Husband Wife Jokes

ایک عورت کا شوہر روز رات کو گھر دیر سے آ

ایک عورت کا شوہر روز رات کو گھر دیر سے آتا تھا۔ اور بیوی کے پوچھنے پر ادھر اُدھر کا بہانہ کر دیتا۔
ایک رات ٹھیک دو بجے اس کے بچے کی آنکھ کھلی تو وہ تقاضا کرنے لگا۔
امی کوئی کہانی سناؤ.امی کوئی کہانی سناؤ۔
بس تھوڑی دیر صبرکرو۔ تمہارے ابا آتے ہی ہوں گے وہ ہم دونوں کو کہانی سنائیں گے۔

شوہر کے دوست سہاگ رات میں پہلے ہی سمجھات

شوہر کے دوست سہاگ رات میں پہلے ہی سمجھاتے ہوئے ۔ اگر پہلے دن بلی مار دو گے تو ساری زندگی بیوی دبی رھے گی ڈر کر رھے گی۔ ساتھ ہی کمرے میں بلی بھی چھوڑ دی

شوہر نے پہلی بار بلی کو غصے سے ڈانٹ ڈپٹ کر باہر نکالا ۔ تاکہ بیوی پر رعب پڑ جائے۔ دوستوں نے پھر واپس بھیج دی روشن دان سے

اب شوہر نے تکیہ اٹھا کر بلی کو دے مارا اور دوبارہ کمرے کے باہر پھینک آیا اور بیگم سے بولا۔ دیکھو یہ میرا مزاج ھے۔ میں کسی کو خود کو تنگ کرنے نہیں دیتا

اپنے سامنے آواز اٹھانے نہیں دیتا۔ میری مرضی چلتی ھے ہر جگہ
دوستون نے تیسری بار بلی پھر اندر ڈال دی کہ مارنی تو تھی

اب کی بار بیوی نے اپنا پرس کھولا پسٹل نکالا اور بلی کو گولی مار کر بولی۔آپ تو صرف پروگرام بناتے رہیں گے میں تو ایسے چپ کراتی ہوں اپنے سامنے بولنے والوں کو

بیوی فون پرWhere The Hell Are You?شو

بیوی فون پر
Where The Hell Are You?
شوہر
جان تمھیں وہ جیولری کی دوکان یاد ہے؟ جہاں پر تجھے ایک Necklace پسند آیا تھا، اور اُس وقت میرے پاس پیسے نہیں تھا۔
بیوی فوراً بولی
جی ہاں میری جان! مجھے اچھی طرح یاد ہے۔
شوہر
وہی جیولری والی دوکان کے سائیڈ میں جو پبلِک ٹوائلیٹ ہے میں اُسی میں ہوں۔

ایک مرتبہ شوہر اور بیوی کا کسی بات پر

ایک مرتبہ شوہر اور بیوی کا کسی بات پر جھگڑا ہو گیا۔ شوہر بولا

خدا تیرا خانہ خراب کرے تو مجھے چین سے نہیں رہنے دیتی۔

بیوی پر تشویش اور ہمدرد انہ انداز میں جواب دیا۔ میرے سر تاج

خدا کے لیے ایسا نہ کہیں، خدا مجھے بیوہ ہی نہ کردے۔

ایک بیوی کے شوہر اور ایک درجن بچوں کے

ایک بیوی کے شوہر اور ایک درجن بچوں کے باپ کی میز پر

ہمیشہ چینی کے مرتبان میں ایک رنگین مچھلی تیرتی رہتی

تھی۔
اس کے ایک دوست نے مرتبان میں ایک مچھلی کی موجودگی

کا سبب پوچھا تو اس نے بتایا۔
میں کم سے کم ایک ایسی شے بھی اپنے ہمراہ رکھتا ہوں جو

