجھے غصہ آ گیا
"ابے شرم کیسی ۔ ۔ ۔ ۔ میرے ماموں میراج طیارے کے پائلٹ ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ وہ مجھے سیر کرانے "میراج" پر لے گئے تھے ۔ ۔ ۔ ۔" جٹ نے اطمینان سے کہا۔

“ تمھیں عورت بیوی کے روپ میں کیسی لگتی ہ

“ تمھیں عورت بیوی کے روپ میں کیسی لگتی ہے، سچ سچ بتانا پلیز!“۔
ایک شخص نے اپنے دوست سے پوچھا۔
“ تم یقین نہیں‌کرو گے کہ مجھے عورت بیوی کے روپ میں کس قدر اچھی لگتی ہے۔ میں تو گھنٹوں اسے سامنے بٹھا کر اس سے اُلفت بھری میٹھی میٹھی دل میں اترنے والی سحر انگیز باتیں کرتا رہتا ہوں۔اسے اکثر تحائف اور مہکتے ہوئے گلاب پیش کرتا ہوں۔ اس کے بےمثال حسن کو اشعار کی صورت میں خراج پیش کرتا ہوں۔ شام و سحر اس کی یادوں میں کھویا رہتا ہوں، جی چاہتا ہے کہ جان اس پر وار دوں، بس تمھیں کیا بتاؤں، میرا بس چلے تو میں اسے ایک پل نظروں سے اوجھل نہ ہونے دوں!!“۔
“ یار تم تو بڑے خوش قسمت ہو کہ تم کو ایسی قابلِ رشک بیوی ملی“۔
“ مجھے کہاں ملی ۔۔۔۔۔۔ ارے وہ تو میری پڑوسی کی بیوی ہے“۔