Jokes In Urdu

Welcome To Jokes In Urdu Section Of Free Urdu Jokes. In This Entertainment Section You Can Read 10,000 Urdu <b>Jokes In Urdu</b>. This Is Not A Joke My Dear. Yes Ten Thousand Urdu Jokes In Urdu. This Is The Largest Collection Of Urdu Jokes On The Planet. You Can Read Interesting Jokes For Countless Hours But You Can'T Read All Jokes. And If That Is Not Enough We Are Adding Hundreds Of New Urdu Jokes Every Day. Hope You Like Our Efforts In Collecting Urdu Jokes. Keep Smiling And Tell Your Friends About Free Urdu Jokes

شاعر انقلاب جوش ملیح آبادی کی مولانا ابو

شاعر انقلاب جوش ملیح آبادی کی مولانا ابولاعلی مودودی سے خوب گاڑھی چھنتی تھی۔ اس بے تکلفی میں اکثر برجستہ جملوں کا نہایت لطیف تبادلہ جاری رہتا تھا۔
ایک دفعہ مولانا مودودی بیمار پڑ گئے۔ جوش صاحب خبر سنتے تیمار داری کو پہنچ گئے۔ بیماری کا حال پوچھا تو مولانا نے فرمایا؛
"ڈاکٹروں نے پتھری تشخیص کی ہے۔۔"
سنتے ہی جوش صاحب کی حس ظرافت پھڑک اٹھی۔
"اف ظالم، اپنے کرموں کی معافی مانگ، تو تو بڑا گنہگار ہے۔۔"
مولانا کو حیرت ہوئی؛ "جوش صاحب، پتھری کا گناہوں سے کیا تعلق ہے۔۔"
جوش صاحب فورا کہنے لگے؛ "مولانا، آپ تو اندر سے سنگسار ہو رہے ہیں۔۔۔"

ایک کشتی میں ایک شعبدہ باز سوار تھا۔ وہ راستہ بھر مسافروں کو کرتب دکھاتا ر

ایک کشتی میں ایک شعبدہ باز سوار تھا۔ وہ راستہ بھر

مسافروں کو کرتب دکھاتا رہا۔ کبھی وہ کسی کی گھڑی کے دو

ٹکڑے کر دیتا اور اسے دوبارہ جوڑ دیتا۔ اور کبھی کسی کرسی

کو توڑ کر جوڑ دیتا۔ اتفاق سے اسی دوران کشتی الٹ گئی۔

ٹکڑے ٹکڑے ہو گئی۔ شعبدہ باز اور تین چار دوسرے مسافر ایک

تختے پر سوار ہو گئے۔ جب ذرا حواس بحال ہوئے تو ایک مسافر

بولا۔ بس، بہت مذاق ہو چکا ، اب کشتی کو پہلی حالت میں لے

آؤ۔

دو شہری ایک سڑک پر برابر چل رہے تھے اسی دوران ایک دیہاتی بھی ان کے درمیان

دو شہری ایک سڑک پر برابر چل رہے تھے اسی دوران ایک

دیہاتی بھی ان کے درمیان آ کر چلنے لگا۔ شہریوں نے پوچھا۔

کیوں بھئی ! تم احمق ہو ، یا بیوقوف۔
دیہاتی چہک کر بولا: جناب میں دونوں کے درمیان میں ہوں۔

ایک صاحب کو وقت معلوم کرنا تھا۔ او شبر

ایک صاحب کو وقت معلوم کرنا تھا۔ او شبراتی ، او شبراتی کہاں

مر گیا کم بخت۔
نوکر: آیا سرکار۔
صاحب:
ایک صاحب کو وقت معلوم کرنا تھا۔ او شبراتی ، او شبراتی کہاں

مر گیا کم بخت۔
نوکر: آیا سرکار۔
صاحب: دیکھو اس وقت کیا بج رہا ہے۔
نوکر : سرکار! اس وقت تو ریڈیو بج رہا ہے۔۔
نوکر : سرکار! اس وقت تو ریڈیو بج رہا ہے۔

ایک امیر آدمی کشتی میں سوار دریا کی سی

ایک امیر آدمی کشتی میں سوار دریا کی سیر کر ریا تھا کہ

اتفاقاً کشتی بھنور میں پھنس گئی۔ امیر آدمی گھبرا گیا اور ملاح

سے پوچھا کوئی خطرہ تو نہیں ہے؟ ملاح نے جواب دیا۔ آپ بے

فکر رہیں کشتی بیمہ شدہ ہے اورمیں فن پیراکی میں مہارت

رکھتا ہوں۔

ایک شخص پہلی بار تقریر کرنے لگا۔ تقریر تحریر شدہ تھی۔ جب پہلا صفحہ ختم ہو

ایک شخص پہلی بار تقریر کرنے لگا۔ تقریر تحریر شدہ تھی۔ جب

پہلا صفحہ ختم ہو ا تو آخر ی الفاظ تھے ’’شیر جیسا بہادر

انسان‘‘ اس کے بعد غلطی سے ایک کی بجائے دو صفحے الٹ

گئے۔ اس شخص نے تقریر جاری رکھتے ہوئے کہا ’’انڈے سے

نکلتا ہے‘‘۔

امجد کے والد رپورٹ دیکھ کر بہت ناراض ہوئے اور بولے کتنی خراب رپورٹ ہے تمہا

امجد کے والد رپورٹ دیکھ کر بہت ناراض ہوئے اور بولے کتنی

خراب رپورٹ ہے تمہاری، تمہیں تو مارے شرم کے ڈوب مرنا

چاہیے اردو خراب، انگریزی خراب، حساب خراب . ہر چیز خراب ہے

حد ہو گئی۔
امجد : معصومیت سے نہیں ابو جان ! آگے پڑھئے لکھا ہے صحت

بہت اچھی ہے۔

ایک مرتبہ شوہر اور بیوی کا کسی بات پر

ایک مرتبہ شوہر اور بیوی کا کسی بات پر جھگڑا ہو گیا۔ شوہر بولا

خدا تیرا خانہ خراب کرے تو مجھے چین سے نہیں رہنے دیتی۔

بیوی پر تشویش اور ہمدرد انہ انداز میں جواب دیا۔ میرے سر تاج

خدا کے لیے ایسا نہ کہیں، خدا مجھے بیوہ ہی نہ کردے۔

ایک پہلوان نما آدمی نے ایک دبلے پتلے شخص کو تڑاخ سے تھپڑ مار دیا دبلا آدمی

ایک پہلوان نما آدمی نے ایک دبلے پتلے شخص کو تڑاخ سے

تھپڑ مار دیا دبلا آدمی بولا ایک منٹ ، ایک منٹ تم نے یہ تھپڑ

مذاق میں مارا ہے یا غصہ سے۔ پہلوان بولا۔ غصہ سے۔ ٹھیک ہے

ورنہ اس قسم کا مذاق مجھے بالکل پسند نہیں ہے۔دبلا آدمی

بولا۔