اپنا منہ کھولتی ہے تو کوئی چیز نہیں مانگتی۔

بیوی نے کہا۔پیارے ہم دونوں تیس برس ت

بیوی نے کہا۔
پیارے ہم دونوں تیس برس تک ایک دوسرے کے ساتھ رہے ہیں

اگر تم مجھ سے پہلے وفات پا گئے تو میں ہر ہفتے تمہاری قبر پر

حاضری دیا کروں گی اور تمہارے پسندید سگریٹوں کا ایک پیکٹ

تمہاری قبر پر چڑھایا کروں گی تمہیں پتہ چل جائے گا کہ

تمہارے مرنے کے بعد بھی تمہیں بھولی نہیں ہوں۔
شوہر بولا۔
کیا سگریٹوں کے ساتھ قبر پر ماچس بھی چڑھایا کرو گی۔
تمہاری بچگانہ عادت نہیں گئی۔بیوی نے جواب دیا۔
پیارے جس جگہ تم جاؤ گے وہاں اپنے سگریٹ کو سلگانے کے

لیے کسی کو بھی ماچس کی ضرورت پیش نہ آئے گی۔ کیونکہ

وہاں ہر طرف آگ ہی آگ ہو گی۔

جج : تم نے اپنے شوہر کے سر پر کرسی مار

جج : تم نے اپنے شوہر کے سر پر کرسی ماری تھی اس لیے

وہ ٹوٹ گئی۔
ملزمہ: مگر حضور میرا ارادہ قطعی یہ نہ تھا
جج نے کہا
اس کا مطلب یہ ہوا کہ تمہاری نیت نہ تھی کہ حملہ کرو.
ملزمہ نے کہا
میری نیت نہ تھی کہ کرسی توڑوں۔

ایک محترمہ اپنی پڑوسن پر شوہر کا ہاتھ

ایک محترمہ اپنی پڑوسن پر شوہر کا ہاتھ بٹانے کی ضرورت و

اہمیت کو واضح کرنے کے لیے بتا رہی تھی۔
میں ہر کام میں اپنے شوہر کا ہاتھ بٹاتی ہوں۔ مثلاً آج ہی کا واقعہ

ہے ہمیں چائے کی طلب تھی۔ تجویز میں نے پیش کی۔ بنائی

میرے شوہر نے پی میں نے برتن دھوئے شوہر نے۔

ایک دعوت میں کے دوران شوہر نے بیوی کو

ایک دعوت میں کے دوران شوہر نے بیوی کو چھٹی پلیٹ بھنے

ہوئے مرغ کی کھانے پر کہا۔
ذرا غور تو کریں لوگ کیا سوچتے ہوں کہ آپ کس اس قدر پیٹو

انسان ہیں۔
بیگم تم اس کی فکر نہ کرو۔ میں ہر بار یہ کہہ کر مرغ کی پلیٹ

منگوارہا ہوں کہ میری بیگم نے منگوائی ہے۔

ایک امریکی خاتون نے مقامی عدالت میں جی

ایک امریکی خاتون نے مقامی عدالت میں جیوری کی رکن بننے

سے محض اس لیے انکار کر دیا کہ وہ موت کی سزا کو ناپسند

کرتی تھی۔
جج نے انہیں سمجھاتے ہوئے کہا۔
لیکن محترمہ وہ مقدمہ جس کے لیے آپ کو جیوری میں شامل

ہونا ہے۔ ایک معمولی سا مقدمہ ہے۔ مقدمہ یہ ہے کہ ایک عورت

نے اپنے شوہر کر دس ہزار روپے زیور خرید کر لانے کے لیے دئیے

تھے۔ مگر شوہر نے زیور خریدنے کی بجائے ساری رقم جوئے

میں ہار دی۔
محترمہ نے یہ سنا تو فوراً بولی۔
مناسب ہے میں بخوشی جیوری میں شامل ہوتی ہوں ممکن ہے

موت کی سزا کے بارے میں میرے جو خیالات ہیں وہ غلط ہی

ہوں۔